🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
316. ‏(‏83‏)‏ باب ذكر بيان إغفال من زعم أن الدعاء بما ليس فى القرآن غير جائز فى الصلاة المكتوبة،
ان لوگوں کی غفلت کے بیان کا ذکر جو گمان کرتے ہیں کہ فرض نماز میں قرآنی دعاؤں کے علاوہ دعائیں مانگنا جائز نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q464
وَهَذَا الْقَوْلُ خِلَافُ سُنَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّابِتَةِ، قَدْ دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوَّلِ صَلَاتِهِ وَوَسَطِهَا وَآخِرِهَا بِمَا لَيْسَ فِي الْقُرْآنِ‏.‏
اور یہ قول نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ثابت سنتوں کے مخالف ہے- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے شروع، اس کے درمیان اور نماز کے آخر میں قرآنی دعاؤں کے علاوہ دعائیں مانگی ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: Q464]
تخریج الحدیث:

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 464
نا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَبَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابَقٍ الْخَوْلانِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِي اللَّهُ تَعَالَى، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ، وَيَقُولُ حِينَ يَفْتَتِحُ الصَّلاةَ بَعْدَ التَّكْبِيرِ:" وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ:" وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ" . وَلَمْ يَذْكُرَا: وَاهْدِنِي لأَحْسَنِ الأَخْلاقِ لا يَهْدِي لأَحْسَنِهَا إِلا أَنْتَ، وَلا وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلا أَنْتَ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو «‏‏‏‏اللهُ أَكْبَرُ» ‏‏‏‏ کہتے اور «‏‏‏‏اللهُ أَكْبَرُ» ‏‏‏‏ کہنے کے بعد جب نماز شروع کرتے تو یہ دعا پڑھتے «‏‏‏‏وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي، وَنُسُكِي، وَمَحْيَايَ، وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللّٰهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْتَ رَبِّي، وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» ‏‏‏‏ میں نے اپنا چہرہ اس ذات کی طرف متوجہ کر دیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو یکسُو ہو کر پیدا فرمایا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ بلاشبہ میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا ﷲ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی بات کا حُکم دیا گیا ہے اور میں پہلا مسلمان ہوں۔ اے ﷲ، تُو ہی بادشاہ ہے، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے۔ تُو ہی میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے اور میں اپنے گناہوں کا اقرار و اعتراف کرتا ہوں لہٰذا تُو میرے تمام گناہ معاف فرما دے، بیشک تیرے سوا کوئی ذات گناہوں کو نہیں بخشتی اور مجھے عمدہ و بہترین اخلاق اپنانے کی توفیق عطا فرما، عمدہ اخلاق کی توفیق تُو ہی دیتا ہے، اور مجھے بُرے اخلاق سے پھیر دے، صرف تُو ہی بُرے اخلاق سے پھیر سکتا ہے، میں (احکام بجا لانے کے لئے) حاضر ہوں اور فرماں برداری کے لئے کمر بستہ ہوں، ساری خیر و بھلائی تیرے ہاتھوں میں ہے، اور بُرائی کی نسبت تیری طرف نہیں ہے، میں تیری توفیق سے قائم ہوں اور تیرے ہی طرف لوٹنا ہے، تُو بہت بابرکت ہے اور تیری ذات بڑی بلند ہے، میں تجھ سے معافی کا طلب گار ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں (توبہ کرتا ہوں)۔ پھر مکمل حدیث بیان کی اور فرمایا اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔ امام صاحب کے اساتذہ کرام جناب ربیع بن سلیمان اور بحر بن نصر) دونوں نے یہ الفاظ ذکر نہیں کیے اور مجھے بہترین اخلاق کی راہ دکھا، بہترین اخلاق کی راہنمائی تیرے سوا کوئی نہیں کرتا۔ اور نہ یہ الفاظ روایت کئے ہیں اور مجھے برے اخلاق سے پھیر دے، بر ے اخلاق کو تیرے سوا کوئی ذات نہیں پھیر سکتی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 464]
تخریج الحدیث: صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥عبيد الله بن أسلم المدني
Newعبيد الله بن أسلم المدني ← علي بن أبي طالب الهاشمي
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن هرمز الأعرج، أبو داود
Newعبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← عبيد الله بن أسلم المدني
ثقة ثبت عالم
👤←👥عبد الله بن الفضل البغدادي، أبو الحسن
Newعبد الله بن الفضل البغدادي ← عبد الرحمن بن هرمز الأعرج
ثقة
👤←👥موسى بن عقبة القرشي، أبو محمد
Newموسى بن عقبة القرشي ← عبد الله بن الفضل البغدادي
ثقة فقيه إمام في المغازي
👤←👥عبد الرحمن بن أبي الزناد القرشي، أبو محمد
Newعبد الرحمن بن أبي الزناد القرشي ← موسى بن عقبة القرشي
وكان فقيها، صدوق تغير حفظه لما قدم بغداد
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← عبد الرحمن بن أبي الزناد القرشي
ثقة حافظ
👤←👥بحر بن نصر الخولاني، أبو عبد الله
Newبحر بن نصر الخولاني ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
👤←👥الربيع بن سليمان المرادي، أبو محمد
Newالربيع بن سليمان المرادي ← بحر بن نصر الخولاني
ثقة