صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
572. (339) باب الرخصة فى تناول المصلي الشيء عند الحادثة تحدث
کسی حادثہ کے رونما ہونے پر نمازی کے لئے کوئی چیز پکڑنے کی رخصت ہے
حدیث نمبر: 891
نَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيِّ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، أَنَّهُ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، ثُمَّ بَسَطَ يَدَهُ كَأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا، فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلاةِ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْنَاكَ بَسَطْتَ يَدَكَ، قَالَ:" إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي، فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، فَلَمْ يَسْتَأْخِرْ ثَلاثًا، ثُمَّ أَرَدْتُ أَخْذَهُ، وَلَوْلا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلامُ، لأَصْبَحَ مُوثَقًا، يَلْعَبُ بِهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ"
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ بڑھایا گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی چیز پکڑ رہے ہوں، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہاتھ بڑھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تھا تاکہ اسے میرے چہرے پر ماردے تو میں نے کہا کہ میں تجھ سے ﷲ کی پناہ میں آتا ہوں، مگر وہ پیچھے نہ ہٹا، تین بار میں نے یہ دعا پڑھی۔ پھر میں نے اُسے پکڑنے کا ارادہ کر لیا۔ اور اگر ہمارے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح کے وقت بندھا ہوا ہوتا، اور اہل مدینہ کے بچّے اُس سے کھیلتے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأفعال المباحة فى الصلاة/حدیث: 891]
تخریج الحدیث: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
أبو إدريس الخولاني ← عويمر بن مالك الأنصاري