صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
572. (339) باب الرخصة فى تناول المصلي الشيء عند الحادثة تحدث
کسی حادثہ کے رونما ہونے پر نمازی کے لئے کوئی چیز پکڑنے کی رخصت ہے
حدیث نمبر: 892
نَا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابَقٍ الْخَوْلانِيُّ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الصُّبْحِ، قَالَ: فَبَيْنَمَا هُوَ فِي الصَّلاةِ مَدَّ يَدَهُ، ثُمَّ أَخَّرَهَا، فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلاةِ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَنَعْتَ فِي صَلاتِكَ هَذِهِ مَا لَمْ تَصْنَعْ فِي صَلاةٍ قَبْلَهَا، قَالَ:" إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ قَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ، وَرَأَيْتُ فِيهَا. قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ، حَبُّهَا كَالدُّبَّاءِ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَنَاوَلَ مِنْهَا، فَأُوحِيَ إِلَيْهَا أَنِ اسْتَأْخِرِي، فَاسْتَأْخَرَتْ، ثُمَّ عُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ، بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ حَتَّى رَأَيْتُ ظِلِّيَ وَظِلَّكُمْ، فَأَوْمَأْتُ إِلَيْكُمْ أَنِ اسْتَأْخَرُوا، فَأُوحِيَ إِلَيَّ أَنْ أَقِرَّهُمْ، فَإِنَّكَ أَسْلَمْتَ وَأَسْلَمُوا، وَهَاجَرْتَ وَهَاجَرُوا، وَجَاهَدْتَ وَجَاهَدُوا، فَلَمْ أَرَ لِي عَلَيْكُمْ فَضْلا إِلا بِالنُّبُوَّةِ"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز ادا کی، اس دوران کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ بڑھایا پھر پیچھے کر لیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز میں ایک ایسا کام کیا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے قبل کسی نماز میں نہیں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک میں نے جنّت دیکھی، وہ مجھے دکھائی گئی، میں نے اس میں دیکھا کہ اس کے پھل اور میوے قریب اور جُھکے ہوئے ہیں، اور اس کا دانہ کدو جیسا (موٹا تازہ) ہے، چنانچہ میں نے ان میووں میں سے لینا چاہا تو جنّت کو حُکم دیا گیا کہ پیچھے ہٹ جا تو وہ پیچھے ہٹ گئی - پھر مجھے جہنّم دکھائی گئی میرے اور تمہارے درمیان حتیٰ کہ میں نے اپنا سایہ اور تمھارا سایہ دیکھا، میں نے تمھاری طرف اشارہ کیا کہ پیچھے ہو جاؤ تو میری طرف وحی کی گئی کہ میں انہیں (صحابہ کو) ثابت قدم رکھوں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مسلمان ہیں اور وہ بھی اسلام قبول کر چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی اور انہوں نے بھی ہجرت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کیا تو انہوں نے بھی جہاد میں شرکت کی ہے، تو میں نے تم پر نبوت کے سوا اپنی کوئی فضیلت نہ پائی۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأفعال المباحة فى الصلاة/حدیث: 892]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 892، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 2136، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8502، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 5762»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 892 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 892
فوائد:
➊ دورانِ نماز بوقتِ حاجت کسی چیز کو پکڑنا یا ہٹانا جائز ہے اور اس عمل سے نماز باطل نہیں ہوتی۔
➋ جنات کا وجود ہے اور یہ انسانوں کو نقصان پہنچانے پر کمر بستہ رہتے ہیں۔ البتہ متقی مومن اور خالص موحدین ان کے شر سے محفوظ رہتے ہیں۔
➌ جنات کو قید کرنا خلافِ شریعت عمل ہے۔ اس سے اجتناب برتا جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سرکش جن کو اس لیے قابو نہ کیا کہ یا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے قابو پانے پر قادر نہ تھے یا سلیمان علیہ السلام کی تعظیم و ادب کی خاطر اسے قید نہ کیا۔ علت جو بھی ہو بہرحال جنات کو قابو کرنا اور ان سے کام لینا جائز نہیں ہے۔
➍ جنت اور جہنم مخلوق ہیں اور ان کا وجود ثابت ہے۔ یہ خیالیاتی چیزیں نہیں ہیں۔
➎ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ تھا، نیز جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سائے کے منکر ہیں وہ تخیلاتی دلائل کے گرویدہ اور اصل حقائق سے روگردانی کرتے اور من پسند دین کی آبیاری کے لیے جھوٹے اور خود ساختہ دلائل تراشتے ہیں۔
➊ دورانِ نماز بوقتِ حاجت کسی چیز کو پکڑنا یا ہٹانا جائز ہے اور اس عمل سے نماز باطل نہیں ہوتی۔
➋ جنات کا وجود ہے اور یہ انسانوں کو نقصان پہنچانے پر کمر بستہ رہتے ہیں۔ البتہ متقی مومن اور خالص موحدین ان کے شر سے محفوظ رہتے ہیں۔
➌ جنات کو قید کرنا خلافِ شریعت عمل ہے۔ اس سے اجتناب برتا جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سرکش جن کو اس لیے قابو نہ کیا کہ یا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے قابو پانے پر قادر نہ تھے یا سلیمان علیہ السلام کی تعظیم و ادب کی خاطر اسے قید نہ کیا۔ علت جو بھی ہو بہرحال جنات کو قابو کرنا اور ان سے کام لینا جائز نہیں ہے۔
➍ جنت اور جہنم مخلوق ہیں اور ان کا وجود ثابت ہے۔ یہ خیالیاتی چیزیں نہیں ہیں۔
➎ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ تھا، نیز جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سائے کے منکر ہیں وہ تخیلاتی دلائل کے گرویدہ اور اصل حقائق سے روگردانی کرتے اور من پسند دین کی آبیاری کے لیے جھوٹے اور خود ساختہ دلائل تراشتے ہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 892]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 892 in Urdu
زر بن حبيش الأسدي ← أنس بن مالك الأنصاري