المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
احکام اور فیصلوں کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 1011
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: وَقَدْ سَمِعْتُ مِنْ عُقْبَةَ أَيْضًا، قَالَ" تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَزَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْهُمَا، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ، فَقُلْتُ: إِنَّهَا كَاذِبَةٌ، قَالَ: فَأَعْرَضَ عَنِّي، ثُمَّ تَحَوَّلْتُ مِنَ الْجَانِبِ الآخَرِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّهَا كَاذِبَةٌ، قَالَ: " فَكَيْفَ يُصْنَعُ بِقَوْلِ هَذِهِ؟ دَعْهَا عَنْكَ" ، قَالَ مَعْمَرٌ: وَسَمِعْتُ أَيُّوبَ بْنَ مُوسَى، يَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَيْفَ بِكَ وَقَدْ قِيلَ؟.
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت سے شادی کی، کالے رنگ کی ایک عورت آکر کہنے لگی کہ اس نے ان دونوں کو دودھ پلایا ہے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا ذکر کیا اور عرض کی: وہ جھوٹی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے منہ موڑ لیا، میں نے دوسری طرف سے آکر عرض کی: اللہ کے رسول! وہ جھوٹی ہے، فرمایا: اس (عورت) کی بات کا کیا کیا جائے؟ اسے طلاق دے دیں۔ معمر کہتے ہیں: میں نے ایوب سے سنا ہے، وہ کہہ رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب یہ بات کہی جا چکی ہے، تو وہ آپ کے ساتھ کیسے رہ سکتی ہے؟ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1011]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5104»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
الرواة الحديث:
عبيد بن أبي مريم المكي ← عقبة بن الحارث القرشي