المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
اس بات کی دلیل کہ غنیمت صرف اسی کی ہے جو لڑائی میں حاضر ہوا
حدیث نمبر: 1088
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ ، أَنَّ عَنْبَسَةَ بْنَ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَانَ بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ عَلَى سَرِيَّةٍ مِنَ الْمَدِينَةِ قِبَلَ نَجْدٍ، فَقَدِمَ أَبَانُ وَأَصْحَابُهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ بَعْدَ أَنْ فَتَحَهَا، وَأَنَّ خُزُمَ خَيْلِهِمْ لَلِيفٌ، فَقَالَ أَبَانُ: اقْسِمْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَقُلْتُ: لا تَقْسِمْ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ أَبَانُ: أَنْتَ بِهَا يَا وَبْرُ تَحَدَّرَ مِنْ رَأْسِ ضَأْنٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اجْلِسْ يَا أَبَانُ، وَلَمْ يَقْسِمْ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ رُوِيَ أَنَّهُ أَعْطَى مِنْ خَيْبَرَ جَعْفَرَ وَأَصْحَابَهُ" .
سیدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے سیدنا ابان بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر کا امیر مقرر کر کے مدینہ سے نجد کی طرف بھیجا، ابان اور اس کے ساتھی فتح خیبر کے بعد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کے گھوڑوں کے تنگ کھجور کی چھال کے تھے، سیدنا ابان رضی اللہ عنہ کہنے لگے: الله کے رسول! ہمارا حصہ بھی تقسیم کر دیں، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کہتے ہیں: میں نے کہا: الله کے رسول! ان کا حصہ نہ نکالیں، سیدنا ابان رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے وبر! (بلی سے چھوٹا ایک جانور ہے) تم یہ بات کہتے ہو، حالانکہ تم ابھی ضان (پہاڑ) کی چوٹی سے اتر کر ہمارے پاس آئے ہو، تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ابان بیٹھ جائیے۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ان کے لیے کوئی حصہ نہیں نکالا۔ یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو خیبر (کی غنیمت) سے حصہ دیا تھا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1088]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: سنن سعيد بن منصور: 2793، سنن أبي داود: 2723، المعجم الأوسط للطبراني: 3242، السنن الكبرى للبيهقي: 6/334، اسماعیل بن عیاش نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے، نیز ان کی متابعت بھی موجود ہے، امام بخاری رحمہ اللہ (4238) نے اسے صیغہ تمریض کے ساتھ معلق ذکر کیا ہے، علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ (نخب الافکار: 12/333) نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥عنبسة بن سعيد الأموي، أبو خالد، أبو أيوب عنبسة بن سعيد الأموي ← أبو هريرة الدوسي | ثقة | |
👤←👥محمد بن الوليد الزبيدي، أبو الهذيل محمد بن الوليد الزبيدي ← عنبسة بن سعيد الأموي | ثقة ثبت | |
👤←👥إسماعيل بن عياش العنسي، أبو عتبة إسماعيل بن عياش العنسي ← محمد بن الوليد الزبيدي | صدوق في روايته عن أهل بلده وخلط في غيرهم | |
👤←👥سعيد بن منصور الخراساني، أبو عثمان سعيد بن منصور الخراساني ← إسماعيل بن عياش العنسي | ثقة | |
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله محمد بن يحيى الذهلي ← سعيد بن منصور الخراساني | ثقة حافظ جليل |
Al-Muntaqa Ibn al-Jarud Hadith 1088 in Urdu
عنبسة بن سعيد الأموي ← أبو هريرة الدوسي