🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
روزوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 377
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: ثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، قَالَ: بُعِثْتُ إِلَى عَائِشَةَ أَسْأَلُهَا عَنْ صِيَامِ رَمَضَانَ إِذَا خَفِيَ الْهِلالُ، وَعَنِ الصَّلاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْتُ: إِنَّ فُلانًا يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلامَ، بَعَثَنِي إِلَيْكِ أَسْأَلُكُ عَنِ الصَّلاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَعَنِ الْوِصَالِ، وَعَنِ الصِّيَامِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ، قَالَ: قَالَتْ:" وَكَانَ يَتَحَفَّظُ مِنْ شَعْبَانَ مَا لا يَتَحَفَّظُ مِنْ غَيْرِهِ، ثُمَّ يَصُومُ لِرُؤْيَةِ رَمَضَانَ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْهِ عَدَّ ثَلاثِينَ ثُمَّ صَامَ" تَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں کہ مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا گیا تاکہ میں ان سے رمضان کے چاند کے چھپ جانے کی صورت میں روزہ رکھنے، عصر کے بعد نفل نماز، اور وصال کے بارے میں پوچھوں۔ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: فلاں آپ کو سلام پیش کرتا ہے اور مجھے آپ سے عصر کے بعد نفل نماز، وصال، اور رمضان کے روزوں کے بارے میں پوچھنے کے لیے بھیجا ہے۔ انہوں نے حدیث کا کچھ حصہ بیان کیا اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے ایام کی دیگر مہینوں کے مقابلے میں زیادہ احتیاط کرتے تھے، پھر رمضان کا چاند دیکھ کر روزہ رکھتے۔ اگر چاند نظر نہ آتا تو شعبان کے تیس دن شمار کرتے، پھر روزہ رکھتے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصيام/حدیث: 377]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 149/6، سنن أبي داود: 2325، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1910) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (3444) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (423/1) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ (سنن الدارقطنی: 157/2) نے اس کی سند کو حسن صحیح قرار دیا ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عبد الله بن عفيف النصري، أبو الأسود
Newعبد الله بن عفيف النصري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥معاوية بن صالح الحضرمي، أبو حمزة، أبو عبد الرحمن، أبو عمرو
Newمعاوية بن صالح الحضرمي ← عبد الله بن عفيف النصري
صدوق له أوهام
👤←👥أسد بن موسى الأموي، أبو سعيد
Newأسد بن موسى الأموي ← معاوية بن صالح الحضرمي
ثقة
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← أسد بن موسى الأموي
ثقة حافظ جليل