المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1. باب الصيام
روزوں کا بیان
حدیث نمبر: 374
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالا: ثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَنِي أَبُو جَمْرَةَ ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُقْعِدُنِي عَلَى سَرِيرِهِ، قَالَ: إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنِ الْقَوْمُ أَوْ مَنِ الْوَفْدُ؟ قَالُوا: مِنْ رَبِيعَةَ، قَالَ: فَمَرْحَبًا بِالْوَفْدِ أَوْ بِالْقَوْمِ غَيْرَ خَزَايَا وَلا نَادِمِينَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لا نَسْتَطِيعُ إِتْيَانَكَ إِلا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، وَإِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ، فَأَخْبِرْنَا بِأَمْرٍ فَصْلٍ نُخْبِرْ بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا وَنَدْخُلْ بِهِ الْجَنَّةَ، قَالَ: وَسَأَلُوهُ عَنِ الأَشْرِبَةِ، قَالَ:" فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: قَالَ: أَمَرَهُمْ بِالإِيمَانِ بِاللَّهِ وَحْدَهُ، قَالَ: تَدْرُونَ مَا الإِيمَانِ بِاللَّهِ وَحْدَهُ؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: شَهَادَةُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامُ الصَّلاةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَصِيَامُ رَمَضَانَ، وَأَنْ تُعْطُوا مِنَ الْمَغْنَمِ الْخُمْسَ، وَنَهَاهُمْ عَنِ الْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ، وَرُبَّمَا قَالَ: وَالْمُقَيَّرِ وَالْمُزَفَّتِ، وَقَالَ: احْفَظُوهُنَّ وَأَخْبِرُوا بِهِ مَنْ وَرَاءَكُمْ" .
ابو جمرہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مجھے اپنی چارپائی پر بٹھایا کرتے تھے۔ انہوں نے فرمایا: جب قبیلہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں یا کون سا وفد ہے؟ انہوں نے کہا: ہم ربیعہ کے لوگ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وفد یا قوم کو مرحبا، نہ ذلیل ہونے والے اور نہ شرمندہ ہونے والے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آپ کی خدمت میں حرمت والے مہینوں کے علاوہ نہیں آ سکتے کیونکہ ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کافروں کا قبیلہ ہے۔ ہمیں کوئی قطعی بات بتائیں جسے ہم اپنے پیچھے والوں کو بتائیں اور اس پر عمل کر کے جنت میں داخل ہوں۔ انہوں نے مشروبات کے بارے میں بھی پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چار باتوں کا حکم دیا اور چار چیزوں سے منع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیا اور پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر ایمان لانا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکاة ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، اور غنیمت میں سے خمس (پانچواں حصہ) دینا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سبز لاکھی مرتبان، کدو کے برتن، کھوکھلی لکڑی کے برتن، اور روغنی برتن کے استعمال سے منع کیا اور فرمایا: ان باتوں کو یاد رکھو اور اپنے پیچھے والوں کو بتاؤ۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 374]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 53، صحیح مسلم: 17»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 375
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالا: ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ حُنَيْنٍ ، يَقُولُ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُنْكِرُ أَنْ يَتَقَدَّمَ فِي صِيَامِ رَمَضَانَ إِذَا لَمْ يُرَ هِلالُ شَهْرِ رَمَضَانَ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا لَمْ تَرَوُوا الْهِلالَ فَاسْتَكْمِلُوا ثَلاثِينَ لَيْلَةً" .
محمد بن حنین کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ رمضان کا چاند دکھائی دینے سے پہلے کوئی روزہ رکھے۔ وہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر چاند نظر نہ آئے تو تیس راتیں پوری کر لو۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 375]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف والحديث صحيح له شواهد: مسند الإمام أحمد: 367/1، سنن النسائي: 2127، محمد بن حنین مجہول الحال ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف والحديث صحيح له شواهد
حدیث نمبر: 376
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، شَكَّ شُعْبَةُ: " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلاثِينَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (شعبہ کو شک ہے): چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر روزہ افطار کرو، اگر مطلع ابر آلود ہو تو تیس دن گن لو۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 376]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 1909، صحیح مسلم: 1081»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 377
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: ثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، قَالَ: بُعِثْتُ إِلَى عَائِشَةَ أَسْأَلُهَا عَنْ صِيَامِ رَمَضَانَ إِذَا خَفِيَ الْهِلالُ، وَعَنِ الصَّلاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْتُ: إِنَّ فُلانًا يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلامَ، بَعَثَنِي إِلَيْكِ أَسْأَلُكُ عَنِ الصَّلاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَعَنِ الْوِصَالِ، وَعَنِ الصِّيَامِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ، قَالَ: قَالَتْ:" وَكَانَ يَتَحَفَّظُ مِنْ شَعْبَانَ مَا لا يَتَحَفَّظُ مِنْ غَيْرِهِ، ثُمَّ يَصُومُ لِرُؤْيَةِ رَمَضَانَ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْهِ عَدَّ ثَلاثِينَ ثُمَّ صَامَ" تَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں کہ مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا گیا تاکہ میں ان سے رمضان کے چاند کے چھپ جانے کی صورت میں روزہ رکھنے، عصر کے بعد نفل نماز، اور وصال کے بارے میں پوچھوں۔ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: فلاں آپ کو سلام پیش کرتا ہے اور مجھے آپ سے عصر کے بعد نفل نماز، وصال، اور رمضان کے روزوں کے بارے میں پوچھنے کے لیے بھیجا ہے۔ انہوں نے حدیث کا کچھ حصہ بیان کیا اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے ایام کی دیگر مہینوں کے مقابلے میں زیادہ احتیاط کرتے تھے، پھر رمضان کا چاند دیکھ کر روزہ رکھتے۔ اگر چاند نظر نہ آتا تو شعبان کے تیس دن شمار کرتے، پھر روزہ رکھتے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 377]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 149/6، سنن أبي داود: 2325، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1910) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (3444) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (423/1) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ (سنن الدارقطنی: 157/2) نے اس کی سند کو حسن صحیح قرار دیا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 378
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلا لا تَقَدَّمُوا شَهْرَ رَمَضَانَ بِصِيَامِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ إِلا رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمًا فَلْيَصُمْهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھو، سوائے اس شخص کے جو معمول کے مطابق روزہ رکھتا ہو، وہ اسے رکھ لے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 378]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 1914، صحیح مسلم: 1082»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 379
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ: ثَنَا الْفَضْلُ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ الْهِلالَ، فَقَالَ: " أَتَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: يَا بِلال، نَادِ فِي النَّاسِ، فَلْيَصُمُوا غَدًا" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: میں نے چاند دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کیا کہ روزہ رکھو۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 379]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: سنن أبي داود: 2340، سنن النسائي: 2115، سنن الترمذي: 691، سنن ابن ماجه: 1652، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1923) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (3446) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (297/1) فرماتے ہیں: ہذا حدیث صحیح الاسناد متداول بین الفقہاء، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ سماک بن حرب کی عکرمہ سے بیان کردہ روایت ضعیف اور مضطرب ہوتی ہے (تقریب التہذیب: 2624)۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 380
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الذُّهْلِيُّ ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" جَاءَ أَعْرَابِيُّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ الْهِلالَ، فَقَالَ: " أَتَشْهَدُ أَنَّ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: يَا بِلالُ نَادِ فِي النَّاسِ فَلْيَصُومُوا غَدًا" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: میں نے چاند دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بلال! لوگوں میں اعلان کر دو کہ کل روزہ رکھیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 380]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: انظر الحديث السابق.»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 381
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، قَالَ: ثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " رُخِّصَ لِلشَّيْخِ الْكَبِيرِ وَالْعَجُوزِ الْكَبِيرَةِ فِي ذَلِكَ وَهُمَا يُطِيقَانِ الصَّوْمَ أَنْ يُفْطِرَا إِنْ شَاءَا أَوْ يُطْعِمَا كُلَّ يَوْمٍ مِسْكِينًا وَلا قَضَاءَ عَلَيْهِمَا، ثُمَّ نُسِخَ ذَلِكَ فِي هَذِهِ الآيَةِ: فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ سورة البقرة آية 185، وَثَبَتَ لِلشَّيْخِ الْكَبِيرِ وَالْعَجُوزِ الْكَبِيرَةِ إِذَا كَانَا لا يُطِيقَانِ الصَّوْمَ، وَالْحُبْلَى وَالْمُرْضِعِ إِذَا خَافَتَا أَفْطَرَتَا وَأَطْعَمَتَا كُلَّ يَوْمٍ مِسْكِينًا" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بوڑھے مرد اور بوڑھی عورت کو، جو روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے تھے، اجازت دی گئی تھی کہ اگر وہ چاہیں تو روزہ نہ رکھیں اور ہر روز کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائیں، اور ان پر قضا لازم نہ ہو۔ پھر یہ حکم آیت ﴿فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾ (البقرة: 185) سے منسوخ ہو گیا۔ اب یہ اجازت صرف ان بوڑھے مرد اور عورت کے لیے ہے جو روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں، اور حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کے لیے اگر انہیں اپنے بچے کا خطرہ ہو، تو وہ روزہ نہ رکھیں اور ہر روز ایک مسکین کو کھانا کھلائیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 381]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: سنن أبي داود: 2318، السنن الكبرى للبيهقي: 230/4، قتادہ مدلس ہیں جو کہ لفظ "عن" سے بیان کر رہے ہیں، سماع کی تصریح نہیں مل سکی۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 382
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا يَمْنَعُكُمْ أَذَانُ بِلالٍ مِنْ سُحُورِكُمْ، فَإِنَّ بِلالا يُؤَذِّنُ لِيُوقِظَ نَائِمَكُمْ وَلِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ، وَلَيْسَ مَا يَكُونُ هَكَذَا وَلا هَكَذَا حَتَّى يَكُونَ هَكَذَا وَهَكَذَا يَعْنِي الْفَجْرَ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال رضی اللہ عنہ کی اذان تمہیں سحری کھانے سے نہ روکے، کیونکہ بلال رضی اللہ عنہ اذان اس لیے دیتے ہیں تاکہ سوئے ہوئے کو جگائیں اور قیام کرنے والا واپس آ جائے۔ فجر وہ نہیں جو اوپر سے نیچے ہو، بلکہ وہ ہے جو دائیں بائیں پھیلتی ہو۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 382]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 621، صحیح مسلم: 1093»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 383
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَحْرٍ الْقَرَاطِيسِيُّ ، قَالَ: ثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 383]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 1923، صحیح مسلم: 1095»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح