🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
سود کے متعلق جو مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 653
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أنا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَبِيعُ الصَّاعَيْنِ بِالصَّاعِ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لا صَاعَا تَمْرٍ بِصَاعٍ، وَلا دِرْهَمَانِ بِدِرْهَمٍ" .
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہمیں کھانے کے لیے گھٹیا کھجور دی جاتی تھی، تو ہم دو صاع دے کر (اچھی کھجور کا) ایک صاع لے لیا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی، تو فرمایا: ایک صاع کے بدلے دو صاع (دینا) جائز نہیں، نہ ہی ایک درہم کے بدلے دو درہم جائز ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 653]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2080، صحيح مسلم: 1595»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو سعيد الخدري
ثقة إمام مكثر
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥هشام بن أبي عبد الله الدستوائي، أبو بكر
Newهشام بن أبي عبد الله الدستوائي ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة ثبت وقد رمي بالقدر
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← هشام بن أبي عبد الله الدستوائي
ثقة متقن
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← يزيد بن هارون الواسطي
ثقة حافظ جليل
Al-Muntaqa Ibn al-Jarud Hadith 653 in Urdu