علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
نکاح کا بیان
حدیث نمبر: 718
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، ح وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَالْحَدِيثُ لَهُ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أنا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا وَلَمْ يَمَسَّهَا حَتَّى مَاتَ، قَالَ: فَرَدَّهُمْ، ثُمَّ قَالَ: أَقُولُ فِيهَا بِرَأْيِي، فَإِنْ كَانَ صَوَابًا فَمِنَ اللَّهِ، وَإِنْ كَانَ خَطَأً فَمِنِّي، أَرَى " لَهَا صَدَاقَ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهَا لا وَكْسَ وَلا شَطَطَ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ" قَالَ: فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الأَشْجَعِيُّ، فَقَالَ: أَشْهَدُ لَقَضَيْتَ فِيهَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بِرْوَعَ ابْنَةِ وَاشِقٍ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي رَوَّاسٍ ، وَبَنُو رَوَّاسٍ حَيُّ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے متعلق پوچھا گیا، جس نے کسی عورت سے شادی کی، نہ تو اس کا مہر مقرر کیا اور نہ ہی اس سے مباشرت کی اور فوت ہو گیا۔ علقمہ کہتے ہیں: آپ نے ان کو واپس کر دیا، پھر کہنے لگے: میں اس بارے میں اپنی رائے ہی پیش کرتا ہوں۔ اگر درست ہوئی، تو اللہ کی طرف سے ہوگی اور اگر غلط ہوئی، تو میری طرف سے ہوگی۔ میری رائے تو یہ ہے کہ اسے اس جیسی (دیگر) خواتین کے برابر مہر ملے گا، نہ کم ہوگا، نہ زیادہ۔ وہ میراث کی حقدار بھی ہوگی اور اس پر عدت بھی ضروری ہے۔ سیدنا معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے وہی فیصلہ کیا ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو رواس کی خاتون بروع بنت واشق کے بارے میں کیا تھا۔ بنو رواس، بنو عامر بن صعصعہ کا ایک خاندان ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 718]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح: مسند الإمام أحمد: 480/3، سنن أبي داود: 2115، سنن النسائي: 3359، سنن الترمذي: 1145، سنن ابن ماجه: 1891، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابن حبان رحمہ اللہ (4099) نے صحیح کہا ہے، سند میں ابراہیم نخعی مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔ سنن نسائی (3360) میں حسن سند کے ساتھ اس کا شاہد موجود ہے، اسے امام ابن حبان رحمہ اللہ (4101) نے صحیح اور امام حاکم رحمہ اللہ (180/2) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
الرواة الحديث:
Al-Muntaqa Ibn al-Jarud Hadith 718 in Urdu
علقمة بن قيس النخعي ← عبد الله بن مسعود