الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
ذبیحوں (ذبح کیے گئے جانوروں) کا بیان
حدیث نمبر: 895
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أنا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ مِنْ تِهَامَةَ، فَأَصَابَ الْقَوْمُ غَنَمًا وَإِبِلا، فَعَجَّلُوا بِهَا، فَأَغْلَوْا بِهَا الْقُدُورَ، فَانْتَهَى إِلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِالْقُدُورِ فَأُكْفِئَتْ، وَعَدَلَ عَشْرًا مِنَ الْغَنَمِ بِجَزُورٍ، قَالَ: وَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ، فَرَمَاهُ الرَّجُلُ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهَا هَكَذَا" . قَالَ: قَالَ: ثُمَّ إِنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ أَتَاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَخَافُ، أَوْ إِنَّا نَرْجُوا أَنْ نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى، أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَنْهَرَ الدَّمَ، وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَكُلُوا لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ، فَأَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ"، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ نَاضِحًا تَرَدَّى فِي بِئْرٍ بِالْمَدِينَةِ فَذُكِّيَ مِنْ قِبَلِ شَاكِلَتِهِ يَعْنِي خَاصِرَتَهُ" فَأَخَذَ مِنْهُ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَشِيرًا بِدِرْهَمَيْنِ .
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذوالحلیفہ کے نچلے حصے میں (ٹھہرے ہوئے) تھے، لوگوں نے (غنیمت میں) اونٹ اور بکریاں حاصل کیں اور جلد بازی کرتے ہوئے (تقسیم سے پہلے ہی ذبح کر کے) انہیں ہانڈیوں میں پکانے لگے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور ہانڈیوں کو الٹنے کا حکم دیا، آپ نے دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر رکھا۔ راوی کہتے ہیں: ان میں سے ایک اونٹ بھاگ گیا، تو ایک آدمی نے تیر مار کر اسے روک لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان جانوروں میں بھی جنگلی جانوروں کی طرح سرکشی ہوتی ہے، اگر ان میں سے کوئی آپ کو عاجز کر دے، تو اس کے ساتھ یہی سلوک کریں، پھر رافع بن خدیج آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگے: اللہ کے رسول! ہمیں خطرہ ہے، یا ہمیں امید ہے کہ کل (یعنی مستقبل قریب میں) ہمارا مقابلہ دشمن سے ہوگا، ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، کیا ہم بانس کی کچھی سے ذبح کر سکتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دانت اور ناخن کے علاوہ جو چیز بھی خون بہا دے اور ذبیحہ پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو، تو اسے کھالیں، میں تمہیں (اس کی وجہ) بتاتا ہوں کہ دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔ پھر انہوں (رافع) نے کہا: ایک اونٹ مدینہ کے کنویں میں گر گیا، تو اسے کمر کی جانب سے ذبح کیا گیا، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کا دسواں حصہ دو درہم میں لے لیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 895]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2507، صحيح مسلم: 1968۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
الرواة الحديث:
رافع بن خديج الأنصاري ← رافع بن خديج الأنصاري