🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
59. باب صفة السهو فى الصلاة وأحكامه واختلاف الروايات فى ذلك وأنه لا يقطع الصلاة شيء يمر بين يديه
باب: نماز کے دوران سہو کی صورت میں اور اس کے احکام، اس بارے میں منقول روایات میں اختلاف کسی بھی چیز کے آگے سے گزرنے کی وجہ سے نماز نہیں ٹوٹتی۔
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1362 ترقیم الرسالہ : -- 1378
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلاتِي الْعَشِيِّ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ، قَالَ: فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى خَشَبَةٍ فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَيْهَا إِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ، ثُمَّ خَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ وَهُمْ يَقُولُونَ: قُصِرَتِ الصَّلاةُ قُصِرَتِ الصَّلاةُ، وَفِي النَّاسِ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ، فَقَامَ رَجُلٌ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَمِّيهِ: ذَا الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَسِيتَ أَمْ قُصِرَتِ الصَّلاةُ، فَقَالَ: " لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرِ الصَّلاةُ"، قَالَ: بَلْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ:" أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟"، فَأَوْمَئُوا، أَيْ نَعَمْ، فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَقَامِهِ فَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ الْبَاقِيَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مثل سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ وَكَبَّرَ . فَقِيلَ لِمُحَمَّدٍ: ثُمَّ سَلَّمَ فِي السَّهْوِ، قَالَ: لَمْ أَحْفَظْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَلَكِنْ نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، قَالَ:" ثُمَّ سَلَّمَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر یا شاید عصر کی نماز پڑھائی، راوی بیان کرتے ہیں: آپ نے دو رکعت پڑھانے کے بعد سلام پھیر دیا، پھر آپ مسجد کے اگلے حصے میں موجود لکڑی کے پاس کھڑے ہوئے، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اس پر رکھ دیے، آپ نے ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کے اوپر رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے ناراضگی کا اظہار ہو رہا تھا، جلد باز لوگ مسجد سے باہر چلے گئے، وہ یہ کہہ رہے تھے: نماز مختصر ہو گئی ہے، نماز مختصر ہو گئی ہے، حاضرین میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے، لیکن انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرنے کی جرات نہیں ہوئی، ایک شخص کھڑا ہوا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ذوالیدین (دو ہاتھوں والا) کا نام دیا تھا، اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ بھول گئے تھے یا نماز مختصر ہو گئی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہ تو میں بھولا ہوں اور نہ ہی نماز مختصر ہوئی ہے۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! شاید آپ بھول گئے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاضرین کی طرف دیکھا اور دریافت کیا: کیا ذوالیدین ٹھیک کہہ رہا ہے؟ تو لوگوں نے اشارہ کیا: جی ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس اپنی جگہ تشریف لائے اور آپ نے بقیہ دو رکعت پڑھانے کے بعد پھر سلام پھیرا، پھر آپ نے تکبیر کہتے ہوئے عام سجدوں کی طرح یا اس سے کچھ زیادہ طویل سجدہ کیا، پھر آپ نے سر اٹھایا اور تکبیر کہی۔ محمد نامی راوی سے دریافت کیا گیا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سہو کرنے سے پہلے سلام پھیرا تھا؟ تو انہوں نے جواب دیا: مجھے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ الفاظ یاد نہیں ہیں، البتہ مجھے یہ بات بتائی گئی ہے: سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے یہ بات نقل کی ہے: پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1378]
ترقیم العلمیہ: 1362
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 482، 714، 715، 1227، 1228، 1229، 6051، 7250، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 573، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 309، 310، 311، 312، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 860، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2249، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1223، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1008، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 394، 399، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1537، 1538، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1214، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1378، 1379، 1394، 1395، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1013، 1014، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 293، 310، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 5046»

الحكم على الحديث: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر
Newمحمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← محمد بن سيرين الأنصاري
ثقة ثبتت حجة
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← أيوب السختياني
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥محمد بن عبيد الغبري
Newمحمد بن عبيد الغبري ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة
👤←👥أبو داود السجستاني، أبو داود
Newأبو داود السجستاني ← محمد بن عبيد الغبري
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن يحيى السلمي، أبو جعفر
Newمحمد بن يحيى السلمي ← أبو داود السجستاني
ثقة