🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

59. بَابُ صِفَةِ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَأَحْكَامِهِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِي ذَلِكَ وَأَنَّهُ لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْءٌ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ
باب: نماز کے دوران سہو کی صورت میں اور اس کے احکام، اس بارے میں منقول روایات میں اختلاف کسی بھی چیز کے آگے سے گزرنے کی وجہ سے نماز نہیں ٹوٹتی۔
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1362 ترقیم الرسالہ : -- 1378
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلاتِي الْعَشِيِّ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ، قَالَ: فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى خَشَبَةٍ فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَيْهَا إِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ، ثُمَّ خَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ وَهُمْ يَقُولُونَ: قُصِرَتِ الصَّلاةُ قُصِرَتِ الصَّلاةُ، وَفِي النَّاسِ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ، فَقَامَ رَجُلٌ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَمِّيهِ: ذَا الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَسِيتَ أَمْ قُصِرَتِ الصَّلاةُ، فَقَالَ: " لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرِ الصَّلاةُ"، قَالَ: بَلْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ:" أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟"، فَأَوْمَئُوا، أَيْ نَعَمْ، فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَقَامِهِ فَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ الْبَاقِيَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مثل سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ وَكَبَّرَ . فَقِيلَ لِمُحَمَّدٍ: ثُمَّ سَلَّمَ فِي السَّهْوِ، قَالَ: لَمْ أَحْفَظْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَلَكِنْ نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، قَالَ:" ثُمَّ سَلَّمَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر یا شاید عصر کی نماز پڑھائی، راوی بیان کرتے ہیں: آپ نے دو رکعت پڑھانے کے بعد سلام پھیر دیا، پھر آپ مسجد کے اگلے حصے میں موجود لکڑی کے پاس کھڑے ہوئے، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اس پر رکھ دیے، آپ نے ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کے اوپر رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے ناراضگی کا اظہار ہو رہا تھا، جلد باز لوگ مسجد سے باہر چلے گئے، وہ یہ کہہ رہے تھے: نماز مختصر ہو گئی ہے، نماز مختصر ہو گئی ہے، حاضرین میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے، لیکن انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرنے کی جرات نہیں ہوئی، ایک شخص کھڑا ہوا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ذوالیدین (دو ہاتھوں والا) کا نام دیا تھا، اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ بھول گئے تھے یا نماز مختصر ہو گئی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہ تو میں بھولا ہوں اور نہ ہی نماز مختصر ہوئی ہے۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! شاید آپ بھول گئے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاضرین کی طرف دیکھا اور دریافت کیا: کیا ذوالیدین ٹھیک کہہ رہا ہے؟ تو لوگوں نے اشارہ کیا: جی ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس اپنی جگہ تشریف لائے اور آپ نے بقیہ دو رکعت پڑھانے کے بعد پھر سلام پھیرا، پھر آپ نے تکبیر کہتے ہوئے عام سجدوں کی طرح یا اس سے کچھ زیادہ طویل سجدہ کیا، پھر آپ نے سر اٹھایا اور تکبیر کہی۔ محمد نامی راوی سے دریافت کیا گیا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سہو کرنے سے پہلے سلام پھیرا تھا؟ تو انہوں نے جواب دیا: مجھے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ الفاظ یاد نہیں ہیں، البتہ مجھے یہ بات بتائی گئی ہے: سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے یہ بات نقل کی ہے: پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1378]
ترقیم العلمیہ: 1362
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 482، 714، 715، 1227، 1228، 1229، 6051، 7250، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 573، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 309، 310، 311، 312، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 860، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2249، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1223، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1008، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 394، 399، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1537، 1538، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1214، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1378، 1379، 1394، 1395، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1013، 1014، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 293، 310، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 5046»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1363 ترقیم الرسالہ : -- 1379
حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، ثنا أَيُّوبُ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكُلُّ مَنْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ، لَمْ يَقُلْ" فَأَوْمَئُوا"، إِلا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ.
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں: تو لوگوں نے اشارہ کیا، یہ الفاظ صرف حماد بن زید نامی راوی نے نقل کیے ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1379]
ترقیم العلمیہ: 1363
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 482، 714، 715، 1227، 1228، 1229، 6051، 7250، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 573، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 309، 310، 311، 312، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 860، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2249، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1223، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1008، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 394، 399، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1537، 1538، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1214، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1378، 1379، 1394، 1395، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1013، 1014، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 293، 310، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 5046»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1364 ترقیم الرسالہ : -- 1380
حَدَّثَنَا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْطَاكِيُّ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِذٍ الْخَوْلانِيُّ ، نا إِدْرِيسُ بْنُ يَحْيَى أَبُو عَمْرٍو الْمَعْرُوفُ بِالْخَوْلانِيِّ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ ، عَنْ صَخْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، يَقُولُ: عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِالنَّاسِ فَمَرَّ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حِمَارٌ، فَقَالَ عَيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنِ الْمُسَبِّحُ آنِفًا سُبْحَانَ اللَّهِ؟"، قَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي سَمِعْتُ أَنَّ الْحِمَارَ يَقْطَعُ الصَّلاةَ، قَالَ:" لا يَقْطَعُ الصَّلاةَ شَيْءٌ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، آپ کے سامنے سے کچھ گدھے گزرے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کرنے والوں میں عیاش بن ابوربیعہ نے سبحان اللہ کہنا شروع کر دیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، تو ارشاد فرمایا: ابھی کون سبحان اللہ کہہ رہا تھا؟ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے کہا ہے، کیونکہ میں نے یہ بات سن رکھی ہے کہ گدھا آگے سے گزرے، تو نماز ٹوٹ جاتی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی چیز (آگے سے گزرے) نماز کو نہیں توڑتی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1380]
ترقیم العلمیہ: 1364
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3560، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1380، وقال ابن حجر: فى إسناد كل منهما ضعف، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: 275/1»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1365 ترقیم الرسالہ : -- 1381
حَدَّثَنَا الْقَاضِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْبُهْلُولِ ، نا أَبِي . ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ الْبُهْلُولِ ، ثنا جَدِّي . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْبُهْلُولِ ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ ، ثنا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، قَالُوا:" لا يَقْطَعُ صَلاةَ الْمُسْلِمِ شَيْءٌ، وَادْرَأْ مَا اسْتَطَعْتَ" .
سالم بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: مسلمان کی نماز کو کوئی بھی چیز نہیں توڑتی، البتہ جہاں تک ہو سکے، تم اسے روکنے کی کوشش کرو (کہ وہ نماز کے دوران تمہارے آگے سے نہ گزرے)۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1381]
ترقیم العلمیہ: 1365
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 534، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3561، 3567، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1381، 1384، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 2366، 2368، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 2902، 2903، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 2664، 2665، 2666»
«قال ابن حجر: إسنادها ضعيف، (فيه إبراهيم بن يزيد الخوزي وهو ضعيف) تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (1 / 275)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1366 ترقیم الرسالہ : -- 1382
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلٍ ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ ، ثنا مُجَالِدٌ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لا يَقْطَعُ الصَّلاةَ شَيْءٌ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: کوئی چیز نماز کو نہیں توڑتی (یعنی آگے سے گزر کر نماز کو نہیں توڑتی)۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1382]
ترقیم العلمیہ: 1366
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 509، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 505، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 525، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 816، 817، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2367، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 697، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 954، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1382، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 11250»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1367 ترقیم الرسالہ : -- 1383
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ الصُّغْدِيُّ ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ ، ثنا عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لا يَقْطَعُ الصَّلاةَ شَيْءٌ" .
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: کوئی بھی چیز نماز کو نہیں توڑتی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1383]
ترقیم العلمیہ: 1367
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1383، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 7688، وقال ابن حجر: فى إسناد كل منهما ضعف، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: 275/1»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1368 ترقیم الرسالہ : -- 1384
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، وَآخَرُونَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الأَشْيَبُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سَالِمٍ، وَنَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كَانَ يُقَالُ لا يَقْطَعُ صَلاةَ الْمُسْلِمِ شَيْءٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں: یہ بات کہی جاتی ہے: مسلمان کی نماز کو کوئی بھی چیز نہیں توڑتی (یعنی کسی بھی چیز کے آگے سے گزرنے کی وجہ سے نماز نہیں ٹوٹتی)۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1384]
ترقیم العلمیہ: 1368
تخریج الحدیث: «موقوف، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 534، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3561، 3567، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1381، 1384، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 2366»
«قال الدارقطني: والصحيح عن ابن عمر موقوفا، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (142/13)»

الحكم على الحديث: موقوف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1369 ترقیم الرسالہ : -- 1385
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَارِسِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ ، ثنا أبِي ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا تَقْطَعُ صَلاةَ الْمَرْءِ امْرَأَةٌ وَلا كَلْبٌ وَلا حِمَارٌ، وَادْرَأْ مِنْ بَيْنَ يَدَيْكَ مَا اسْتَطَعْتَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: آدمی کی نماز کو کتا، عورت، گدھا (آگے سے گزر کر) نہیں توڑتے، البتہ جہاں تک تم سے ہو سکے، انہیں اپنے آگے سے گزرنے سے روکو۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1385]
ترقیم العلمیہ: 1369
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1385، وله شاهد من حديث على بن أبى طالب أخرجه الطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 2668»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1370 ترقیم الرسالہ : -- 1386
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، حَدَّثَنِي جَابِرٌ ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" زَارَ الْعَبَّاسَ فِي بَادِيَةٍ لَهُ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ وَبَيْنَ يَدَيْهِ كُلَيْبَةٌ وَحِمَارٌ لَمْ يُؤَخَّرَا وَلَمْ يُزْجَرَا" .
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لیے ان کے نواحی علاقے میں ان کے پاس آئے، وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز ادا کی، آپ کے آگے سے چھوٹا کتا اور گدھا گزرے، لیکن انہیں پرے نہیں کیا گیا اور انہیں جھڑکا نہیں گیا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1386]
ترقیم العلمیہ: 1370
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 752، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 831، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 718، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3562، 3563، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1386، 1387، 1388، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1822»
«قال ابن حزم: هذا باطل والعباس بن عبيد الله لم يدرك عمه الفضل، تحفة التحصيل في المراسيل: (1 / 229) _x000D_»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1371 ترقیم الرسالہ : -- 1387
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لیے آئے (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1387]
ترقیم العلمیہ: 1371
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 752، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 831، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 718، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3562، 3563، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1386، 1387، 1388، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1822»
«قال ابن حزم: هذا باطل والعباس بن عبيد الله لم يدرك عمه الفضل، تحفة التحصيل في المراسيل: (1 / 229) _x000D_»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں