الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
44. باب ما روي فى المضمضة والاستنشاق فى غسل الجنابة
باب: غسل جنابت میں کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
ترقیم العلمیہ : 402 ترقیم الرسالہ : -- 409
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ بَحْرٍ الْعَسْكَرِيُّ ، وَغَيْرُهُمَا قَالُوا: نا بَرَكَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا يُوسُفُ بْنُ أَسْبَاطٍ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ الْمَضْمَضَةَ وَالاسْتِنْشَاقَ لِلْجُنُبِ ثَلاثًا فَرِيضَةً" . هَذَا بَاطِلٌ، وَلَمْ يُحَدِّثْ بِهِ إِلا بَرَكَةُ، وَبَرَكَةُ هَذَا يَضَعُ الْحَدِيثَ، وَالصَّوَابُ حَدِيثُ وَكِيعٍ، الَّذِي كَتَبْنَاهُ قَبْلَ هَذَا مُرْسَلا، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَنَّ الاسْتِنْشَاقَ فِي الْجَنَابَةِ ثَلاثًا"، وَتَابَعَ وَكِيعًا، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، وَغَيْرُهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنبی شخص کے لیے (غسل جنابت میں) تین مرتبہ کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کو فرض قرار دیا ہے۔ امام دارقطنی بیان کرتے ہیں: یہ روایت باطل ہے۔ برقہ نامی راوی کے علاوہ اور کسی نے اسے بیان نہیں کیا اور برقہ نامی یہ راوی اپنی طرف سے حدیثیں بنایا کرتا تھا۔ صحیح روایت وہ ہے، جسے وکیع نامی راوی نے نقل کیا ہے، جسے ہم اس سے پہلے ”مرسل“ روایت کے طور پر ابن سیرین کے حوالے سے نقل کر چکے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل جنابت کی حالت میں ناک میں تین مرتبہ پانی ڈالنے کو سنت قرار دیا ہے۔ [سنن الدارقطني/كتاب الطهارة/حدیث: 409]
ترقیم العلمیہ: 402
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 407، 408، 409، 410، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 741»
«قال الدارقطني: حديث بركة هذا باطل لم يحدث به غيره وهو يضع الحديث، نصب الراية لأحاديث الهداية: (1 / 77)»
«قال الدارقطني: حديث بركة هذا باطل لم يحدث به غيره وهو يضع الحديث، نصب الراية لأحاديث الهداية: (1 / 77)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
خالد الحذاء ← أبو هريرة الدوسي