صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
212. باب الأذان - ذكر إثبات عفو الله جل وعلا عن المؤذنين
اذان کا بیان - اللہ جل وعلا کی طرف سے مؤذنوں کے لیے عفو کے اثبات کا ذکر
حدیث نمبر: 1671
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمْةَ الْمُرَادِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي صَالِحٍ ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الإِمَامُ ضَامِنٌ، وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ، فَأرَشْدَ اللَّهُ الأَئِمَّةَ، وَعَفَا عَنِ الْمُؤَذِّنِينَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ عَنْ عَائِشَةَ عَلَى حَسَبِ مَا ذَكَرْنَاهُ، وَسَمِعَهُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا فَمَرَّةً حَدَّثَ بِهِ عَنْ عَائِشَةَ، وَأُخْرَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَتَارَةً وَقَفَهُ عَلَيْهِ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَأَمَّا الأَعْمَشُ، فَإِنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَوْقُوفًا، وَسَمِعَهُ مِنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، مَرْفُوعًا، وَقَدْ وَهِمَ مَنْ أَدْخَلَ بَيْنَ سُهَيْلٍ، وَأَبِيهِ، فِيهِ الأَعْمَشَ لأَنَّ الأَعْمَشَ سَمِعَهُ مِنْ سُهَيْلٍ، لا أَنَّ سُهَيْلا سَمِعَهُ مِنَ الأَعْمَشِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”امام، ضامن ہے، اور مؤذن امین ہےاللہ تعالیٰ ائمہ کی رہنمائی کرے اور مؤذنوں سے درگزر کرے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت ابوصالح سمان نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے سنی ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے اور انہوں نے یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مرفوع حدیث کے طور پر بھی سنی ہے، تو ایک مرتبہ انہوں نے اسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نقل کر دیا ہے اور ایک مرتبہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کر دیا ہے اور ایک دفعہ موقوف روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔ مرفوع حدیث کے طور پر نقل نہیں کیا اور جب اعمش نے یہ روایت ابوصالح کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوف روایت کے طور پر سنی تو انہوں نے یہ روایت ابوصالح کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مرفوع حدیث کے طور پر سنی تو وہ شخص وہم کا شکار ہوا جس نے سہیل نامی راوی اور اس کے والد کے درمیان اعمش کو داخل کر دیا کیونکہ اعمش نے یہ روایت سہیل سے سنی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ سہیل نے یہ روایت اعمش سے سنی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1671]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1669»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن بما بعده - «التعليق الرغيب» (1/ 108).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
محمد بن أبي صالح (ذكوان السمان) ذكره المؤلف في «الثقات» 7/ 417، وقال: يخطئ، وقال الحافظ في «التقريب»: صدوق يهم، وباقي رجاله ثقات.
الرواة الحديث:
أبو صالح السمان ← عائشة بنت أبي بكر الصديق