الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
323. باب صفة الصلاة - ذكر البيان بأن الخداج الذي قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في هذا الخبر هو النقص
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ اس خبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "خداج" سے مراد نقص ہے
حدیث نمبر: 1789
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تُجْزِئُ صَلاةٌ لا يُقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ". قُلْتُ: وَإِنْ كُنْتُ خَلْفَ الإِمَامِ؟ قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِي، وَقَالَ:" اقْرَأْ فِي نَفْسِكَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَمْ يَقُلْ فِي خَبَرِ الْعَلاءِ هَذَا:" لا تُجْزِئُ صَلاةٌ"، إِلا شُعْبَةُ، وَلا عَنْهُ إِلا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ. وَقَالَ: هَذِهِ الأَخْبَارُ مِمَّا ذَكَرْنَا فِي كِتَابِ شَرَائِطِ الأَخْبَارِ، أَنَّ خِطَابَ الْكِتَابِ قَدْ يَسْتَقِلَّ بِنَفْسِهِ فِي حَالَةٍ دُونَ حَالَةٍ حَتَّى يُسْتَعْمَلَ عَلَى عُمُومِ مَا وَرَدَ الْخَطَّابُ فِيهِ، وَقَدْ لا يَسْتَقِلَّ فِي بَعْضِ الأَحْوَالِ حَتَّى يُسْتَعْمَلَ عَلَى كَيْفِيَّةِ اللَّفْظِ الْمُجْمَلِ الَّذِي هُوَ مُطْلَقُ الْخِطَابِ فِي الْكِتَابِ، دُونَ أَنْ تُبَيِّنَهَا السُّنَنُ، وَسُنَنُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهَا مُسْتَقِلَّةٌ بِأَنْفُسِهَا، لا حَاجَةَ بِهَا إِلَى الْكِتَابِ، الْمُبَيِّنَةُ لِمُجْمَلِ الْكِتَابِ، وَالْمُفُسِّرَةُ لِمُبْهَمِهِ، قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا: وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ سورة النحل آية 44، فَأَخْبَرَ جَلَّ وَعَلا أَنَّ الْمُفَسِّرَ لِقَوْلِهِ: أَقِيمُوا الصَّلاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ سورة البقرة آية 43، وَمَا أَشَبْهَهَا مِنْ مُجْمَلِ الأَلْفَاظِ فِي الْكِتَابِ رَسُولُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمُحَالٌ أَنْ يَكُونَ الشَّيْءُ الْمُفَسَّرُ لَهُ الْحَاجَةُ إِلَى الشَّيْءِ الْمُجْمَلِ، وَإِنَّمَا الْحَاجَةُ تَكُونُ لِلْمُجْمَلِ إِلَى الْمُفَسَّرِ، ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ السُّنَنَ يَجِبُ عَرْضُهَا عَلَى الْكِتَابِ، فَأَتَى بِمَا لا يُوَافِقُهُ الْخَبَرُ، وَيَدْفَعُ صِحَّتَهُ النَّظَرُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”وہ نماز جائز نہیں ہوتی جس میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت نہ کی جائے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں۔ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) سے کہا: اگر میں امام کے پیچھے ہوں؟ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور بولے: تم اپنے دل میں (سورۃ فاتحہ) پڑھ لو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) علاء کی نقل کردہ اس روایت میں ”نماز درست نہیں ہوتی“ کے الفاظ صرف شعبہ نے نقل کیے ہیں، اور ان سے صرف وہب بن جریر اور محمد بن کثیر نے نقل کیے ہیں۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ اس نوعیت کی روایات ہیں۔ جن کے بارے میں ہم نے کتاب ”شرائط الاخبار“ میں یہ بات ذکر کی ہے، کتاب اللہ کا حکم بعض اوقات ایک حالت میں مستقل ہوتا ہے جبکہ دوسری حالت میں مستقل نہیں ہوتا، یہاں تک کہ اس کو اس کے عموم پر استعمال کیا جاتا ہے جس بارے میں حکم آیا ہے۔ اور بعض حالتوں میں یہ مستقل نہیں بھی ہوتا، یہاں تک کہ اسے مجمل لفظ پر محمول کیا جاتا ہے، جو کتاب میں مطلق خطاب ہوتا ہے، علاوہ ازیں کہ سنت اس کی وضاحت کر دے، تاہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتیں اپنے وجود کے اعتبار سے مستقل ہیں، ان (کی وضاحت کے لیے) کتاب اللہ کی ضرورت نہیں ہے، سنتیں، کتاب اللہ کے مجمل حکم بیان کرتی ہیں اور اس کے مبہم حکم کی وضاحت کرتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ”اور ہم نے تمہاری طرف ذکر نازل کیا ہے، تاکہ تم لوگوں کے لیے اس بات کی وضاحت کرو جو ان کی طرف نازل کیا گیا ہے۔“ تو یہاںاللہ تعالیٰ نے اس بات کی اطلاع دی ہے کہ اس کے اس فرمان ”تم نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو“ اور کتاب اللہ میں موجود اس جیسے مجمل الفاظ والے احکام کی وضاحت اللہ کے رسول نے کرنی ہے، تو یہ بات ناممکن ہے کہ ایک چیز تفسیر بیان کرنے والی ہو اور اسے کسی مجمل چیز کی ضرورت ہو، کیونکہ ضرورت تو مجمل چیز کو وضاحت کرنے والی چیز کی ہوتی ہے، یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے جو اس بات کا قائل ہے کہ یہ بات لازم ہے، سنت کو کتاب اللہ پر پیش کیا جائے، تو اس شخص نے (اپنے اصول کی بنیاد پر) وہ چیز پیش کی خبر جس کی موافقت نہیں کرتی، اور غور و فکر اس کے صحیح ہونے کو پرے کرتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1789]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1786»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م نحوه - انظر (1781). تنبيه!! رقم (1781) = (1784) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، رجاله رجال الصحيح.
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← أبو هريرة الدوسي