الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
327. باب صفة الصلاة - ذكر الزجر عن ترك قراءة فاتحة الكتاب للمصلي في صلاته مأموما كان أو إماما أو منفردا
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ نمازی اپنی نماز میں سورۃ الفاتحہ کی قراءت ترک کرے، خواہ وہ مأموم ہو، امام ہو یا منفرد
حدیث نمبر: 1794
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تُجْزِئُ صَلاةٌ لا يُقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ". قُلْتُ: فَإِنْ كُنْتُ خَلْفَ الإِمَامِ؟ قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِي، وَقَالَ:" اقْرَأْ فِي نَفْسِكِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”وہ نماز درست نہیں ہوتی جس میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت نہ کی جائے۔“ راوی کہتے ہیں (میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا:) اگر میں امام کے پیچھے ہوں، تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور بولے: تم اپنے دل میں (اس کی) تلاوت کر لیا کرو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1794]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1791»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م انظر (1781). تنبيه!! رقم (1781) = (1784) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
هو مكرر (1789).
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← أبو هريرة الدوسي