صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
774. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر العلة التي من أجلها زجر عن تنخم المرء أمامه أو عن يمينه في صلاته
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر آدمی کو اپنی نماز میں سامنے یا دائیں جانب تھوکنے سے منع کیا گیا
حدیث نمبر: 2269
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلاةِ، فَلا يَبْصُقْ أَمَامَهُ، فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ مَا دَامَ فِي مُصَلاهُ، وَلا عَنْ يَمِينِهِ، فَإِنَّ عَنْ يَمِينِهِ مَلَكًا، وَلْيَبْصُقْ عَنْ شِمَالِهِ، أَوْ تَحْتَ رِجْلِهِ، فَيَدْفِنَهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص نماز ادا کرنے کے لیے کھڑا ہو، تو وہ اپنے سامنے کی سمت میں نہ تھوکے، کیونکہ وہ جب تک نماز ادا کر رہا ہوتا ہے، تو اپنے پروردگار کی بارگاہ میں مناجات کر رہا ہوتا ہے اور وہ اپنے دائیں طرف بھی نہ تھوکے، کیونکہ اس کے دائیں طرف فرشتہ ہوتا ہے، اسے اپنے بائیں طرف یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوک کر اسے دفن کر دینا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2269]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 408، 410، 414، 416، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 548، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 874، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1783، 2268، 2269، 2270، 2271، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 949، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 308، وأبو داود فى (سننه) برقم: 477، 480، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1438، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 761، 1022، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7523» «رقم طبعة با وزير 2266»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3973): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما، إسحاق بن إبراهيم: هو ابن راهويه.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2269 in Urdu
همام بن منبه اليماني ← أبو هريرة الدوسي