صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1037. فصل في التراويح - ذكر مغفرة الله جل وعلا ما قدم من ذنوب المرء المسلم إذا قام رمضان إيمانا واحتسابا فيه
تراویح کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اس مسلمان کے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے جو رمضان میں ایمان اور احتساب کے ساتھ قیام کرتا ہے
حدیث نمبر: 2546
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو سلمة بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِرَمَضَانَ: " مَنْ قَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الاحْتِسَابُ: قَصْدُ الْعَبِيدِ إِلَى بَارِئِهِمْ بِالطَّاعَةِ رَجَاءَ الْقَبُولِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان کے بارے میں یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے اس میں نوافل ادا کرے گا اس کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جائے گی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) احتساب سے مراد یہ ہے کہ بندہ اطاعت کے ہمراہ اپنے پروردگار کی بارگاہ کا قصد کرے اس کی قبولیت کی امید رکھتے ہوئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2546]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2537»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (906)، «صحيح أبي داود» (1242).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي