صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
120. فصل في الموت وما يتعلق به من راحة المؤمن وبشراه وروحه وعمله والثناء عليه - ذكر الإخبار بأن الأرواح يعرف بعضها بعضا بعد موت أجسامها
فصل: موت اور اس سے متعلق امور کا بیان، مومن کے لیے موت کے وقت راحت، بشارت، روح کا حال، اس کے عمل اور اس پر ہونے والی تعریف کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ ارواح اپنے جسموں کی موت کے بعد ایک دوسرے کو پہچانتی ہیں
حدیث نمبر: 3014
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا قُبِضَ أَتَتْهُ مَلائِكَةُ الرَّحْمَةِ بِحَرِيرَةٍ بَيْضَاءَ، فَتَقُولُ: اخْرُجِي إِلَى رَوْحِ اللَّهِ، فَتَخْرُجُ كَأَطْيَبِ رِيحِ مِسْكٍ حَتَّى إِنَّهُمْ لِيُنَاوِلُهُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا يَشُمُّونَهُ، حَتَّى يَأْتُونَ بِهِ بَابَ السَّمَاءِ، فَيَقُولُونَ: مَا هَذِهِ الرِّيحُ الطَّيِّبَةُ الَّتِي جَاءَتْ مِنَ الأَرْضِ؟ وَلا يَأْتُونَ سَمَاءً إِلا قَالُوا مِثْلَ ذَلِكَ، حَتَّى يَأْتُونَ بِهِ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ فَلَهُمْ أَشَدُّ فَرَحًا بِهِ مِنْ أَهْلِ الْغَائِبِ بِغَائِبِهِمْ، فَيَقُولُونَ: مَا فَعَلَ فُلانٌ؟ فَيَقُولُونَ: دَعُوهُ حَتَّى يَسْتَرِيحَ، فَإِنَّهُ كَانَ فِي غَمِّ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: قَدْ مَاتَ، أَمَا أمَاتَكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: ذُهِبَ بِهِ إِلَى أُمِّهِ الْهَاوِيَةِ، وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيَأْتِيهُ مَلائِكَةُ الْعَذَابِ بِمُسْحٍ، فَيَقُولُونَ: اخْرُجِي إِلَى غَضِبِ اللَّهِ، فَتَخْرُجُ كَأَنْتَنِ رِيحِ جِيفَةٍ فَتَذْهَبُ بِهِ إِلَى بَابِ الأَرْضِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب مومن کی روح قبض ہوتی ہے، تو رحمت کے فرشتے سفید کپڑا لے کر اس کے پاس آتے ہیں اور یہ کہتے ہیں: ((اس جسم سے نکل کر)اللہ تعالیٰ کی مہربانی کی طرف آ جاؤ، تو وہ جان یوں نکلتی ہے جیسے وہ سب سے پاکیزہ مشک کی خوشبو ہو، یہاں تک کہ وہ فرشتے اسے ایک دوسرے کو پکڑاتے ہیں اور اسے سونگھتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اسے لے کر آسمان کے دروازے تک آتے ہیں، تو (آسمان والے) فرشتے یہ کہتے ہیں: اتنی پاکیزہ خوشبو کس چیز کی ہے، جو زمین کی طرف سے آئی ہے وہ فرشتے جس بھی آسمان پر آتے ہیں وہاں یہی جملہ کہا: جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اسے لے کر مومنین کی ارواح کے پاس آ جاتے ہیں، تو وہ لوگ اس سے مل کر یوں خوش ہوتے ہیں جیسے کسی غیر موجود شخص کے گھر والے اسے مل کر خوش ہوتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں: فلاں کا کیا حال ہے؟ تو دوسرے لوگ یہ کہتے ہیں: اسے چھوڑ دو، تاکہ یہ آرام کر لے، کیونکہ یہ دنیا کے غموں میں مبتلا تھا، تو وہ (مردہ) یہ کہتا ہے اس کا، تو انتقال ہو چکا ہے کیا وہ تمہارے پاس نہیں آیا، تو وہ لوگ اسے کہتے ہیں: اسے اس کے ٹھکانے ھاویہ کی طرف لے جایا گیا ہو گا (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) جہاں تک کافر شخص کا تعلق ہے، تو عذاب کے فرشتے موٹی کھردی چادر لے کر اس کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں: تم نکل کر اللہ کے غضب کی طرف جاؤ، تو وہ جان یوں نکلتی ہے جیسے انتہائی بودار مردار ہوتا ہے، تو وہ اسے لے کر زمین کے دروازے کی طرف آتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3014]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3003»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1309).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
قسامة بن زهير المازني ← أبو هريرة الدوسي