صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
38. باب الزنى وحده - ذكر البيان بأن الإقرار بالزنى يوجب الرجم على من أقر به وكان محصنا-
زنا اور اس کی حد کا بیان - اس بات کا بیان کہ زنا کا اقرار کرنے والے پر جب وہ محصن ہو رجم واجب ہو جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 4437
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُمَا قَالا: أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَعْرَابِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُنْشِدُكَ اللَّهَ إِِلا قَضَيْتَ لِي بِكِتَابِ اللَّهِ. فَقَالَ الْخَصْمُ الآخَرُ وَهُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ: نَعَمْ، اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَأَذَنْ لِي. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُلْ". قَالَ: إِِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا، فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، وَإِِنِّي أُخْبِرْتُ أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمُ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِئَةِ شَاةٍ وَوَلِيدَةٍ، فَسَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَأَنَّ عَلَى امْرَأَتِهِ الرَّجْمُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، الْوَلِيدَةُ وَالْغَنَمُ مَرْدُودٌ عَلَيْكَ، وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، اغْدُ يَا أُنَيْسُ إِِلَى امْرَأَةِ هَذَا، فَإِِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا". قَالَ: فَغَدَا عَلَيْهَا، فَاعْتَرَفَتْ، فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَتْ .
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ آپ میرے بارے میں اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ دیں۔ اس کے مخالف فریق نے، جو اس سے زیادہ سمجھدار تھا، کہا: جی ہاں، آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کیجیے، لیکن مجھے آپ اجازت دیجیے (تاکہ میں مسئلہ بیان کر دوں)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کہو۔“ اس نے عرض کی: میرا بیٹا اس شخص کے ہاں ملازم تھا، اس نے اس کی بیوی کے ساتھ زنا کر لیا، مجھے یہ بات بتائی گئی کہ میرے بیٹے کو سنگسار کیا جائے گا، تو میں نے اس کے عوض ایک سو بکریاں اور ایک کنیز فدیے کے طور پر دے دی، پھر میں نے اہل علم سے دریافت کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو ایک سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائے گا، اور اس کی بیوی کو سنگسار کیا جائے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، میں تم دونوں کے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ کنیز اور بکریاں تمہیں واپس مل جائیں گی، تمہارے بیٹے کو ایک سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائے گا۔ اے انیس! تم اس شخص کی بیوی کے پاس جاؤ، اگر وہ اعتراف کرتی ہے تو اسے سنگسار کر دو۔“ راوی کہتے ہیں: اگلے دن وہ صاحب اس خاتون کے پاس گئے، اس نے اعتراف کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عورت سے متعلق حکم کے مطابق اس عورت کو سنگسار کر دیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحدود/حدیث: 4437]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2314، 2695، 2724، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1698، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4437، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5425، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4445، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1433، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2549، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11567، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17312، والحميدي فى (مسنده) برقم: 830» «رقم طبعة با وزير 4420»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2322): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 4437 in Urdu
أبو هريرة الدوسي ← زيد بن خالد الجهني