صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
2. ذكر استصعاب البراق عند إرادة ركوب النبي صلى الله عليه وسلم إياه-
- اس واقعہ کا ذکر کہ جب نبی کریم ﷺ براق پر سوار ہونا چاہتے تھے تو وہ ابتدا میں بھڑک گیا (یعنی سوار ہونے میں مشکل پیش آئی)۔
حدیث نمبر: 46
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْعَبَّاسِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُتِيَ بِالْبُرَاقِ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مُسْرَجًا مُلْجَمًا لِيَرْكَبَهُ، فَاسْتَصْعَبَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ: مَا يَحْمِلُكَ عَلَى هَذَا، فَوَاللَّهِ مَا رَكِبَكَ أَحَدٌ أَكْرَمَ عَلَى اللَّهِ مِنْهُ، قَالَ: فَارْفَضَّ عَرَقًا" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جس رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کروائی گئی، اس رات آپ کے پاس براق لایا گیا، جس پر زین رکھی ہوئی تھی اور اس کی لگام ڈالی گئی تھی تاکہ آپ اس پر سوار ہو جائیں۔ اس پر سوار ہونے میں آپ کو دشواری محسوس ہوئی (یعنی براق نے اچھلنا شروع کر دیا) تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے اس سے کہا: تم ایسا کیوں کر رہے ہو؟ اللہ کی قسم! تمہارے اوپر ایسا کوئی شخص سوار نہیں ہوا، جواللہ تعالیٰ کے نزدیک ان (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) سے زیادہ معزز ہو۔
راوی بیان کرتے ہیں، تو براق کو پسینہ آ گیا۔
[صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 46]
راوی بیان کرتے ہیں، تو براق کو پسینہ آ گیا۔
[صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 46]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح الإسناد.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
الرواة الحديث:
قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري