الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
20. باب آداب الأكل - ذكر الأمر بمخالفة الشيطان في الأكل والشرب-
کھانے کے آداب کا بیان - یہ حکم کہ کھانے اور پینے میں شیطان کی مخالفت کرے
حدیث نمبر: 5226
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِهِ، وَإِذَا شَرِبَ، فَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ، وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَصْحَابُ الزُّهْرِيِّ كُلُّهُمْ قَالُوا فِي هَذَا الْخَبَرِ: عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، وَخَالَفَهُمْ مَعْمَرٌ، فَقَالَ: عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، فَقِيلَ لِمَعْمَرٍ: خَالَفْتَ النَّاسَ، فَقَالَ: كَانَ الزُّهْرِيُّ يَسْمَعُ مِنْ جَمَاعَةٍ، فَيُحَدِّثُ مَرَّةً عَنْ هَذَا، وَمَرَّةً عَنْ هَذَا.
سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص کچھ کھائے تو اپنے دائیں ہاتھ سے کھائے اور جب پیئے تو دائیں ہاتھ سے پیئے کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) زہری کے تمام شاگردوں نے اس روایت کی سند میں یہ بات نقل کی ہے زہری نے یہ روایت ابوبکر بن عبیداللہ سے ان کے والد کے حوالے سے نقل کی ہے جبکہ معمر نے ان کے برخلاف روایت نقل کی ہے۔ وہ یہ کہتے ہیں: یہ زہری کے حوالے سے سالم کے حوالے سے ان کے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے منقول ہے تو معمر سے یہ بات کہی گئی آپ دوسرے لوگوں کے برخلاف نقل کرتے ہیں تو انہوں نے کہا: زہری نے کئی افراد سے یہ حدیث سنی ہے تو بعض اوقات وہ کسی ایک کے حوالے سے نقل کر دیتے ہیں۔ بعض اوقات دوسرے کے حوالے سے نقل کر دیتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5226]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) زہری کے تمام شاگردوں نے اس روایت کی سند میں یہ بات نقل کی ہے زہری نے یہ روایت ابوبکر بن عبیداللہ سے ان کے والد کے حوالے سے نقل کی ہے جبکہ معمر نے ان کے برخلاف روایت نقل کی ہے۔ وہ یہ کہتے ہیں: یہ زہری کے حوالے سے سالم کے حوالے سے ان کے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے منقول ہے تو معمر سے یہ بات کہی گئی آپ دوسرے لوگوں کے برخلاف نقل کرتے ہیں تو انہوں نے کہا: زہری نے کئی افراد سے یہ حدیث سنی ہے تو بعض اوقات وہ کسی ایک کے حوالے سے نقل کر دیتے ہیں۔ بعض اوقات دوسرے کے حوالے سے نقل کر دیتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5226]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5203»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1236): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
الرواة الحديث:
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي