پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
83. فصل في الأشربة - ذكر العلة التي من أجلها زجر عن الشرب في الحناتم-
پانیوں (مشروبات) کے بیان میں ایک فصل - یہ وجہ جس کی بنا پر حناتم میں پینا منع کیا گیا
حدیث نمبر: 5401
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ عَنِ النَّبِيذِ فِي الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمَزَادَةِ الْمَجْبُوبَةِ، وَقَالَ: " انْبِذْ فِي سِقَائِكَ وَأَوْكِهِ، وَاشْرَبْهُ حُلْوًا طَيِّبًا"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ائْذَنْ لِي فِي مِثْلِ هَذِهِ، وَأَشَارَ النَّضْرُ بِكَفِّهِ، فَقَالَ:" إِذًا تَجْعَلُهَا مِثْلَ هَذِهِ"، وَأَشَارَ النَّضْرُ بِبَاعِهِ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُ السَّائِلِ: ائْذَنْ لِي فِي مِثْلِ هَذَا: أَرَادَ بِهِ إِبَاحَةَ الْيَسِيرِ فِي الانْتِبَاذِ فِي الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَمَا أَشْبَهَهَا، فَلَمْ يَأْذَنْ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخَافَةَ أَنْ يَتَعَدَّى ذَلِكَ بَاعًا، فَيَرْتَقِي إِلَى الْمُسْكِرِ، فَيَشْرَبَهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدقیس قبیلے کے وفد کو دباء، حنتم، مزفت، نقیر اور مشکیزے میں نبیذ پینے سے منع کیا تھا۔ آپ نے فرمایا تم اپنے مشکیزے میں نبیذ تیار کرو اور ان کا منہ بند کر دو اور اسے اس وقت پیو جب وہ میٹھی اور پاکیزہ ہو۔ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ مجھے اتنی سی کی اجازت دیں گے۔ یہاں نضر نامی راوی نے اپنی ہتھیلی کے ذریعے اشارہ کر کے بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پھر تم اسے اتنا کر لو گے۔ یہاں نضر نامی راوی نے اپنی بالشت کے ذریعے اشارہ کر کے بتایا۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سائل کا یہ کہنا آپ مجھے اتنی کی اجازت دیجئے۔ اس کے ذریعے اس کی مراد یہ تھی کہ دباء اور حنتم اور اس جیسے دیگر برتنوں میں تھوڑی سی نبیذ تیار کرنے کی اجازت دیجئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت نہیں دی کیونکہ یہ اندیشہ تھا کہ وہ اس میں اضافہ کر کے اسے ایک بالشت جتنا اختیار کر لے گا اور پھر وہ نشہ آور چیز تک چلا جائے گا اور اسے پی لے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5401]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سائل کا یہ کہنا آپ مجھے اتنی کی اجازت دیجئے۔ اس کے ذریعے اس کی مراد یہ تھی کہ دباء اور حنتم اور اس جیسے دیگر برتنوں میں تھوڑی سی نبیذ تیار کرنے کی اجازت دیجئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت نہیں دی کیونکہ یہ اندیشہ تھا کہ وہ اس میں اضافہ کر کے اسے ایک بالشت جتنا اختیار کر لے گا اور پھر وہ نشہ آور چیز تک چلا جائے گا اور اسے پی لے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5401]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1993، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3123، وابن الجارود فى "المنتقى"، 925، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5401، 5404، 5405، 5408، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5604، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3693، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3401، 3408، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17518، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4674، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7408» «رقم طبعة با وزير 5377»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2951).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥هشام بن حسان الأزدي، أبو عبد الله هشام بن حسان الأزدي ← محمد بن سيرين الأنصاري | ثقة حافظ | |
👤←👥النضر بن شميل المازني، أبو الحسن النضر بن شميل المازني ← هشام بن حسان الأزدي | ثقة ثبت | |
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب إسحاق بن راهويه المروزي ← النضر بن شميل المازني | ثقة حافظ إمام | |
👤←👥عبد الله بن محمد النيسابوري، أبو محمد عبد الله بن محمد النيسابوري ← إسحاق بن راهويه المروزي | ثقة |
Sahih Ibn Hibban Hadith 5401 in Urdu
محمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي