صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
320. باب الصحبة والمجالسة - ذكر الشيء الذي إذا قاله المرء عند القيام من مجلسه ختم له به إذا كان مجلس خير وكفارة له إذا كان مجلس لغو
دوستی اور بیٹھک (ہم نشینی) کا بیان - اس چیز کا ذکر کہ اگر آدمی اسے اپنی مجلس سے اٹھتے وقت کہے تو اس کے لیے خیر کی مجلس کو ختم کیا جاتا ہے اور اگر لغو مجلس ہو تو اس کی کفارہ ہوتی ہے
حدیث نمبر: 593
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلالٍ ، حَدَّثَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ قَالَ: " كَلِمَاتٌ لا يَتَكَلَّمُ بِهِنَّ أَحَدٌ فِي مَجْلِسِ لَغْوٍ أَوْ مَجْلِسِ بَاطِلٍ عِنْدَ قِيَامِهِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ إِلا كَفَّرَتْهُنَّ عَنْهُ، وَلا يَقُولُهُنَّ فِي مَجْلِسِ خَيْرٍ وَمَجْلِسِ ذِكْرٍ، إِلا خُتِمَ لَهُ بِهِنَّ عَلَيْهِ كَمَا يُخْتَمُ بِالْخَاتَمِ عَلَى الصَّحِيفَةِ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ" ، قَالَ عَمْرٌو : حَدَّثَنِي بِنَحْوِ ذَلِكَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”کچھ کلمات ایسے ہیں، جو بھی شخص کسی لغو محفل میں، یا باطل محفل میں موجود رہا ہو اور وہاں سے اٹھتے وقت ان کلمات کو تین مرتبہ پڑھ لے، تو یہ کلمات اس کا کفارہ بن جائیں گے اور جو شخص کسی بھی بھلائی کی محفل میں، یا ذکر کی محفل میں ان کلمات کو پڑھ لے گا، تو ان کلمات پر اس کے نام کی مہر لگ جائے گی، جس طرح کسی صحیفے پر مہر لگائی جاتی ہے۔ (وہ کلمات یہ ہیں): «سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» ”تو پاک ہے، اے اللہ! اور حمد تیرے لیے مخصوص ہے، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔“”عمرو نامی راوی بیان کرتے ہیں: اسی طرح کی روایت عبدالرحمٰن بن ابوعمرو نے مقبری کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل ہونے کے طور پر مجھے سنائی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 593]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 593، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4857، والطبراني فى(الكبير) برقم: 14290» «رقم طبعة با وزير 592»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الموارد» (2367).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير حرملة، فمن رجال مسلم. وهو موقوف على عبد الله بن عمرو.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 593 in Urdu
سعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي