🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
69. باب بدء الخلق - ذكر خبر شنع به المعطلة وجماعة لم يحكموا صناعة الحديث على منتحلي سنن المصطفى صلى الله عليه وسلم حيث حرموا التوفيق لإدراك معناه-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر جس پر معطلین اور کچھ لوگوں نے جو حدیث کی صنعت میں ماہر نہ تھے، مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنن ماننے والوں پر طعن کیا کیونکہ وہ اس کے معنی سمجھنے میں کامیاب نہ ہوئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6208
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلانَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِِبْرَاهِيمَ، إِِذْ قَالَ: رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي سورة البقرة آية 260، وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ، لأَجَبْتُ الدَّاعِيَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِِبْرَاهِيمَ"، لَمْ يُرِدْ بِهِ إِِحْيَاءَ الْمَوْتَى، إِِنَّمَا أَرَادَ بِهِ فِي اسْتِجَابَةِ الدُّعَاءِ لَهُ، وَذَلِكَ أَنَّ إِِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى، وَلَمْ يَتَيَقَّنْ أَنَّهُ يُسْتَجَابُ لَهُ فِيهِ، يُرِيدُ: فِي دُعَائِهِ وَسُؤَالِهِ رَبَّهُ عَمَّا سَأَلَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِِبْرَاهِيمَ"، بِهِ فِي الدُّعَاءِ، لأَنَّا إِِذَا دَعَوْنَا، رُبَّمَا يُسْتَجَابُ لَنَا، وَرُبَّمَا لا يُسْتَجَابُ، وَمَحْصُولُ هَذَا الْكَلامِ أَنَّهُ لَفْظَةُ إِِخْبَارٍ مُرَادُهَا التَّعْلِيمُ لِلْمُخَاطَبِ لَهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ہم سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے مقابلے میں شک کرنے کے زیادہ حق دار ہیں جب انہوں نے یہ کہا: ﴿رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ ۖ قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِن ۖ قَالَ بَلَىٰ وَلَٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِي﴾ [سورة البقرة: 260] اے میرے پروردگار! تو مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا۔ پروردگار نے دریافت کیا: کیا تم ایمان نہیں رکھتے ہو؟ انہوں نے عرض کی: جی ہاں، لیکن (میں یہ چاہتا ہوں) تاکہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) اللہ تعالیٰ سیدنا لوط علیہ السلام پر رحم کرے، وہ ایک مضبوط پناہ گاہ کی پناہ میں جانا چاہتے تھے اور جتنا عرصہ سیدنا یوسف علیہ السلام قید خانے میں رہے، اگر میں اتنا عرصہ رہا ہوتا تو بلانے والے کے ساتھ چلا جاتا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ یہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ہم سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے مقابلے میں شک کرنے کے زیادہ حق دار ہیں اس کے ذریعے یہ مراد نہیں ہے کہ مردوں کو زندہ کرنے کے بارے میں شک تھا بلکہ مراد ان کی دعا کا مستجاب ہونا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے یہ کہا تھا: ﴿رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ﴾ [سورة البقرة: 260] اے میرے پروردگار! تو مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا۔ انہیں اس بات کا یقین نہیں تھا کہ اس بارے میں ان کی دعا مستجاب ہو گی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ ان کا اپنے پروردگار سے دعا کرنا اور وہ مطالبہ کرنا جو انہوں نے کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ہم اس دعا کے بارے میں شک کرنے کے سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ حق دار ہیں کیونکہ جب ہم دعا کرتے ہیں تو بعض اوقات ہماری دعا مستجاب ہو جاتی ہے اور بعض اوقات مستجاب نہیں ہوتی، بہرحال اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ یہاں لفظی طور پر اطلاع دی گئی ہے، لیکن اس کے ذریعے مراد یہ ہے کہ مخاطب کو اس بارے میں تعلیم دی جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6208]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3372، 3375، 3387، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 151، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5776، 6206، 6207، 6208، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2966، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4026، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1097، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8395» «رقم طبعة با وزير 6175»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» - أيضا -: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد
Newسعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي
أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي
ثقة إمام مكثر
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← يونس بن يزيد الأيلي
ثقة حافظ
👤←👥يزيد بن خالد الهمداني، أبو خالد
Newيزيد بن خالد الهمداني ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
👤←👥محمد بن الحسن بن قتيبة اللخمي، أبو العباس
Newمحمد بن الحسن بن قتيبة اللخمي ← يزيد بن خالد الهمداني
ثقة
Sahih Ibn Hibban Hadith 6208 in Urdu