صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
131. باب بدء الخلق - ذكر وصف بيعة الأنصار رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة العقبة بمنى-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر وصف کہ انصار نے منیٰ کی رات عقیقہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی
حدیث نمبر: 6274
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ سَبْعَ سِنِينَ، يَتَتَبَّعُ النَّاسَ فِي مَنَازِلِهِمْ بِعُكَاظَ وَمَجَنَّةَ وَالْمَوَاسِمِ بِمِنًى، يَقُولُ: " مَنْ يُؤْوِينِي وَيَنْصُرَنِي حَتَّى أُبَلِّغَ رِسَالاتِ رَبِّي؟"، حَتَّى إِِنَّ الرَّجُلَ لِيَخْرُجُ مِنَ الْيَمَنِ أَوْ مِنْ مِصْرَ فَيَأْتِيهُ قَوْمُهُ، فَيَقُولُونَ: احْذَرْ غُلامَ قُرَيْشٍ، لا يَفْتِنُكَ، وَيَمْشِي بَيْنَ رِحَالِهِمْ وَهُمْ يُشِيرُونَ إِِلَيْهِ بِالأَصَابِعِ، حَتَّى بَعَثَنَا اللَّهُ مِنْ يَثْرِبَ، فَآوَيْنَاهُ وَصَدَّقْنَاهُ، فَيَخْرُجُ الرَّجُلُ مِنَّا وَيُؤْمِنُ بِهِ وَيُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ، وَيَنْقَلِبُ إِِلَى أَهْلِهِ فَيُسْلِمُونَ بِإِِسْلامِهِ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ دَارٌ مِنْ دُورِ الأَنْصَارِ إِِلا فِيهَا رَهْطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُظْهِرُونَ الإِِسْلامَ، ثُمَّ إِِنَّا اجْتَمَعْنَا، فَقُلْنَا: حَتَّى مَتَى نَتْرُكُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْرَدُ فِي جِبَالِ مَكَّةَ وَيَخَافُ؟ فَرَحَلَ إِِلَيْهِ مِنَّا سَبْعُونَ رَجُلا، حَتَّى قَدِمُوا عَلَيْهِ فِي الْمَوْسِمِ، فَوَاعَدْنَاهُ بَيْعَةَ الْعَقَبَةِ، فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَهَا مِنْ رَجُلٍ وَرَجُلَيْنِ، حَتَّى تَوَافَيْنَا، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلامَ نُبَايِعُكَ؟ قَالَ:" تُبَايعُونِي عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ وَالْكَسَلِ، وَالنَّفَقَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ، وَعَلَى الأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَأَنْ يَقُولَهَا لا يُبَالِي فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لائِمٍ، وَعَلَى أَنْ تَنْصُرُونِيَ، وَتَمْنَعُونِي إِِذَا قَدِمْتُ عَلَيْكُمْ مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ وَأَزْوَاجَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ، وَلَكُمُ الْجَنَّةُ"، فَقُمْنَا إِِلَيْهِ فَبَايَعْنَاهُ، وَأَخَذَ بِيَدِهِ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ وَهُوَ مِنْ أَصْغَرِهِمْ، فَقَالَ: رُوَيْدًا يَا أَهْلَ يَثْرِبَ، فَإِِنَّا لَمْ نَضْرِبْ أَكْبَادَ الإِِبِلِ إِِلا وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّ إِِخْرَاجَهُ الْيَوْمَ مُنَازَعَةُ الْعَرَبِ كَافَّةً، وَقَتْلُ خِيَارِكُمْ، وَأَنْ تَعَضَّكُمُ السُّيُوفُ، فَإِِمَّا أَنْ تَصْبِرُوا عَلَى ذَلِكَ وَأَجْرُكُمْ عَلَى اللَّهِ، وَإِِمَّا أَنْتُمْ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ جُبْنًا، فَبَيِّنُوا ذَلِكَ فَهُوَ أَعْذَرُ لَكُمْ، فَقَالُوا: أَمِطْ عَنَّا، فَوَاللَّهِ لا نَدَعُ هَذِهِ الْبَيْعَةَ أَبَدًا، فَقُمْنَا إِِلَيْهِ، فَبَايَعْنَاهُ، فَأَخَذَ عَلَيْنَا، وَشَرَطَ أَنْ يُعْطِيَنَا عَلَى ذَلِكَ الْجَنَّةَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سات سال تک مکہ میں مقیم رہے۔ آپ عکاظ، مجنہ اور حج کے موقع پر منیٰ میں موجود لوگوں کی رہائش گاہوں پر جاتے تھے۔ کون مجھے پناہ دے گا اور کون میری مدد کرے گا تاکہ میں اپنے پروردگار کے اس پیغام کی تبلیغ کر سکوں، یہاں تک کہ ایک شخص جس کا تعلق یمن یا شاید مصر س تھا وہ نکلا اور اپنی قوم کے پاس آ کر بولا:۔ قریش کے اس نوجوان سے بچو کہیں یہ تمہیں آزمائش میں مبتلا نہ کر دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی رہائش گاہوں کے درمیان چلتے اور وہ لوگ اپنی انگلیوں سے آپ کی طرف اشارہ کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یثرب سے بھیجا ہم نے آپ کو پناہ دی اور آپ کی تصدیق کی۔ ہم میں سے ایک شخص نکلا وہ آپ پر ایمان لایا آپ نے اسے قرآن کی تلاوت سکھائی۔ وہ شخص اپنے اہل خانہ کے پاس واپس گیا، تو اس کے اسلام قبول کرنے کی وجہ سے اہل خانہ نے بھی اسلام قبول کر لیا، یہاں تک کہ انصار کے ہر محلے میں کچھ نہ کچھ مسلمان ہو گئے۔ انہوں نے اسلام کو ظاہر کیا پھر ہم اکٹھے ہو گئے۔ ہم نے کہا: ہم کب تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی حالت میں رہنے دیں گے۔ کیا آپ مکہ کے پہاڑوں کے درمیان ادھر اُدھر آتے جاتے رہیں اور پریشانی کا شکار رہیں، تو ہم میں سے ستر افراد آپ کی خدمت میں جانے کے لئے روانہ ہوئے۔ وہ حج کے موقع پر آپ کی خدمت میں آئے۔ ہم نے آپ کے ساتھ طے کیا کہ ہم عقبہ (گھاٹی) کے پاس آ کر آپ سے بات کریں گے۔ لوگ ایک ایک دو دو کر کے وہاں اکٹھے ہوئے، یہاں تک کہ جب ہماری تعداد پوری ہو گئی تو ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! ہم کس بات پر آپ کی بیعت کریں۔ آپ نے فرمایا: تم چاک و چوبند ہونے سست ہونے (ہر حالت میں) اطاعت فرمانبرداری کرنے، تنگی اور خوشحالی میں خرچ کرنے نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے پر میری بیعت کرو اور آدمی یہ بھی کہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کرے گا اور اس بات پر بیعت کرو کہ تم میری مدد کرو گے اور جب میں تمہارے پاس آؤں گا تم میری مدد کرو گے۔ اسی طرح جس طرح تم اپنا خیال رکھتے ہو اپنی بیویوں اور بچوں کا خیال رکھتے ہو۔ اس کے عوض میں تمہیں جنت ملے گی۔ ہم آپ کے سامنے آئے اور ہم نے آپ کی بیعت کر لی۔
سیدنا اسعد بن زرارہ جو ان تمام افراد میں کم سن تھے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑا اور بولے: اے اہل یثرب آگے آؤ۔ ہم نے اونٹوں کے جگر پر نہیں مارا (یعنی سفر نہیں کیا) مگر یہ کہ ہم نے یہ بات جان لی ہے کہ یہ اللہ کے رسول ہیں۔ اب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا (مدینہ منورہ کی طرف) نکلنا تمام عربوں سے جھگڑا کرنے کا باعث بنے گا۔ اس کے نتیجے میں تمہارے بہترین لوگ قتل ہو سکتے ہیں۔ تلواریں تمہیں کاٹ سکتی ہیں، یا تو یہ ہے کہ تم نے اس صورت حال پر صبر سے کام لینا، تمہارا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو جائے گا، یا پھر یہ ہے کہ تم بزدلی دکھاتے ہوئے اپنی ذات کے حوالے سے اندیشے کا شکار ہو جانا (اگر تم نے ایسا کرنا ہے) تو تم اس بات کو بیان کر دو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں کا عذر قبول کر لیں گے۔ ان لوگوں نے کہا: تم ایک طرف ہو جاؤ، اللہ کی قسم! ہم اس بیعت کو کبھی ترک نہیں کریں گے پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوئے۔ ہم نے آپ کی بیعت کی۔ آپ نے ہم سے بیعت لی اور ساتھ یہ شرط عائد کی کہ آپ ایسا کرنے کی صورت میں ہمیں جنت عطا کریں گے۔
[صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6274]
سیدنا اسعد بن زرارہ جو ان تمام افراد میں کم سن تھے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑا اور بولے: اے اہل یثرب آگے آؤ۔ ہم نے اونٹوں کے جگر پر نہیں مارا (یعنی سفر نہیں کیا) مگر یہ کہ ہم نے یہ بات جان لی ہے کہ یہ اللہ کے رسول ہیں۔ اب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا (مدینہ منورہ کی طرف) نکلنا تمام عربوں سے جھگڑا کرنے کا باعث بنے گا۔ اس کے نتیجے میں تمہارے بہترین لوگ قتل ہو سکتے ہیں۔ تلواریں تمہیں کاٹ سکتی ہیں، یا تو یہ ہے کہ تم نے اس صورت حال پر صبر سے کام لینا، تمہارا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو جائے گا، یا پھر یہ ہے کہ تم بزدلی دکھاتے ہوئے اپنی ذات کے حوالے سے اندیشے کا شکار ہو جانا (اگر تم نے ایسا کرنا ہے) تو تم اس بات کو بیان کر دو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں کا عذر قبول کر لیں گے۔ ان لوگوں نے کہا: تم ایک طرف ہو جاؤ، اللہ کی قسم! ہم اس بیعت کو کبھی ترک نہیں کریں گے پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوئے۔ ہم نے آپ کی بیعت کی۔ آپ نے ہم سے بیعت لی اور ساتھ یہ شرط عائد کی کہ آپ ایسا کرنے کی صورت میں ہمیں جنت عطا کریں گے۔
[صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6274]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6241»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «تخريج فقه السيرة»، «الصحيحة» (63). * [مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ سَبْعَ] قال الشيخ: كذا! والصواب: «عشر»، وهو في الرواية الآتية (6973). تنبيه!! رقم (6973) = (7012) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري