🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
312. باب الحوض والشفاعة - ذكر الإخبار بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم إنما يشفع في القيامة عند عجز الأنبياء عنها في ذلك اليوم-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر خبر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن شفاعت کریں گے جب انبیاء اس سے عاجز ہوں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6464
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، وَالْفُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْجَحْدَرِيُّ ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُجْمَعُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُلْهَمُونَ لِذَلِكَ، فَيَقُولُونَ: لَوِ اسْتَشْفَعْنَا إِِلَى رَبِّنَا كَيْ يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا، قَالَ: فَيَأْتُونَ آدَمَ، فَيَقُولُونَ: أَنْتَ آدَمُ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ، وَأَمَرَ الْمَلائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ، فَاشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا، قَالَ: فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، فَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَهَا، فَيَسْتَحْيِي مِنْ رَبِّهِ مِنْهَا، وَلَكِنِ ائْتُوا نُوحًا أَوَّلَ رَسُولٍ بَعَثَهُ اللَّهُ، فَيَأْتُونَهُ، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، وَيُذْكَرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ، فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا، وَلَكِنِ ائْتُوا إِِبْرَاهِيمَ الَّذِي اتَّخَذَهُ اللَّهُ خَلِيلا، قَالَ: فَيَأْتُونَ إِِبْرَاهِيمَ، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، وَيُذْكَرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ، فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا، وَلَكِنِ ائْتُوا مُوسَى الَّذِي خَلْقَهُ اللَّهُ، وَأَعْطَاهُ التَّوْرَاةَ، قَالَ: فَيَأْتُونَ مُوسَى، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، وَيُذْكَرُ خَطِيئَتَهُ، فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا، وَلَكِنِ ائْتُوا عِيسَى، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، وَلَكِنِ ائْتُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ، قَالَ: فَيَأْتُونِي، فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي، فَيَأْذَنُ لِي، فَإِِذَا أَنَا رَأَيْتُهُ وَقَعَتْ سَاجِدًا، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي، ثُمَّ يُقَالُ: ارْفَعْ مُحَمَّدُ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، قَالَ: فَأَرْفَعُ رَأْسِي، فَأَحْمَدُ رَبِّي بِمَحَامِدَ يُعَلِّمُنِيهِ، ثُمَّ أَشْفَعُ، فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ، وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ أَعُودُ سَاجِدًا، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي، ثُمَّ يُقَالُ: ارْفَعْ مُحَمَّدُ، وَقُلْ تُسْمَعْ، سَلْ تُعْطَهْ، اشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي، وَأَحْمَدُ رَبِّي بِمَحَامِدَ يُعَلِّمُنِيهِ، ثُمَّ أَشْفَعُ، فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ، وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ أَضَعُ رَأْسِي، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِيَ، ثُمَّ يُقَالُ لِيَ: ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ تُسْمَعْ، سَلْ تُعْطَهْ، اشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي، فَأَحْمَدُ رَبِّي بِمَحَامِدَ يُعَلِّمُنِيهِ، ثُمَّ أَشْفَعُ، فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ، وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ"، قَالَ أَبُو عَوَانَةَ: فَلا أَدْرِي قَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ:" فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، مَا بَقِيَ فِي النَّارِ إِِلا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ، أَوْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَكَذَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ:" وَلَكِنِ ائْتُوا مُوسَى الَّذِي خَلْقَهُ اللَّهُ"، وَإِِنَّمَا هُوَ:" الَّذِي كَلَّمَهُ اللَّهُ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن لوگوں کو (میدان محشر میں) اکٹھا کیا جائے گا۔ انہیں یہ بات الہام کی جائے گی، تو وہ کہیں گے اگر کوئی ہمارے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کرے تاکہ ہمیں اس صورتحال سے نجات ملے، تو یہ بہتر ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: لوگ سیدنا آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے آپ وہ سیدنا آدم علیہ السلام ہیں، جنہیں اللہ نے اپنے دست قدرت کے ذریعے پیدا کیا۔ آپ میں اپنی روح کو پھونکا اس نے فرشتوں کو حکم دیا تو فرشتوں نے آپ کو سجدہ کیا۔ آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے تاکہ ہمیں اس صورتحال سے نجات ملے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: سیدنا آدم علیہ السلام کہیں گے: میں یہ نہیں کر سکتا وہ اپنی اس خطا کا ذکر کریں گے جس کے وہ مرتکب ہوئے تھے۔ اور اس خطا کی وجہ سے انہیں اپنے پروردگار سے حیا آئے گی۔ وہ کہیں گے کہ تم سیدنا نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ وہ پہلے رسول ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے مبعوث کیا۔ لوگ سیدنا نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے۔ وہ یہ کہیں گے میں یہ نہیں کر سکتا وہ اپنی اس خطا کا ذکر کریں گے جس کے وہ مرتکب ہوئے تھے۔ اس خطا کی وجہ سے انہیں اپنے پروردگار سے حیا آئے گی (وہ یہ کہیں گے) تم لوگ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنا خلیل بنایا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: لوگ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے وہ یہ کہیں گے میں یہ نہیں کر سکتا۔ وہ اپنی اس خطا کو یاد کریں گے جس کے وہ مرتکب ہوئے تھے۔ انہیں اس وجہ سے اپنے پروردگار سے حیا آتی ہو گی (وہ یہ کہیں گے) تم لوگ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، جنہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور انہیں توریت عطا کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: لوگ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ وہ یہ کہیں گے میں یہ نہیں کر سکتا۔ انہیں اپنی وہ خطا یاد آئے گی، جس کی وجہ سے وہ اپنے پروردگار سے حیا کریں گے (تو وہ یہ کہیں گے) تم لوگ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام یہ کہیں گے۔ میں یہ نہیں کر سکتا تم لوگ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ وہ ایک ایسے بندے ہیں جن کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت اللہ تعالیٰ نے کر دی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: لوگ میرے پاس آئیں گے۔ میں اپنے پروردگار سے اجازت مانگوں گا۔ وہ مجھے اجازت عطا کرے گا تو میں سجدے میں چلا جاؤں گا۔ جتنی دیر اللہ کو منظور ہو گا، میں سجدے میں رہوں گا، پھر یہ کہا: جائے گا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم سجدے سے) سر کو اٹھاؤ۔ بولو، سنا جائے گا۔ مانگو، دیا جائے گا۔ شفاعت کرو، شفاعت قبول ہو گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے پروردگار کی ایسے الفاظ کے ہمراہ حمد بیان کروں گا جن کی وہ مجھے تعلیم دے گا، پھر میں شفاعت کروں گا تو میرے لیے ایک حد مقرر کی جائے گی۔ میں ان لوگوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کروادوں گا پھر میں دوبارہ سجدے میں چلا جاؤں گا۔ جتنی دیر اللہ کو منظور ہوگا وہ مجھے سجدے کی حالت میں) رہنے دے گا پھر یہ کہا: جائے گا محمد اسجدے سے سر کو اٹھاؤ۔ بولو سنا جائے گا۔ مانگو دیا جائے گا۔ شفاعت کرو شفاعت قبول کی جائے گئی تو میں اپنے سر کو اٹھاؤں گا اور اپنے پروردگار کی ایسے الفاظ کے ہمراہ حمد بیان کروں گا، جن کی وہ مجھے تعلیم دے گا پھر میں شفاعت کروں گا تو میرے لیے حد مقرر کی جائے گی۔ میں ان لوگوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دوں گا، پھر میں دوبارہ سجدے میں چلا جاؤں گا۔ جتنی دیر اللہ کو منظور ہو گا وہ مجھے (سجدے کی حالت میں) رہنے دے گا، پھر یہ کہا: جائے گا محمد! سجدے سے سر کو اٹھاؤ۔ بولو سنا جائے گا، مانگو دیا جائے گا، شفاعت کرو شفاعت قبول کی جائے گی، تو میں اپنے سر کو اٹھاؤں گا اور اپنے پروردگار کی ایسے الفاظ کے ہمراہ حمد بیان کروں گا، جن کی وہ مجھے تعلیم دے گا، پھر میں شفاعت کروں گا تو میرے لیے حد مقرر کی جائے گی، میں ان لوگوں کو نکال کر جنت میں داخل کر دوں گا، پھر میں اپنا سر (سجدے میں) رکھوں گا۔ اللہ تعالیٰ کو جتنا منظور ہو گا۔ وہ اتنی دیر (مجھے سجدے میں رہنے دے گا) پھر مجھ سے کہا: جائے گا (سجدے سے) اپنے سر کو اٹھاؤ، بولو سنا جائے گا۔ مانگو دیا جائے گا۔ شفاعت کرو شفاعت قبول کی جائے گی، تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا۔ اور ان الفاظ کے ذریعے اپنے پروردگار کی حمد بیان کروں گا، جن کی وہ مجھے تعلیم دے گا پھر میں شفاعت کروں گا، تو میرے لیے حد مقرر کی جائے گی۔ میں ان لوگوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دوں گا۔ ابوعوانہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: مجھے نہیں معلوم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری یا چوتھی مرتبہ یہ فرمایا: میں عرض کروں گا: اے میرے پروردگار اب جہنم میں صرف وہ لوگ باقی رہ گئے ہیں جو قرآن (کے حکم) کی وجہ سے رکے ہیں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جن کا جہنم میں ہمیشہ رہنا طے ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) حسن بن سفیان نے اس روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں تم لوگ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے حالانکہ اصل الفاظ یہ ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کلام کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6464]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6430»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ظلال الجنة» (805).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥الوضاح بن عبد الله اليشكري، أبو عوانة
Newالوضاح بن عبد الله اليشكري ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الواحد بن غياث الصيرفي، أبو بحر
Newعبد الواحد بن غياث الصيرفي ← الوضاح بن عبد الله اليشكري
صدوق حسن الحديث
👤←👥الفضيل بن الحسين الجحدري، أبو كامل
Newالفضيل بن الحسين الجحدري ← عبد الواحد بن غياث الصيرفي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن عبيد الغبري
Newمحمد بن عبيد الغبري ← الفضيل بن الحسين الجحدري
ثقة
👤←👥الحسن بن سفيان الشيباني، أبو العباس
Newالحسن بن سفيان الشيباني ← محمد بن عبيد الغبري
ثقة