🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
313. باب الحوض والشفاعة - ذكر العلة التي من أجلها لا يشفع الأنبياء للناس يوم القيامة في الوقت الذي ذكرناه-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر وجہ کہ انبیاء قیامت کے دن ہمارے ذکر کردہ وقت میں لوگوں کے لیے شفاعت کیوں نہیں کریں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6465
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: وَضَعْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْعَةً مِنْ ثَرِيدٍ وَلَحْمٍ، فَتَنَاوَلَ الذِّرَاعَ، وَكَانَ أَحَبَّ الشَّاةِ إِِلَيْهِ، فَنَهَسَ نَهْسَةً، فَقَالَ: " أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، ثُمَّ نَهَسَ أُخْرَى، فَقَالَ:" أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، ثُمَّ نَهَسَ أُخْرَى، فَقَالَ:" أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، فَلَمَّا رَأَى أَصْحَابَهُ لا يَسْأَلُونَهُ، قَالَ:" أَلا تَقُولُونَ: كَيْفَ؟"، قَالُوا: كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ، فَيُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي، وَيَنْفُذُهُمُ الْبَصَرُ، وَتَدْنُو الشَّمْسُ مِنْ رُؤوسِهِمْ، فَيَشْتَدُّ عَلَيْهِمْ حَرُّهَا، وَيَشُقُّ عَلَيْهِمْ دُنُوُّهَا مِنْهُمْ، فَيَنْطَلِقُونَ مِنَ الْجَزَعِ وَالضَّجَرِ مِمَّا هُمْ فِيهِ، فَيَأْتُونَ آدَمَ، فَيَقُولُونَ: يَا آدَمُ، أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ، خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَأَمَرَ الْمَلائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ، فَاشْفَعْ لَنَا إِِلَى رَبِّكَ، أَلا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ مِنَ الشَّرِّ؟ فَيَقُولُ آدَمُ: إِِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَإِِنَّهُ كَانَ أَمَرَنِي بِأَمْرٍ فَعَصَيْتُهُ، فَأَخَافُ أَنْ يَطْرَحَنِي فِي النَّارِ، انْطَلِقُوا إِِلَى غَيْرِي، نَفْسِي نَفْسِي، فَيَنْطَلِقُونَ إِِلَى نُوحٍ، فَيَقُولُونَ: يَا نُوحُ، أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ، وَأَوَّلُ مَنْ أَرْسَلَ، فَاشْفَعْ لَنَا إِِلَى رَبِّكَ، أَلا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ مِنَ الشَّرِّ؟ فَيَقُولُ نُوحٌ: إِِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَإِِنَّهُ قَدْ كَانَتْ لِي دَعْوَةٌ، فَدَعَوْتُ بِهَا عَلَى قَوْمِي، فَأُهْلِكُوا، وَإِِنِّي أَخَافُ أَنْ يَطْرَحَنِي فِي النَّارِ، انْطَلِقُوا إِِلَى غَيْرِي، نَفْسِي نَفْسِي، فَيَنْطَلِقُونَ إِِلَى إِِبْرَاهِيمَ، فَيَقُولُونَ: يَا إِِبْرَاهِيمُ، أَنْتَ خَلِيلُ اللَّهِ، قَدْ سَمِعَ بِخُلَّتِكُمَا أَهْلُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ، فَاشْفَعْ لَنَا إِِلَى رَبِّكَ، أَلا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ مِنَ الشَّرِّ؟ فَيَقُولُ: إِِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَذَكَرَ قَوْلَهُ فِي الْكَوَاكِبِ: هَذَا رَبِّي سورة الأنعام آية 76، وَقَوْلَهُ لآلِهَتِهِمْ: بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا سورة الأنبياء آية 63، وَقَوْلَهُ: إِنِّي سَقِيمٌ سورة الصافات آية 89، وَإِِنِّي أَخَافُ أَنْ يَطْرَحَنِي فِي النَّارِ، انْطَلِقُوا إِِلَى غَيْرِي، نَفْسِي نَفْسِي، فَيَنْطَلِقُونَ إِِلَى مُوسَى، فَيَقُولُونَ: يَا مُوسَى، أَنْتَ نَبِيٌّ اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالاتِهِ، وَكَلَّمَكَ تَكْلِيمًا، فَاشْفَعْ لَنَا إِِلَى رَبِّكَ، أَلا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ مِنَ الشَّرِّ؟ فَيَقُولُ مُوسَى: إِِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَإِِنِّي قَدْ قَتَلْتُ نَفْسًا، وَلَمْ أُؤَمَرْ بِهَا، فَأَخَافُ أَنْ يَطْرَحَنِي فِي النَّارِ، انْطَلِقُوا إِِلَى غَيْرِي، نَفْسِي نَفْسِي، فَيَنْطَلِقُونَ إِِلَى عِيسَى، فَيَقُولُونَ: يَا عِيسَى، أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ، وَكَلِمَةُ اللَّهِ وَرُوحُهُ أَلْقَاهَا إِِلَى مَرْيَمَ، وَرَوْحٌ مِنْهُ، اشْفَعْ لَنَا إِِلَى رَبِّكَ، أَلا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ مِنَ الشَّرِّ؟ فَيَقُولُ: إِِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَأَخَافُ أَنْ يَطْرَحَنِي فِي النَّارِ، انْطَلِقُوا إِِلَى غَيْرِي، نَفْسِي نَفْسِي"، قَالَ عُمَارَةُ: وَلا أَعْلَمُهُ ذَكَرَ ذَنْبًا،" فَيَأْتُونَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولُونَ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، وَخَاتَمُ النَّبِيِّينَ، غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، اشْفَعْ لَنَا إِِلَى رَبِّكَ، فَأَنْطَلِقُ فَآتِي الْعَرْشَ، فَأَقَعُ سَاجِدًا لِرَبِّي، فَيُقِيمُنِي رَبُّ الْعَالَمِينَ مِنْهُ مَقَامًا لَمْ يُقِمْهُ أَحَدًا قَبْلِي، وَلَمْ يُقِمْهُ أَحَدًا بَعْدِي، فَيَقُولُ: يَا مُحَمَّدُ، أَدْخِلْ مَنْ لا حِسَابَ عَلَيْهِ مِنْ أُمَّتِكَ مِنَ الْبَابِ الأَيْمَنِ، وَهُمْ شُرَكَاءُ النَّاسِ فِي الأَبْوَابِ الأُخَرِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ إِِلَى مَا بَيْنَ عِضَادِيِّ الْبَابِ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَهَجَرَ، أَوْ هَجَرَ وَمَكَّةَ" ، قَالَ: لا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ثرید اور گوشت کا پیالہ رکھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے دستی اٹھائی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بکرے کے گوشت میں وہ سب سے زیادہ پسند تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دانت کے ذریعے نوچ کر کھایا اور فرمایا: قیامت کے دن میں تمام انسانوں کا سردار ہوں گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوسری مرتبہ کھایا اور فرمایا میں قیامت کے دن تمام انسانوں کا سردار ہوں گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تیسری مرتبہ کھایا اور فرمایا: میں قیامت کے دن تمام انسانوں کا سردار ہوں گا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو دیکھا کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی سوال نہیں کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ ایسا کیسے ہو گا۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! یہ کیسے ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (قیامت کے دن) تمام لوگ تمام جہانوں کے پروردگار کی بارگاہ میں کھڑے ہوں گے۔ بلانے والا اپنی آواز ان تک پہنچا سکے گا۔ نگاہ انہیں دیکھ سکے گی۔ اور سورج ان کے سر کے قریب ہو گا۔ اس کی تپش ان کے لیے شدید دشواری کا باعث ہو گی۔ اور سورج کا ان کے قریب ہونا ان کے لیے مشقت کا باعث ہو گا۔ وہ لوگ اپنی صورتحال کی وجہ سے گریہ و زاری اور آہ و بکا کرتے ہوئے جائیں گے اور سیدنا آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ اور کہیں گے اے سیدنا آدم علیہ السلام آپ انسانوں کے جدامجد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے دست قدرت کے ذریعے پیدا کیا۔ اس نے فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے۔ کیا آپ ملاحظہ نہیں فرما رہے کہ ہم کیسی بری صورتحال کا شکار ہیں، تو سیدنا آدم علیہ السلام یہ کہیں گے میرا پروردگار آج جتنا غضب میں ہے اس سے پہلے اتنا غضب میں نہیں آیا۔ اور اس کے بعد اتنا غضب ناک نہیں ہو گا۔ اس نے مجھے ایک بات کا حکم دیا تھا۔ میں نے اس کی بات نہیں مانی۔ اب مجھے یہ اندیشہ ہے کہ وہ مجھے بھی جہنم میں نہ ڈال دے۔ تم میرے بجائے کسی دوسرے کے پاس جاؤ (اب) مجھے اپنی فکر ہے صرف اپنی فکر ہے۔
وہ لوگ سیدنا نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے اے سیدنا نوح علیہ السلام آپ اللہ کے نبی ہیں۔ آپ پہلے شخص ہیں، جسے رسول بنا کر بھیجا گیا۔ آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے، کیا آپ ملاحظہ نہیں کر رہے ہم کیسی بری صورتحال کا شکار ہیں۔ سیدنا نوح علیہ السلام فرمائیں گے میرا پروردگار آج جتنا غضب ناک ہے اس سے پہلے کبھی اتنا غضب ناک نہیں ہوا۔ اور اس کے بعد بھی کبھی اتنا غضب ناک نہیں ہو گا، میری ایک دعا تھی جو میں نے اپنی قوم کے خلاف کی تھی جس کے نتیجے میں وہ لوگ ہلاکت کا شکار ہو گئے۔ اب مجھے یہ اندیشہ ہے کہ کہیں وہ مجھے جہنم میں نہ ڈال دے۔ اس لئے تم میری بجائے کسی اور کے پاس جاؤ مجھے صرف اپنی فکر ہے صرف اپنی فکر ہے۔
وہ لوگ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے: اے سیدنا ابراہیم علیہ السلام آپ اللہ کے خلیل ہیں آپ دونوں کی خلت کے بارے میں تمام آسمانوں والوں اور زمین والوں نے سن رکھا ہے۔ آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے کیا آپ ملاحظہ نہیں کر رہے کہ ہم کیسی مشکل کا شکار ہیں، تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام فرمائیں گے میرا پروردگار آج جتنا غضب ناک ہے اس سے پہلے کبھی اتنا غضب ناک نہیں ہوا اور اس کے بعد کبھی اتنا غضب ناک نہیں ہو گا، پھر وہ ستاروں کے بارے میں اپنے قول کا ذکر کریں گے یہ میرا پروردگار ہے اور ان لوگوں کے بتوں کے بارے میں اپنے اس قول کا ذکر کریں گے بلکہ ان میں سے بڑے نے ایسا کیا ہے اور اپنے اس قول کا ذکر کریں گے میں بیمار ہوں۔ (پھر سیدنا ابراہیم علیہ السلام فرمائیں گے) کہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وہ مجھے جہنم میں نہ ڈال دے، تم میری بجائے کسی اور کے پاس جاؤ۔ ابھی مجھے صرف اپنی فکر ہے صرف اپنی فکر ہے۔
وہ لوگ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے تو کہیں گے: اے سیدنا موسیٰ علیہ السلام آپ ایسے نبی ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے منتخب کیا۔ اس نے آپ کے ساتھ کلام کیا۔ آپ پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے۔ کیا آپ ملاحظہ نہیں فرما رہے کہ ہم کیسی مشکل کا شکار ہیں، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام یہ کہیں گے۔ میرا پروردگار آج جتنا غضب ناک ہے۔ اس سے پہلے اتنا غضب ناک نہیں ہوا اور اس کے بعد اتنا غضب ناک نہیں ہو گا، میں نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا حالانکہ مجھے اس کا حکم نہیں دیا گیا تھا، تو مجھے یہ اندیشہ ہے کہ کہیں وہ مجھے جہنم میں داخل نہ کر دے۔ تم لوگ میری بجائے کسی اور کے پاس جاؤ۔ ابھی مجھے صرف اپنی فکر ہے صرف اپنی فکر ہے۔
تو وہ لوگ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے کہ آپ اللہ کے نبی ہیں آپ اس کا کلمہ ہیں۔ اس کی روح ہیں جو اس نے سیدنا مریم کی طرف القاء کی تھی۔ اس کی طرف سے آنے والی روح ہیں۔ آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے، کیا آپ ملاحظہ نہیں کر رہے کہ ہم کس مشکل کا شکار ہیں، تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے کہ میرا پروردگار آج جتنا غضب ناک ہے وہ اس سے پہلے کبھی اتنا غضب ناک نہیں ہوا اور اس کے بعد کبھی اتنا غضب ناک نہیں ہو گا۔ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ کہیں وہ مجھے جہنم میں نہ ڈال دے۔ تم لوگ میری بجائے کسی اور کے پاس جاؤ۔ مجھے صرف اپنی فکر ہے اپنی فکر ہے۔
عماره نامی راوی بیان کرتے ہیں: میرے علم کے مطابق (روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں) کہ انہوں نے کسی ذنب کا ذکر کیا ہو۔ پھر لوگ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے۔ اور یہ کہیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ خاتم النبیین ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں وہاں سے چلوں گا اور عرش کے پاس آ جاؤں گا۔ میں اپنے پروردگار کی بارگاہ میں سجدہ میں چلا جاؤں گا، تو تمام جہانوں کا پروردگار اپنی بارگاہ میں مجھے ایسے مقام پر فائز کرے گا کہ اس نے مجھ سے پہلے کسی کو اس مقام پر فائز نہیں کیا اور میرے بعد بھی کسی کو اس مقام پر فائز نہیں کرے گا۔ وہ یہ فرمائے گا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تم اپنی امت کو دائیں طرف والے دروازے سے (جنت میں) داخل کرو۔ ان لوگوں کو جن سے حساب نہیں لیا جائے گا، حالانکہ وہ لوگ دوسرے دروازوں سے دیگر لوگوں کے ساتھ بھی اندر داخل ہو سکتے ہیں۔
(پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا) اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے، جنت کا ایک دروازہ اتنا چوڑا ہے جتنا مکہ اور ہجر کے درمیان فاصلہ ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جتنا ہجر اور مکہ کے درمیان فاصلہ ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ روایت میں کون سے لفظ کا ذکر پہلے ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6465]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6431»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ظلال الجنة» (811).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو زرعة بن عمرو البجلي، أبو زرعة
Newأبو زرعة بن عمرو البجلي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥عمارة بن القعقاع الضبي
Newعمارة بن القعقاع الضبي ← أبو زرعة بن عمرو البجلي
ثقة
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← عمارة بن القعقاع الضبي
ثقة
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
ثقة ثبت
👤←👥أبو يعلى الموصلي، أبو يعلى
Newأبو يعلى الموصلي ← زهير بن حرب الحرشي
ثقة مأمون