صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
497. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر البيان بأن مسيلمة طلب من المصطفى صلى الله عليه وسلم خلافته بعده-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر بیان کہ مسيلمہ نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے بعد خلافت مانگی
حدیث نمبر: 6654
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ أَبِي هِلالٍ: فَأَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَرَجُلٍ آخَرَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ مُسَيْلِمَةَ قَدِمَ فِي جَيْشٍ عَظِيمٍ حَتَّى نَزَلَ فِي نَخْلٍ، فَبَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ يَقُولُ: إِِنْ جَعَلَ لِي مُحَمَّدٌ الأَمْرَ بَعْدَهُ تَبِعْتُهُ، قَالَ: فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا مَعَهُ إِِلا ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، وَفِي يَدِهِ جَرِيدَةٌ حَتَّى وَقَفَ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " لَوْ أَنَّكَ سَأَلْتَنِي هَذِهِ مَا أَعْطَيْتُكَ، وَلَئِنْ أَدْبَرْتَ لَيَعْقِرَنَّكَ اللَّهُ، وَهَذَا ثَابِتٌ يُجِيبُكَ عَنِّي، وَإِِنِّي لأَحْسَبُكَ الَّذِي رَأَيْتُ فِيمَا أُرِيتُ" ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَطَلَبْتُ رُؤْيَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَحَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ، أُرِيتُ كَأَنَّ فِي يَدَيَّ سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ، فَأَهَمَّنِي شَأْنُهُمَا، فَأُوحِيَ إِِلَيَّ أَنِ انْفُخْهُمَا، فَنَفَخْتُهُمَا، فَطَارَا، فَأَوَّلْتُهُمَا الْكَذَّابَيْنِ يَخْرُجَانِ بَعْدِي: الْعَنْسِيَّ صَاحِبَ صَنْعَاءَ، وَمُسَيْلِمَةَ صَاحِبَ الْيَمَامَةِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مسیلمہ ایک بڑا لشکر لے کر آیا یہاں تک کہ انہوں نے ایک کھجوروں کے باغ میں پڑاؤ کیا۔ اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی کہ وہ یہ کہتا ہے کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعد مجھے اپنا نائب مقرر کر دیں تو میں ان کی پیروی کر لوں گا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ کے ساتھ سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک میں ایک شاخ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسیلمہ کے پاس آ کر ٹھہرے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم مجھ سے یہ شاخ مانگو تو میں تمہیں یہ بھی نہیں دوں گا اور اگر تم منہ پھیر کر چلے جاتے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہارے پاؤں کاٹ دے گا۔ یہ ثابت میری طرف سے تمہیں جواب دے دے گا، میرا تمہارے بارے میں یہ خیال تھا کہ تم وہی شخص ہو جس کے بارے میں مجھے خواب میں دکھایا گیا تھا۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خوابوں کے بارے میں تحقیق کی تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”ایک مرتبہ میں سویا ہوا تھا مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ میرے دونوں ہاتھوں میں سونے سے بنے ہوئے دو کنگن ہیں۔ میں ان دونوں کی وجہ سے بڑا پریشان ہوا تو میری طرف یہ بات وحی کی گئی کہ میں ان پر پھونک ماروں، میں نے ان پر پھونک ماری تو وہ دونوں اڑ گئے، میں نے اس کی تاویل یہ کی کہ اس سے مراد وہ دونوں کذاب ہیں جن کا ظہور میرے بعد ہو گا۔ ایک عنسی ہے، جو صنعاء کا رہنے والا ہے اور ایک مسیلمہ ہے، جو یمامہ کا رہنے والا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6654]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3620، 3621، 4373، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2273، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6653، 6654، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8296، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7601، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2292، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3922، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16824، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2409» «رقم طبعة با وزير 6620»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 6654 in Urdu
عبد الله بن العباس القرشي ← أبو هريرة الدوسي