🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
511. ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6669
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَيْسِيُّ ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ ضُرَيْبِ بْنِ نُقَيْرٍ الْقَيْسِيِّ ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ : جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَتْلُو هَذِهِ الآيَةَ: وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ سورة الطلاق آية 3 - 3، قَالَ: فَجَعَلَ يُرَدِّدُهَا عَلَيَّ حَتَّى نَعَسْتُ، فَقَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ، لَوْ أَنَّ النَّاسَ كُلَّهُمْ أَخَذُوا بِهَا لَكَفَتْهُمْ"، ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ،" كَيْفَ تَصْنَعُ إِِذَا أُخْرِجْتَ مِنَ الْمَدِينَةِ؟ قُلْتُ: إِِلَى السَّعَةِ وَالدَّعَةِ أَكُونُ حَمَامًا مِنْ حَمَامِ مَكَّةَ، قَالَ: كَيْفَ تَصْنَعُ إِِذَا أُخْرِجْتَ مِنْ مَكَّةَ؟ قُلْتُ: إِِلَى السَّعَةِ وَالدَّعَةِ، إِِلَى أَرْضِ الشَّامِ وَالأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ، قَالَ: فَكَيْفَ تَصْنَعُ إِِذَا أُخْرِجْتَ مِنْهَا؟ قُلْتُ: إِِذًا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، آخُذُ سَيْفِي فَأَضَعُهُ عَلَى عَاتِقِي، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ، تَسْمَعُ وَتُطِيعُ، لِعَبْدٍ حَبَشِيٍّ مُجَدَّعٍ" .
سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں رونے لگی۔ انہوں نے دریافت کیا: تم کیوں رو رہی ہو۔ میں نے کہا: میں کیوں نہ روؤں؟ جبکہ آپ ایک ویرانے میں فوت ہونے لگے ہیں۔ میرے پاس
اتنا کپڑا نہیں ہے جو آپ کے کفن کے لئے کافی ہو تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نہ روؤ تمہارے لئے خوشخبری ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو، کچھ لوگوں کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جن میں، میں موجود تھا (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) تم لوگوں میں سے کسی ایک شخص کا انتقال ویرانے میں ہو گا لیکن اس کی نماز جنازہ میں اہل ایمان کا ایک گروہ شریک ہو گا۔
(سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) ان لوگوں میں سے ہر ایک شخص کا انتقال آبادی میں ہوا۔ صرف میں ویرانے میں مرنے لگا ہوں۔ اللہ کی قسم! نہ تو میں نے غلط بیانی کی ہے اور نہ ہی میرے ساتھ غلط بیانی کی گئی ہے تم راستے کا جائزہ لیتی رہو۔ سیدہ ام ذر نے عرض کی: اب تو حاجی رخصت ہو چکے ہیں اور راستے منقطع ہو چکے ہیں سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم جاؤ اور جا کے جائزہ لو۔ سیده ام ذر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں ٹیلے کی طرف آئی میں نے جائزہ لیا پھر میں ان کے پاس واپس آئی اور ان کی تیمارداری کرنے لگی۔ ابھی میں ان کی تیمارداری کر رہی تھی کہ اسی دوران کچھ لوگ اپنی سواریوں پر سوار ہو کر وہاں آ گئے۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ پرندے ہوں۔ وہ لوگ آئے اور میرے پاس آ کر ٹھہر گئے۔ انہوں نے دریافت کیا: اے اللہ کی کنیز تمہارا کیا معاملہ ہے۔ میں نے ان سے کہا: ایک مسلمان شخص فوت ہونے لگا ہے کیا تم لوگ اسے کفن دو گے۔ ان لوگوں نے دریافت کیا: وہ کون ہے؟ میں نے جواب دیا: سیدنا ابوذر، انہوں نے دریافت کیا: وہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں۔ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: تو ان لوگوں نے یہ کہا: ہمارے ماں باپ ان پر قربان ہوں پھر وہ تیزی سے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے انہیں خوش آمدید کہا:۔ یہ بات بتائی میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لوگوں کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ان لوگوں میں، میں بھی موجود تھا۔
تم میں سے کسی ایک شخص کا انتقال ویرانے میں ہو گا لیکن اس کے جنازے میں اہل ایمان کا ایک گروہ شریک ہو گا۔
(سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بتایا) ان تمام لوگوں میں سے ہر شخص کا انتقال کسی بستی میں یا لوگوں کے اجتماع میں ہوا۔ صرف میں ویرانے میں مرنے لگا ہوں تم لوگ یہ بات سن لو کہ اگر میرے پاس اتنا کپڑا ہوا جو میرے کفن کے لئے کافی ہوا یا میری بیوی کے پاس اتنا کپڑا ہوا تو مجھے صرف میرے یا میری بیوی کے کپڑے میں کفن دیا جائے تم لوگ یہ بات سن لو کہ میں تم لوگوں کو گواہ بنا کے یہ بات کہہ رہا ہوں کہ تم میں سے وہ شخص مجھے کفن نہ دے جو امیر ہو یا عریف ہو یا برید ہو یا نقیب ہو (یعنی کسی نہ کسی عہدے یا مرتبے پر فائز ہو)
(راوی بیان کرتے ہیں) وہاں موجود لوگوں میں سے کوئی بھی شخص ایسا نہیں تھا جو کسی نہ کسی عہدے پر نہ رہا ہو۔ صرف ایک انصاری نوجوان تھا۔ اس نے کہا: اے چچا جان میں آپ کو وہ کفن دوں گا اور وہ چیز شامل نہیں کروں گا جس کا آپ نے ذکر کیا ہے۔ میں آپ کو اپنی اس چادر میں کفن دوں گا اور ان دو کپڑوں میں دوں گا جو میں نے نیچے پہنے ہوئے ہیں جنہیں میری امی نے میرے لئے اپنے ہاتھوں سے کات کر دیا تھا تو اس انصاری نے ان لوگوں کی موجودگی میں سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو کفنایا جو لوگ وہاں موجود تھے ان میں سیدنا حجر بن ادبر اور مالک بن اشتر شامل تھے۔ یہ تمام لوگ یمن سے تعلق رکھتے تھے۔
[صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6669]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6634»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف لانقطاعه - «المشكاة» (5306).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف لانقطاعه

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو ذر الغفاري، أبو ذرصحابي
👤←👥ضريب بن نقير الجريري، أبو السليل
Newضريب بن نقير الجريري ← أبو ذر الغفاري
ثقة
👤←👥كهمس بن الحسن التيمي، أبو الحسن
Newكهمس بن الحسن التيمي ← ضريب بن نقير الجريري
ثقة
👤←👥النضر بن شميل المازني، أبو الحسن
Newالنضر بن شميل المازني ← كهمس بن الحسن التيمي
ثقة ثبت
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← النضر بن شميل المازني
ثقة حافظ إمام
👤←👥عبد الله بن محمد النيسابوري، أبو محمد
Newعبد الله بن محمد النيسابوري ← إسحاق بن راهويه المروزي
ثقة