🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
512. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن وصف موت أبي ذر الغفاري رحمة الله عليه-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ ابو ذر غفاری رحمة اللہ علیہ کی موت کی وصف
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6670
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ الأَشْتَرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ ذَرٍّ ، قَالَتْ: لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا ذَرٍّ الْوَفَاةُ بَكَيْتُ، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكِ؟ فَقُلْتُ: مَالِي لا أَبْكِي وَأَنْتَ تَمُوتُ بِفَلاةٍ مِنَ الأَرْضِ، وَلَيْسَ عِنْدِي ثَوْبٌ يَسَعُكَ كَفَنًا، قَالَ: فَلا تَبْكِي وَأَبْشِرِي، فإني سمعت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لِنَفَرٍ أَنَا فِيهِمْ: " لَيَمُوتَنَّ رَجُلٌ مِنْكُمْ بِفَلاةٍ مِنَ الأَرْضِ، يَشْهَدُهُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ" ، وَلَيْسَ مِنْ أُولَئِكَ النَّفْرِ أَحَدٌ إِِلا وَقَدْ هَلَكَ فِي قَرْيَةِ جَمَاعَةٍ، وَأَنَا الَّذِي أَمُوتُ بِفَلاةٍ، وَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلا كُذِبْتُ، فَأَبْصِرِي الطَّرِيقَ، قَالَتْ: وَأَنَّى وَقَدْ ذَهَبَ الْحَاجُّ وَانْقَطَعَتِ الطُّرُقُ، قَالَ: اذْهَبِي فَتَبَصَّرِي، قَالَتْ: فَكُنْتُ أَجِيءُ إِِلَى كَثِيبٍ فَأَتَبَصَّرُ، ثُمَّ أَرْجِعُ إِِلَيْهِ فَأُمَرِّضُهُ، فَبَيْنَمَا أَنَا كَذَلِكَ، إِِذَا أَنَا بِرِجَالٍ عَلَى رِحَالِهِمْ كَأَنَّهُمُ الرَّخَمُ، فَأَقْبَلُوا حَتَّى وَقَفُوا عَلَيَّ، وَقَالُوا: مَا لَكِ أَمَةَ اللَّهِ؟ قُلْتُ لَهُمُ: امْرُؤٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَمُوتُ، تُكَفِّنُونَهُ؟ قَالُوا: مَنْ هُوَ؟ فَقُلْتُ: أَبُو ذَرٍّ، قَالُوا: صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَفَدَّوْهُ بِآبَائِهِمْ وَأُمَّهَاتِهِمْ، وَأَسْرَعُوا إِِلَيْهِ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ، فَرَحَّبَ بِهِمْ، وَقَالَ: إِِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لِنَفَرٍ أَنَا فِيهِمْ:" لَيَمُوتَنَّ مِنْكُمْ رَجُلٌ بِفَلاةٍ مِنَ الأَرْضِ، يَشْهَدُهُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ"، وَلَيْسَ مِنْ أُولَئِكَ النَّفْرِ أَحَدٌ إِِلا هَلَكَ فِي قَرْيَةٍ وَجَمَاعَةٍ، وَأَنَا الَّذِي أَمُوتُ بِفَلاةٍ، أَنْتُمْ تَسْمَعُونَ إِِنَّهُ لَوْ كَانَ عِنْدِي ثَوْبٌ يَسَعُنِي كَفَنًَا لِي أَوْ لامْرَأَتِي، لَمْ أُكَفَّنْ إِِلا فِي ثَوْبٍ لِي أَوْ لَهَا، أَنْتُمْ تَسْمَعُونَ إِِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنْ يُكَفِّنَنِي رَجُلٌ مِنْكُمْ كَانَ أَمِيرًا أَوْ عَرِيفًا أَوْ بَرِيدًا أَوْ نَقِيبًا، فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ إِِلا قَارَفَ بَعْضَ ذَلِكَ إِِلا فَتًى مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ: يَا عَمِّ، أَنَا أُكَفِّنُكَ، لَمْ أُصِبْ مِمَّا ذَكَرْتَ شَيْئًا، أُكَفِّنُكَ فِي رِدَائِي هَذَا، وَفِي ثَوْبَيْنِ فِي عَيْبَتِي مِنْ غَزْلِ أُمِّي حَاكَتْهُمَا لِي، فَكَفَّنَهُ الأَنْصَارِيُّ فِي النَّفَرِ الَّذِينَ شَهِدُوهُ مِنْهُمْ حُجْرُ بْنُ الأَدْبَرِ، وَمَالِكُ بْنُ الأَشْتَرِ فِي نَفَرٍ كُلُّهُمْ يَمَانٍ.
سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں رونے لگی، انہوں نے دریافت کیا: تم کیوں رو رہی ہو؟ میں نے کہا: میں کیوں نہ روؤں؟ جبکہ آپ ایک ویرانے میں فوت ہونے لگے ہیں اور میرے پاس اتنا کپڑا نہیں ہے جو آپ کے کفن کے لیے کافی ہو، تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نہ روؤ، تمہارے لیے خوشخبری ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لوگوں سے یہ فرماتے ہوئے سنا، جن میں، میں بھی موجود تھا: تم لوگوں میں سے کسی ایک شخص کا انتقال ویرانے میں ہو گا لیکن اس کی نمازِ جنازہ میں اہل ایمان کا ایک گروہ شریک ہو گا۔ (سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) ان لوگوں میں سے ہر ایک شخص کا انتقال آبادی میں ہوا، صرف میں ویرانے میں مرنے لگا ہوں۔ اللہ کی قسم! نہ تو میں نے غلط بیانی کی ہے اور نہ ہی میرے ساتھ غلط بیانی کی گئی ہے، تم راستے کا جائزہ لیتی رہو۔ سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہا نے عرض کی: اب تو حاجی رخصت ہو چکے ہیں اور راستے منقطع ہو چکے ہیں، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم جاؤ اور جا کر جائزہ لو۔ سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں ٹیلے کی طرف آئی، میں نے جائزہ لیا، پھر میں ان کے پاس واپس آئی اور ان کی تیمارداری کرنے لگی۔ ابھی میں ان کی تیمارداری کر رہی تھی کہ اسی دوران کچھ لوگ اپنی سواریوں پر سوار ہو کر وہاں آ گئے، یوں لگتا تھا جیسے وہ پرندے ہوں، وہ لوگ آئے اور میرے پاس آ کر ٹھہر گئے، انہوں نے دریافت کیا: اے اللہ کی کنیز! تمہارا کیا معاملہ ہے؟ میں نے ان سے کہا: ایک مسلمان شخص فوت ہونے لگا ہے، کیا تم لوگ اسے کفن دو گے؟ ان لوگوں نے دریافت کیا: وہ کون ہے؟ میں نے جواب دیا: سیدنا ابوذر، انہوں نے دریافت کیا: وہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ تو ان لوگوں نے یہ کہا: ہمارے ماں باپ ان پر قربان ہوں، پھر وہ تیزی سے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے انہیں خوش آمدید کہا اور یہ بات بتائی: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لوگوں سے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا، ان لوگوں میں، میں بھی موجود تھا: تم میں سے کسی ایک شخص کا انتقال ویرانے میں ہو گا لیکن اس کے جنازے میں اہل ایمان کا ایک گروہ شریک ہو گا۔ (سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بتایا:) ان تمام لوگوں میں سے ہر شخص کا انتقال کسی بستی میں یا لوگوں کے اجتماع میں ہوا، صرف میں ویرانے میں مرنے لگا ہوں۔ تم لوگ یہ بات سن لو کہ اگر میرے پاس اتنا کپڑا ہوا جو میرے کفن کے لیے کافی ہو یا میری بیوی کے پاس اتنا کپڑا ہوا تو مجھے صرف میرے یا میری بیوی کے کپڑے میں کفن دیا جائے۔ تم لوگ یہ بات سن لو کہ میں تم لوگوں کو گواہ بنا کر یہ بات کہہ رہا ہوں کہ تم میں سے وہ شخص مجھے کفن نہ دے جو امیر ہو یا عریف ہو یا برید ہو یا نقیب ہو (یعنی کسی نہ کسی عہدے یا مرتبے پر فائز ہو)۔ (راوی بیان کرتے ہیں:) وہاں موجود لوگوں میں سے کوئی بھی شخص ایسا نہیں تھا جو کسی نہ کسی عہدے پر نہ رہا ہو، صرف ایک انصاری نوجوان تھا، اس نے کہا: اے چچا جان! میں آپ کو وہ کفن دوں گا اور وہ چیز شامل نہیں کروں گا جس کا آپ نے ذکر کیا ہے، میں آپ کو اپنی اس چادر میں کفن دوں گا اور ان دو کپڑوں میں دوں گا جو میں نے نیچے پہنے ہوئے ہیں جنہیں میری امی نے میرے لیے اپنے ہاتھوں سے کات کر دیا تھا۔ تو اس انصاری نے ان لوگوں کی موجودگی میں سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو کفنایا، جو لوگ وہاں موجود تھے ان میں سیدنا حجر بن ادبر اور مالک بن اشتر شامل تھے، یہ تمام لوگ یمن سے تعلق رکھتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6670]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6670، 6671، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5495، 5513، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21769، 21867، والبزار فى (مسنده) برقم: 4060» «رقم طبعة با وزير 6635»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «تيسير الانتفاع» / ترجمة أم ذر.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث قوي


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو ذر الغفاري، أبو ذرصحابي
👤←👥أم ذر، أم ذر
Newأم ذر ← أبو ذر الغفاري
مجهول الحال
👤←👥مالك بن الحارث النخعي
Newمالك بن الحارث النخعي ← أم ذر
له إدراك
👤←👥إبراهيم بن الأشتر النخعي
Newإبراهيم بن الأشتر النخعي ← مالك بن الحارث النخعي
مجهول الحال
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج
Newمجاهد بن جبر القرشي ← إبراهيم بن الأشتر النخعي
ثقة إمام في التفسير والعلم
👤←👥عبد الله بن عثمان القاري، أبو عثمان
Newعبد الله بن عثمان القاري ← مجاهد بن جبر القرشي
مقبول
👤←👥يحيى بن سليم الطائفي، أبو محمد، أبو زكريا
Newيحيى بن سليم الطائفي ← عبد الله بن عثمان القاري
صدوق سيئ الحفظ
👤←👥الحسن بن محمد الزعفراني، أبو علي
Newالحسن بن محمد الزعفراني ← يحيى بن سليم الطائفي
ثقة
👤←👥محمد بن إسحاق السراج، أبو العباس
Newمحمد بن إسحاق السراج ← الحسن بن محمد الزعفراني
حافظ ثقة
Sahih Ibn Hibban Hadith 6670 in Urdu