🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
513. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر إخبار المصطفى صلى الله عليه وسلم عن موت أبي ذر-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو ذر کی موت کی خبر دی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6671
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ الأَشْتَرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ ذَرٍّ ، قَالَتْ: ثُمَّ لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا ذَرٍّ الْوَفَاةُ بَكَيْتُ، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكِ؟ فَقُلْتُ: وَمَا لِيَ لا أَبْكِي وَأَنْتَ تَمُوتُ بِفَلاةٍ مِنَ الأَرْضِ، وَلَيْسَ عِنْدِي ثَوْبٌ يَسَعُكَ كَفَنًا، وَلا يَدَانِ لِي فِي تَغْيِيبِكَ، قَالَ: أَبْشِرِي وَلا تَبْكِي، فَإِِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لا يَمُوتُ بَيْنَ امْرَأَيْنِ مُسْلِمَيْنِ وَلَدَانِ أَوْ ثَلاثٌ، فَيَصْبِرَانِ وَيَحْتَسِبَانِ فَيَرَيَانِ النَّارَ أَبَدًا"، وَإِِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لِنَفَرٍ أَنَا فِيهِمْ:" لَيَمُوتَنَّ رَجُلٌ مِنْكُمْ بِفَلاةٍ مِنَ الأَرْضِ يَشْهَدُهُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ" ، وَلَيْسَ مِنْ أُولَئِكَ النَّفْرِ أَحَدٌ إِِلا وَقَدْ مَاتَ فِي قَرْيَةٍ وَجَمَاعَةٍ، فَأَنَا ذَلِكَ الرَّجُلُ، وَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلا كُذِبْتُ، فَأَبْصِرِي الطَّرِيقَ، فَقُلْتُ: أَنَّى وَقَدْ ذَهَبَتِ الْحَاجُّ وَتَقَطَّعَتِ الطُّرُقُ، فَقَالَ: اذْهَبِي فَتَبَصَّرِي، قَالَتْ: فَكُنْتُ أَشْتَدُّ إِِلَى الْكَثِيبِ أَتَبَصَّرُ، ثُمَّ أَرْجِعُ فَأُمَرِّضُهُ، فَبَيْنَمَا هُوَ وَأَنَا كَذَلِكَ، إِِذَا أَنَا بِرِجَالٍ عَلَى رَحْلِهِمْ كَأَنَّهُمُ الرَّخَمُ تَخُبُّ بِهِمْ رَوَاحِلُهُمْ، قَالَتْ: فَأَسْرَعُوا إِِلَيَّ حِينَ وَقَفُوا عَلَيَّ، فَقَالُوا: يَا أَمَةَ اللَّهِ، مَا لَكِ؟ قُلْتُ: امْرُؤٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَمُوتُ، فَتُكَفِّنُونَهُ؟ قَالُوا: وَمَنْ هُوَ؟ قَالَتْ: أَبُو ذَرٍّ، قَالُوا: صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَفَدَّوْهُ بِآبَائِهِمْ وَأُمَّهَاتِهِمْ، وَأَسْرَعُوا إِِلَيْهِ حَتَّى دَخَلُوا عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُمْ: أَبْشِرُوا، فَإِِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لِنَفَرٍ أَنَا فِيهِمْ:" لَيَمُوتَنَّ رَجُلٌ مِنْكُمْ بِفَلاةٍ مِنَ الأَرْضِ، يَشْهَدُهُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ"، وَلَيْسَ مِنْ أُولَئِكَ النَّفْرِ رَجُلٌ إِِلا وَقَدْ هَلَكَ فِي جَمَاعَةٍ، فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلا كُذِبْتُ، إِِنَّهُ لَوْ كَانَ عِنْدِي ثَوْبٌ يَسَعُنِي كَفَنًا لِي أَوْ لامْرَأَتِي، لَمْ أُكَفَّنْ إِِلا فِي ثَوْبٍ هُوَ لِي أَوْ لَهَا، إِِنِّي أُنْشِدُكُمُ اللَّهَ أَنْ لا يُكَفِّنَنِي رَجُلٌ مِنْكُمْ كَانَ أَمِيرًا أَوْ عَرِيفًا أَوْ بَرِيدًا أَوْ نَقِيبًا، فَلَيْسَ مِنْ أُولَئِكَ النَّفْرِ أَحَدٌ إِِلا وَقَدْ قَارَفَ بَعْضَ مَا قَالَ، إِِلا فَتًى مِنَ الأَنْصَارِ، قَالَ: أَنَا أُكَفِّنُكَ يَا عَمِّ، أُكَفِّنُكَ فِي رِدَائِي هَذَا، وَفِي ثَوْبَيْنِ فِي عَيْبَتِي مِنْ غَزْلِ أُمِّي، قَالَ: أَنْتَ فَكَفِّنْنِي، فَكَفَّنَهُ الأَنْصَارِيُّ فِي النَّفَرِ الَّذِينَ حَضَرُوا، وَقَامُوا عَلَيْهِ وَدَفَنُوهُ فِي نَفَرٍ كُلُّهُمْ يَمَانٍ.
سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں رونے لگی، انہوں نے دریافت کیا: تم کیوں رو رہی ہو؟ میں نے کہا: میں کیوں نہ روؤں جبکہ آپ ایک ویرانے میں وفات پانے لگے ہیں، میرے پاس اتنا کپڑا بھی نہیں ہے جو آپ کے کفن کے لیے کافی ہو اور آپ کی عدم موجودگی میں میرے لیے رہنا ممکن نہیں ہے، تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارے لیے خوشخبری ہے، تم نہ روؤ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جس بھی دو مسلمان (میاں بیوی) کے دو یا تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ دونوں صبر سے کام لیں اور ثواب کی امید رکھیں تو وہ کبھی بھی آگ کو نہیں دیکھیں گے (یعنی جہنم میں نہیں جائیں گے)۔ (سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بتایا) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین آدمیوں سے یہ فرماتے ہوئے سنا، جن میں میں بھی موجود تھا: تم میں سے کسی ایک شخص کا انتقال ضرور ویرانے میں ہوگا لیکن اس کی نمازِ جنازہ میں اہل ایمان کا ایک گروہ شریک ہوگا۔ (سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) ان لوگوں میں سے ہر شخص کا انتقال کسی بستی یا لوگوں کے درمیان ہوا، میں ان میں سے ایک شخص باقی رہ گیا ہوں۔ اللہ کی قسم! نہ تو میں نے غلط بیانی کی ہے اور نہ ہی میرے ساتھ غلط بیانی کی گئی ہے، تم اس کا جائزہ لیتی رہو۔ (سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں) میں نے کہا: اب تو حاجی رخصت ہو چکے ہیں، راستے منقطع ہو چکے ہیں، تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم جاؤ اور جا کے جائزہ لو۔ سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں تیزی سے چلتی ہوئی ٹیلے کی طرف گئی اور اس بات کا جائزہ لیا اور واپس آکر ان کی تیمارداری کرنے لگی۔ ابھی میں اور وہ اسی حالت میں تھے کہ اسی دوران کچھ لوگ اپنی سواریوں پر سوار ہو کر آئے، یوں جیسے وہ پرندے ہوں، ان کی سواریاں انہیں لے کر آئی تھیں۔ سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب وہ لوگ میرے پاس ٹھہرے تو تیزی سے میری طرف آئے، انہوں نے کہا: اے اللہ کی کنیز! تمہارا کیا معاملہ ہے؟ میں نے کہا: ایک مسلمان شخص کا انتقال ہونے لگا ہے، کیا آپ لوگ اسے کفن دیں گے؟ انہوں نے جواب دیا: وہ کون شخص ہے؟ اس خاتون نے جواب دیا: سیدنا ابوذر۔ ان لوگوں نے کہا: وہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ تو انہوں نے کہا: میرے ماں باپ ان پر قربان ہوں! پھر وہ تیزی سے چلتے ہوئے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے پاس آگئے اور ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: تم لوگوں کے لیے خوشخبری ہے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لوگوں سے یہ فرماتے ہوئے سنا جن میں میں بھی موجود تھا: تم میں سے ایک شخص ویرانے میں انتقال کرے گا اور اس کے جنازے میں اہل ایمان کا ایک گروہ شریک ہوگا۔ پھر سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (میرے علاوہ) ان میں سے ہر ایک شخص کا انتقال لوگوں کے درمیان ہوا (اب صرف میں باقی رہ گیا ہوں)۔ اللہ کی قسم! میں نے نہ تو غلط بیانی کی ہے اور نہ ہی میرے ساتھ غلط بیانی کی گئی۔ اگر میرے پاس اتنا کپڑا ہوتا جو میرے کفن کے لیے کافی ہوتا یا میری بیوی کے پاس اتنا کپڑا ہوتا تو صرف میرے یا میری بیوی کے کپڑے میں مجھے کفن دیا جاتا، میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں کہ تم میں سے وہ شخص مجھے کفن نہ دے جو امیر ہو یا عریف ہو یا برید ہو یا نقیب ہو (یعنی سرکاری اہل کار ہو)۔ تو وہاں موجود لوگوں میں سے کوئی شخص ایسا نہیں تھا جو ان میں سے کسی عہدے پر فائز نہ ہو، البتہ ایک انصاری نوجوان تھا، اس نے کہا: اے چچا جان! میں آپ کو کفن دوں گا، میں آپ کو اپنی اس چادر میں کفن دوں گا اور اپنے ان دو کپڑوں میں دوں گا جو میری والدہ نے میرے لیے تیار کیے تھے، تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم مجھے کفن دینا۔ تو اس انصاری نے وہاں موجود حاضرین کی موجودگی میں سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو کفن دیا اور ان کے (غسل وغیرہ) کے معاملات کی دیکھ بھال کی اور انہی لوگوں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو دفن کیا۔ ان سب کا تعلق یمن سے تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6671]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6670، 6671، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5495، 5513، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21769، 21867، والبزار فى (مسنده) برقم: 4060» «رقم طبعة با وزير 6636»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو ذر الغفاري، أبو ذرصحابي
👤←👥أم ذر، أم ذر
Newأم ذر ← أبو ذر الغفاري
مجهول الحال
👤←👥مالك بن الحارث النخعي
Newمالك بن الحارث النخعي ← أم ذر
له إدراك
👤←👥إبراهيم بن الأشتر النخعي
Newإبراهيم بن الأشتر النخعي ← مالك بن الحارث النخعي
مجهول الحال
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج
Newمجاهد بن جبر القرشي ← إبراهيم بن الأشتر النخعي
ثقة إمام في التفسير والعلم
👤←👥عبد الله بن عثمان القاري، أبو عثمان
Newعبد الله بن عثمان القاري ← مجاهد بن جبر القرشي
مقبول
👤←👥يحيى بن سليم الطائفي، أبو محمد، أبو زكريا
Newيحيى بن سليم الطائفي ← عبد الله بن عثمان القاري
صدوق سيئ الحفظ
👤←👥علي بن المديني، أبو الحسن
Newعلي بن المديني ← يحيى بن سليم الطائفي
ثقة ثبت إمام أعلم أهل عصره بالحديث وعلله
👤←👥الفضل بن الحباب الجمحي، أبو خليفة
Newالفضل بن الحباب الجمحي ← علي بن المديني
ثقة ثبت
Sahih Ibn Hibban Hadith 6671 in Urdu