صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
21. ذكر العلة التي من أجلها عاودت عائشة رسول الله صلى الله عليه وسلم في ذلك-
- ذکر وجہ کہ جس کی بنا پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوبارہ پوچھا
حدیث نمبر: 6874
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، مِنْ كِتَابِهِ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أبيه ، قَالَ: لَمَّا اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعَهُ، قَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ"، فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ، إِِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ، قَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ"، فَعَاوَدَتْهُ مِثْلَ مقَالَتِهَا، فَقَالَ: " إِِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ" ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ:" لَقَدْ عَاوَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ، وَمَا حَمَلَنِي عَلَى مُعَاوَدَتِهِ إِِلا أَنِّي خَشِيتُ أَنْ يَتَشَاءَمَ النَّاسُ بِأَبِي بَكْرٍ، وَعَلِمْتُ أَنَّهُ لَنْ يَقُومَ مَقَامَهُ أَحَدٌ إِِلا تَشَاءَمَ النَّاسُ بِهِ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ يَعْدِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ".
حمزہ بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف زیادہ ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک نرم دل آدمی ہیں جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو (تلاوت کی آواز) نہیں سنا سکیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی بات دہرائی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سیدنا یوسف علیہ السلام کے واقعہ والی خواتین کی طرح ہو، ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔
ابن شہاب بیان کرتے ہیں: عبداللہ بن عبداللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کیا جب میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بات دہرائی تو میں نے یہ بات دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس لیے دہرائی تھی کیونکہ مجھے یہ اندیشہ تھا کہ لوگ اس حوالے سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے الجھن محسوس کریں گے کیونکہ مجھے اس بات کا پتہ تھا کہ جو بھی شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ پر کھڑا ہو گا لوگ اس سے نحوست (الجھن) کا تاثر لیں گے اس لیے میری یہ خواہش ہوئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ہٹا دیں۔
[صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6874]
ابن شہاب بیان کرتے ہیں: عبداللہ بن عبداللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کیا جب میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بات دہرائی تو میں نے یہ بات دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس لیے دہرائی تھی کیونکہ مجھے یہ اندیشہ تھا کہ لوگ اس حوالے سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے الجھن محسوس کریں گے کیونکہ مجھے اس بات کا پتہ تھا کہ جو بھی شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ پر کھڑا ہو گا لوگ اس سے نحوست (الجھن) کا تاثر لیں گے اس لیے میری یہ خواہش ہوئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ہٹا دیں۔
[صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6874]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6835»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «تخريج فقه السيرة» (467): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
الرواة الحديث:
عبيد الله بن عبد الله الهذلي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق