صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
487. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عن البعث وأحوال الناس في ذلك اليوم - ذكر الإخبار عن وصف قلة أهل الجنة في كثرة أهل النار نعوذ بالله منها-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کے بارے میں کہ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور اس دن لوگوں کے حالات کیسے ہوں گے - ذکر اس خبر کا کہ اہل جنت کی تعداد اہل جہنم کی کثرت کے مقابلے میں کم ہوگی، ہم اللہ سے اس سے پناہ مانگتے ہیں
حدیث نمبر: 7354
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: نَزَلَتْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ فِي مَسِيرٍ لَهُ، فَرَفَعَ بِهَا صَوْتَهُ حَتَّى ثَابَ إِلَيْهِ أَصْحَابُهُ، ثُمَّ قَالَ:" أَتَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ يَوْمَ يَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا لآدَمَ: يَا آدَمُ، قُمْ فَابْعَثْ بَعْثَ النَّارِ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ، فَكَبُرَ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ"، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَدِّدُوا، وَقَارِبُوا، وَأَبْشِرُوا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ إِلا كَالشَّامَةِ فِي جَنْبِ الْبَعِيرِ، أَوْ كَالرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الدَّابَّةِ، وَإِنَّ مَعَكُمْ لَخَلِيقَتَيْنِ مَا كَانَتَا مَعَ شَيْءٍ قَطُّ إِلا كَثَّرَتَاهُ: يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَمَنْ هَلَكَ مِنْ كَفَرَةِ الْجِنِّ وَالإِنْسِ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرتے رہو، بے شک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے﴾ [سورة الحج: 1] ۔ یہ آیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سفر کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں اسے تلاوت کیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپ کے نزدیک آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہے؟ (یعنی قیامت کا دن کون سا دن ہے؟) اس دن اللہ تعالیٰ سیدنا آدم علیہ السلام سے فرمائے گا: اے آدم! اٹھو اور ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے لوگ جہنم میں ڈالنے کے لیے نکال لو۔“ (راوی کہتے ہیں) مسلمانوں کو یہ بات بہت شاق گزری، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ ٹھیک رہو، میانہ روی اختیار کرو اور یہ خوشخبری حاصل کرو، اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، لوگوں کے درمیان تمہاری مثال اس طرح ہے، جس طرح اونٹ کے پہلو پر نشان ہوتا ہے، یا جس طرح جانور کی ٹانگ پر نشان ہوتا ہے۔ تمہارے ساتھ دو طرح کی مخلوق ہے، یہ دونوں جس کے ساتھ بھی مل جائیں گے اس کی تعداد کو زیادہ کر دیں گے، وہ یاجوج ماجوج اور ہلاک ہو جانے والے کافر جنات اور انسان ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7354]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 7354، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 80، 8789، 8790، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 3122، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 1187» «رقم طبعة با وزير 7310»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الترمذي» (3168): ق - أبي سعيد. تنبيه هام!! وضع الناشر كلمة [وَالإِنْسِ] بين معقوفتين وقال: سقط هذا الحرف من «الأصل»، واستدركناه من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 7354 in Urdu
قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري