صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
160. باب قراءة القرآن - ذكر البيان بأن القرآن يرتفع به أقوام ويتضع به آخرون على حسب نياتهم في قراءتهم
قرآن کی تلاوت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ قرآن بعض اقوام کو بلند کرتا ہے اور بعض کو ان کی نیتوں کے مطابق پست کرتا ہے
حدیث نمبر: 772
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الطُّفَيْلِ عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْحَارِثِ ، تَلَقَّى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ إِلَى عُسْفَانَ، وَكَانَ نَافِعٌ عَامِلا لِعُمَرَ عَلَى مَكَّةَ، فَقَالَ عُمَرُ: مَنِ اسْتَخْلَفْتَ عَلَى أَهْلِ الْوَادِي؟ يَعْنِي أَهْلَ مَكَّةَ، قَالَ: ابْنَ أَبْزَى، قَالَ: وَمَنِ ابْنُ أَبْزَى؟ قَالَ: رَجُلٌ مِنَ الْمَوَالِي، قَالَ عُمَرُ : اسْتَخْلَفْتَ عَلَيْهِمْ مَوْلًى؟! فَقَالَ لَهُ: إِنَّهُ قَارِئٌ لِكِتَابِ اللَّهِ، فَقَالَ: أَمَا إِنَّ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ لَيَرْفَعُ بِهَذَا الْقُرْآنِ أَقْوَامًا، وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ" .
ابوطفیل بیان کرتے ہیں: نافع بن عبدالحارث کی ملاقات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ”عسفان“ کے مقام پر ہوئی، نافع سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے مکہ مکرمہ کے گورنر تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”تم نے اپنے پیچھے کس کو مکہ میں اپنا نائب مقرر کیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ابن ابزی کو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”ابن ابزی کون ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ایک آزاد کردہ غلام ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم نے ان لوگوں پر اپنا ایک آزاد کردہ غلام نائب بنا دیا ہے؟“ تو نافع نے ان سے گزارش کی کہ وہ اللہ کی کتاب کا عالم ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”بے شک اللہ تعالیٰ اس قرآن کی وجہ سے کچھ لوگوں کو سربلندی عطا فرمائے گا اور کچھ دوسرے لوگوں کو پستی عطا کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 772]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 817، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 772، والدارمي فى (مسنده) برقم: 3408، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 218، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5205، وأحمد فى (مسنده) برقم: 237» «رقم طبعة با وزير 769»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2239)، «تخريج المختارة»: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح، ابن أبي السري - هو محمد بن المتوكل وإن كان في حفظ شيء - متابع، وباقي رجاله ثقات رجال الشيخين غير نافع، فمن رجال مسلم.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 772 in Urdu
نافع بن عبد الحارث الخزاعي ← عمر بن الخطاب العدوي