المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
34. أدعية صلاة الجنازة
نمازِ جنازہ کی دعاؤں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1344
حدثنا أبو محمد عبد العزيز بن عبد الرحمن الخَلَّال بمكة، حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق الكاتب، حدثنا إبراهيم بن المنذر الحِزَامي، حدثنا الحسين بن زيد بن علي بن الحسين بن علي، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن يزيد بن عبد الله بن رُكَانة بن المطَّلِب قال: كان رسول الله ﷺ إذا قام للجنازةِ ليُصلِّيَ عليها قال:"اللهمَّ عبدُك وابنُ أَمَتِك، احتاجَ إلى رَحمتِك، وأنت غنيٌ عن عذابِه، إن كان مُحسنًا فزِدْ في إحسانِه، وإن كان مُسيئًا فتجاوَزْ عنه" (1) . هذا إسناد صحيح، ويزيد بن رُكَانة وأبوه رُكانةُ بن عبد يزيد صحابيان من بني المطَّلب بن عبد مناف، ولم يُخرجاه.
یزید بن عبداللہ بن رکانہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے جنازے کے سامنے کھڑے ہوتے تو یہ دعا فرماتے تھے: «اللَّهُمَّ عَبْدُكَ وَابْنُ أَمَتِكَ، احْتَاجَ إِلَى رَحْمَتِكَ، وَأَنْتَ غَنِيٌّ عَنْ عَذَابِهِ، إِنْ كَانَ مُحْسِنًا فَزِدْ فِي إِحْسَانِهِ، وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا فَتَجَاوَزْ عَنْهُ» ”اے اللہ! یہ تیرا بندہ اور تیری لونڈی کا بیٹا ہے، تیری رحمت کا محتاج ہے اور تو اسے عذاب دینے سے بے نیاز ہے۔ اگر یہ نیکوکار تھا تو اس کی نیکیوں میں اضافہ فرما اور اگر گناہگار تھا تو اس سے درگزر فرما۔“
یہ اسناد صحیح ہے، اور یزید بن رکانہ اور ان کے والد رکانہ بن عبد یزید دونوں بنو مطلب بن عبد مناف سے تعلق رکھنے والے صحابی ہیں، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1344]
یہ اسناد صحیح ہے، اور یزید بن رکانہ اور ان کے والد رکانہ بن عبد یزید دونوں بنو مطلب بن عبد مناف سے تعلق رکھنے والے صحابی ہیں، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1344]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1344 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده فيه لين، الحسين بن زيد بن علي ضعفه ابن معين وابن المديني وأبو حاتم، ووثقه الدارقطني، وقال ابن حجر في "التقريب": صدوق ربما أخطأ، وعبد الرحمن بن إسحاق الكاتب لم نتبينه، ولم نقف له على ترجمة، ولم يرو عنه غير عبد العزيز بن عبد الرحمن الدباس، وقد كناه المصنف في "معرفة علوم الحديث" ص 169: أبا محمد، ونسبه كما في "معرفة السنن والآثار" (2750): المزني، ولكنه مع هذا متابع. جعفر بن محمد: هو ابن علي ابن الحسين بن علي بن أبي طالب، وأبو محمد: هو أبو جعفر الباقر. وقد سمَّى المصنِّف صحابيه هنا: يزيد بن عبد الله بن ركانة، وهو وهم منه ﵀، صوابه: يزيد بن ركانة بن عبد يزيد بن المطلب، كذا في مصادر ترجمته ومصادر التخريج وكذا سماه المصنِّف نفسه بإثر هذا الحديث. وبسبب هذا الوهم فقد وهم أيضًا الحافظ ابن حجر فذكره بهذا الاسم في "الإصابة" 6/ 717 (9456) وقال: ذكره بعضهم في الصحابة لحديث أرسله، أخرجه البيهقي في "الدعوات" … فذكر هذا الحديث.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس سند میں کچھ کمزوری (لین) ہے۔ حسین بن زید کو ابن معین وغیرہ نے ضعیف کہا ہے جبکہ حافظ ابن حجر کے نزدیک وہ "صدوق" ہیں۔ اس میں راوی کا نام "یزید بن عبداللہ بن رکانہ" لکھا گیا ہے جو حاکم کا وہم ہے، درست نام "یزید بن رکانہ" ہے۔ امام ابوحاتم نے اس حدیث کو "منکر" (بے اصل) کہا ہے۔
وأخرجه البيهقي في "الدعوات الكبير" (630) عن أبي عبد الله الحاكم بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "الدعوات الکبیر" (630) میں حاکم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (444)، وابن قانع في "معجم الصحابة" 3/ 222 - 223، والطبراني في "الكبير" 22/ (647)، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (2616) من طريق يعقوب بن حميد بن كاسب وابن قانع 3/ 223 من طريق أبي مصعب الزهري، واسمه: أحمد بن أبي بكر، كلاهما عن الحسين بن زيد بن علي، به. وسأل ابن أبي حاتم في "العلل" (472) أباه عن حديث أبي مصعب الزهري هذا، فقال: هذا حديث منكر لا أصل له.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی عاصم، ابن قانع، طبرانی اور ابونعیم نے یعقوب بن حمید کے طریق سے روایت کیا ہے۔ ابوحاتم نے اسے منکر کہا۔
قلنا: بل له شاهد صحيح موقوف على أبي هريرة يدل على أنَّ له أصلًا، أخرجه مالك في "الموطأ" 1/ 228 عن سعيد بن أبي سعيد المقبري، عن أبيه، أنه سأل أبا هريرة: كيف تصلي على الجنازة؟ فقال أبو هريرة أنا لعَمْرُ الله أخبرك، أتبعها من أهلها، فإذا وُضعت كبَّرَتُ وحمدتُ الله وصليتُ على نبيه، ثم أقول: اللهم إنه عبدك وابنُ عبدك وابن أمتك، كان يشهد ¤ ¤ أن لا إله إلّا أنت، وأن محمدًا عبدك ورسولك، وأنت أعلم به، اللهم إن كان محسنًا فزد في إحسانه، وإن كان كان مسيئًا فتجاوز عن سيئاته، اللهم لا تحرمنا أجره، ولا تفتنّا بعده.
🧩 متابعات و شواہد: لیکن اس کا ایک صحیح شاہد ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر موقوف مروی ہے (موطأ مالک 228/1)، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دعا کی کوئی اصل موجود ہے۔ (دعا: اللہم انہ عبدک وابن عبدک...)