المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
34. أدعية صلاة الجنازة
نمازِ جنازہ کی دعاؤں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1343
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سِنَان القَزَّاز، حدثنا عمر بن يونُس بن القاسم اليَمَامي، حدثنا عكرمة بن عمَّار، عن يحيى بن أبي كثير، حدثني أبو سَلَمة بن عبد الرحمن، قال: سألتُ عائشةَ أُمّ المؤمنين: كيف كانت صلاةُ رسول الله ﷺ على الميِّت؟ قالت: كان يقول:"اللهمَّ اغفِرْ لحيِّنا وميِّتِنا، وذَكَرِنا وأُنثانا، وشاهدِنا وغائبِنا وصغيرِنا وكبيرِنا، اللهمَّ من أحيَيْتَه منَّا فأحْيِه على الإسلام، ومَن توفَّيْتَه فتوفَّه على الإيمان" (2) .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میت پر نماز (کی دعا) اس طرح تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ» ”اے اللہ! ہمارے زندوں اور ہمارے مردوں، ہمارے مردوں اور ہماری عورتوں، ہمارے حاضر اور ہمارے غائب، اور ہمارے چھوٹوں اور ہمارے بڑوں کی مغفرت فرما۔ اے اللہ! تو ہم میں سے جسے زندہ رکھے اسے اسلام پر زندہ رکھ اور جسے موت دے اسے ایمان پر موت دے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1343]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1343 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف، عكرمة بن عمار ضعفه الأئمة في روايته عن يحيى بن أبي كثير لاضطرابه فيها، وهذا منها، ومحمد بن سنان القزاز مختلف فيه إلّا أنه متابع هنا. وقد اختلف في هذا الإسناد اختلافًا كبيرًا كالذي قبله.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) سند ضعیف ہے؛ عکرمہ بن عمار کی یحییٰ بن ابی کثیر سے روایات میں اضطراب کی وجہ سے ائمہ نے انہیں ضعیف کہا ہے۔ محمد بن سنان القزاز میں بھی اختلاف ہے مگر ان کی یہاں متابعت موجود ہے۔
وأخرجه الطحاوي في "شرح مشكل الآثار" (972)، والنسائي (10851) من طرق عن عمر بن يونس اليمامي، بهذا الإسناد. قال الترمذي بإثر الحديث (1024): حديث عكرمة بن عمار غير محفوظ، وعكرمة ربما يهم في حديث يحيى.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طحاوی اور نسائی نے عمر بن یونس الیمامی کی سند سے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے کہا کہ عکرمہ بن عمار کی یہ روایت محفوظ نہیں ہے۔