المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
34. أَدْعِيَةُ صَلَاةِ الْجِنَازَةِ
نمازِ جنازہ کی دعاؤں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1342
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيه، حدثنا الحسن بن علي بن شَبِيب المَعمَري، حدثنا الحَكَم بن موسى، حدثنا هِقْل بن زياد، عن الأوزاعي، حدثني يحيى بن أبي كَثير، حدثني أبو سَلَمة، عن أبي هريرة: أنَّ رسول الله ﷺ كان إذا صلَّى على جنازةٍ قال:"اللهمَّ اغفِرْ لحيِّنا وميِّتنا، وشاهدِنا وغائبِنا، وصغيرِنا وكبيرِنا، وذَكَرِنا وأُنثانا، اللهمَّ من أحييتَه منّا فأحْيِه على الإسلام، ومن تَوفَّيتَه منا فتوفَّه على الإيمان" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه! وله شاهد صحيح على شرط مسلم (1) :
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه! وله شاهد صحيح على شرط مسلم (1) :
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنازہ پڑھاتے تو یہ دعا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا، اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ» ”اے اللہ! ہمارے زندوں اور ہمارے مردوں، ہمارے حاضر اور ہمارے غائب، ہمارے چھوٹوں اور ہمارے بڑوں، اور ہمارے مردوں اور ہماری عورتوں کی مغفرت فرما۔ اے اللہ! تو ہم میں سے جسے زندہ رکھے اسے اسلام پر زندہ رکھ اور جسے موت دے اسے ایمان پر موت دے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا! جبکہ اس کی ایک صحیح شاہد حدیث امام مسلم کی شرط پر درج ذیل ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1342]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا! جبکہ اس کی ایک صحیح شاہد حدیث امام مسلم کی شرط پر درج ذیل ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1342]
حدیث نمبر: 1343
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سِنَان القَزَّاز، حدثنا عمر بن يونُس بن القاسم اليَمَامي، حدثنا عكرمة بن عمَّار، عن يحيى بن أبي كثير، حدثني أبو سَلَمة بن عبد الرحمن، قال: سألتُ عائشةَ أُمّ المؤمنين: كيف كانت صلاةُ رسول الله ﷺ على الميِّت؟ قالت: كان يقول:"اللهمَّ اغفِرْ لحيِّنا وميِّتِنا، وذَكَرِنا وأُنثانا، وشاهدِنا وغائبِنا وصغيرِنا وكبيرِنا، اللهمَّ من أحيَيْتَه منَّا فأحْيِه على الإسلام، ومَن توفَّيْتَه فتوفَّه على الإيمان" (2) .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میت پر نماز (کی دعا) اس طرح تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ» ”اے اللہ! ہمارے زندوں اور ہمارے مردوں، ہمارے مردوں اور ہماری عورتوں، ہمارے حاضر اور ہمارے غائب، اور ہمارے چھوٹوں اور ہمارے بڑوں کی مغفرت فرما۔ اے اللہ! تو ہم میں سے جسے زندہ رکھے اسے اسلام پر زندہ رکھ اور جسے موت دے اسے ایمان پر موت دے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1343]
حدیث نمبر: 1344
حدثنا أبو محمد عبد العزيز بن عبد الرحمن الخَلَّال بمكة، حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق الكاتب، حدثنا إبراهيم بن المنذر الحِزَامي، حدثنا الحسين بن زيد بن علي بن الحسين بن علي، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن يزيد بن عبد الله بن رُكَانة بن المطَّلِب قال: كان رسول الله ﷺ إذا قام للجنازةِ ليُصلِّيَ عليها قال:"اللهمَّ عبدُك وابنُ أَمَتِك، احتاجَ إلى رَحمتِك، وأنت غنيٌ عن عذابِه، إن كان مُحسنًا فزِدْ في إحسانِه، وإن كان مُسيئًا فتجاوَزْ عنه" (1) . هذا إسناد صحيح، ويزيد بن رُكَانة وأبوه رُكانةُ بن عبد يزيد صحابيان من بني المطَّلب بن عبد مناف، ولم يُخرجاه.
یزید بن عبداللہ بن رکانہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے جنازے کے سامنے کھڑے ہوتے تو یہ دعا فرماتے تھے: «اللَّهُمَّ عَبْدُكَ وَابْنُ أَمَتِكَ، احْتَاجَ إِلَى رَحْمَتِكَ، وَأَنْتَ غَنِيٌّ عَنْ عَذَابِهِ، إِنْ كَانَ مُحْسِنًا فَزِدْ فِي إِحْسَانِهِ، وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا فَتَجَاوَزْ عَنْهُ» ”اے اللہ! یہ تیرا بندہ اور تیری لونڈی کا بیٹا ہے، تیری رحمت کا محتاج ہے اور تو اسے عذاب دینے سے بے نیاز ہے۔ اگر یہ نیکوکار تھا تو اس کی نیکیوں میں اضافہ فرما اور اگر گناہگار تھا تو اس سے درگزر فرما۔“
یہ اسناد صحیح ہے، اور یزید بن رکانہ اور ان کے والد رکانہ بن عبد یزید دونوں بنو مطلب بن عبد مناف سے تعلق رکھنے والے صحابی ہیں، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1344]
یہ اسناد صحیح ہے، اور یزید بن رکانہ اور ان کے والد رکانہ بن عبد یزید دونوں بنو مطلب بن عبد مناف سے تعلق رکھنے والے صحابی ہیں، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1344]
حدیث نمبر: 1345
أخبرنا أبو النضر الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارمي، حدثنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا موسى بن يعقوب الزَّمْعي، حدثني شُرَحْبيل بن سعد قال: حضرتُ عبدَ الله بن عباس صلَّى بنا على جنازة بالأبواء، فكبَّر، ثم اقتَرأَ بأُم القرآن رافعًا صوته بها، ثم صلَّى على النبي ﷺ، ثم قال: اللهمَّ عبدُك وابنُ عبدك، وابنُ أَمتَك، يشهدُ أن لا إله إلّا أنت، وحدَكَ لا شَريك لك، ويشهدُ أنَّ محمدًا عبدُك ورسولُك، أَصبح فقيرًا إلى رحمتك، وأصبحتَ غنيًا عن عذابِه، تَخلَّى من الدنيا وأهلِها، إن كان زاكيًا فزَكِّه، وإن كان مخطئًا فاغفرْ له، اللهمَّ لا تَحرِمنا أجرَه، ولا تُضلَّنا بعده، ثم كبَّر ثلاثَ تكبيرات، ثم انصرَفَ، فقال: يا أيها الناس، إنِّي لم أقرأ علنًا إلّا لتَعْلَموا أنها السُّنة (1) . لم يَحتجَّ الشيخان بشُرَحْبيل بن سعد، وهو من تابِعِي أهل المدينة، وإنما أخرجتُ هذا الحديث شاهدًا للأحاديث التي قدَّمنا، فإنها مختصرةٌ مجمَلة، و
هذا حديث مفسَّر.
هذا حديث مفسَّر.
شرحبیل بن سعد بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا، انہوں نے مقام ابواء میں ہمیں جنازہ پڑھایا، تکبیر کہی، پھر بلند آواز سے سورہ فاتحہ پڑھی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا، پھر یہ دعا کی: «اللَّهُمَّ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ، وَابْنُ أَمَتِكَ، يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، وَيَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، أَصْبَحَ فَقِيرًا إِلَى رَحْمَتِكَ، وَأَصْبَحْتَ غَنِيًّا عَنْ عَذَابِهِ، تَخَلَّى مِنَ الدُّنْيَا وَأَهْلِهَا، إِنْ كَانَ زَاكِيًا فَزَكِّهِ، وَإِنْ كَانَ مُخْطِئًا فَاغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ» ”اے اللہ! یہ تیرا بندہ، تیرے بندے کا بیٹا اور تیری لونڈی کا بیٹا ہے، یہ گواہی دیتا ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو تنہا ہے تیرا کوئی شریک نہیں، اور یہ گواہی دیتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں۔ یہ تیری رحمت کا محتاج ہو چکا ہے اور تو اسے عذاب دینے سے بے نیاز ہے۔ یہ دنیا اور اہل دنیا کو چھوڑ آیا ہے، اگر یہ پاکیزہ (نیک) تھا تو اسے مزید پاکیزگی عطا فرما اور اگر خطا کار تھا تو اسے بخش دے۔ اے اللہ! ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ فرما اور اس کے بعد ہمیں گمراہی میں نہ ڈال“، پھر انہوں نے مزید تین تکبیریں کہیں، پھر فارغ ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! میں نے بلند آواز سے (سورہ فاتحہ) صرف اس لیے پڑھی ہے تاکہ تم جان لو کہ یہ سنت ہے۔“
شیخین نے شرحبیل بن سعد سے احتجاج نہیں کیا جو کہ اہل مدینہ کے تابعین میں سے ہیں، میں نے یہ حدیث محض ان احادیث کے لیے شاہد کے طور پر پیش کی ہے جو ہم نے پہلے ذکر کیں، کیونکہ وہ مختصر اور مجمل تھیں جبکہ یہ حدیث مفصل اور واضح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1345]
شیخین نے شرحبیل بن سعد سے احتجاج نہیں کیا جو کہ اہل مدینہ کے تابعین میں سے ہیں، میں نے یہ حدیث محض ان احادیث کے لیے شاہد کے طور پر پیش کی ہے جو ہم نے پہلے ذکر کیں، کیونکہ وہ مختصر اور مجمل تھیں جبکہ یہ حدیث مفصل اور واضح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1345]
حدیث نمبر: 1346
حدثنا علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا محمد بن مَندَهْ، حدثنا بكر بن بَكَّار. وأخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس. وحدثنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر؛ قالوا: حدثنا شُعبة، عن إبراهيم الهَجَري، عن عبد الله بن أبي أوفَى، قال: تُوفِّيتْ بنتٌ له، فتَبِعها على بغلةٍ يمشي خلفَ الجنازة، ونساءٌ يَرْثِينَها، فقال: يَرثِينَ أو لا يَرثينَ، فإنَّ رسول الله له نهى عن المَرَاثي، ولْتُفِضْ إحداكنَّ من عَبْرَتِها ما شاءَت. ثم صلَّى عليها، فكبَّر عليها أربعًا، ثم قام بعد الرابعة قَدْرَ ما بينَ التكبيرتين يستغفرُ لها ويدعو، وقال: كان رسولُ الله ﷺ يَصنَعُ هكذا (1) .
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه، وإبراهيم بن مُسْلم الهَجَري لم يُنقَم عليه بحُجَّة.
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه، وإبراهيم بن مُسْلم الهَجَري لم يُنقَم عليه بحُجَّة.
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی ایک بیٹی کا انتقال ہوا، تو وہ خچر پر سوار ہو کر جنازے کے پیچھے چلے جبکہ عورتیں بین (مراثی) کر رہی تھیں، انہوں نے فرمایا: ”تم بین کرو یا نہ کرو، یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بین کرنے سے منع فرمایا ہے، البتہ تم میں سے جو چاہے اپنے آنسو بہا سکتی ہے۔“ پھر انہوں نے جنازہ پڑھایا اور چار تکبیریں کہیں، چوتھی تکبیر کے بعد وہ دو تکبیروں کے درمیانی وقفے کے برابر کھڑے رہے اور اس (اپنی بیٹی) کے لیے دعا و استغفار کرتے رہے، اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کیا کرتے تھے۔
یہ حدیث صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور ابراہیم بن مسلم ہجری پر کسی معقول دلیل کے ساتھ جرح نہیں کی گئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1346]
یہ حدیث صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور ابراہیم بن مسلم ہجری پر کسی معقول دلیل کے ساتھ جرح نہیں کی گئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1346]
حدیث نمبر: 1347
أخبرنا إسماعيل بن أحمد التاجر، حدثنا محمد بن الحسين العَسْقَلاني، حدثنا حَرْمَلة بن يحيى، حدثنا ابن وَهْب أخبرني يونس، عن ابن شِهاب، قال: أخبرني أبو أُمامة بن سَهْل بن حُنَيف - وكان من كُبَراء الأنصار وعلمائِهم وأبناءِ الذين شهدوا بدرًا مع رسول الله ﷺ أخبره رجالٌ من أصحاب رسول الله ﷺ في الصلاة على الجنازة: أن يُكبِّر الإمام، ثم يُصلِّيَ على النبي ﷺ ويُخلِصَ الصلاةَ في التكبيرات الثلاث، ثم يُسلِّمَ تسليمًا خفيًا حين ينصرف، والسُّنة أن يفعل مَن وراءَه مثلَ ما فعل إمامُه. قال الزُّهري: حدثني بذلك أبو أمامة وابنُ المسيّب يَسمَع، فلم يُنكِر ذلك عليه. قال ابن شهاب: فذكرتُ الذي أخبرني أبو أُمامة من السُّنة في الصلاة على الميت لمحمد بن سُوَيد، قال: وأنا سمعتُ الضَّحَّاك بن قيس يحدِّث عن حَبِيب بن مَسْلَمة في صلاةٍ صلّاها على الميت مثلَ الذي حدَّثَنا أبو أمامة (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وليس في التَّسليمة الواحدة على الجنازة أصحُّ منه. وشاهده حديث أبي العَنْبَس سعيدِ بن كَثِير:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وليس في التَّسليمة الواحدة على الجنازة أصحُّ منه. وشاهده حديث أبي العَنْبَس سعيدِ بن كَثِير:
ابوامامہ بن سہل بن حنیف بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر اصحاب نے انہیں جنازے کی نماز کے بارے میں بتایا کہ: ”امام تکبیر کہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے، پھر اگلی تین تکبیروں میں (میت کے لیے) مخلصانہ دعا کرے، پھر فارغ ہوتے وقت دبی آواز میں سلام پھیر دے، اور سنت یہ ہے کہ مقتدی بھی وہی کچھ کرے جو اس کے امام نے کیا۔“ زہری کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات ابوامامہ نے بتائی جبکہ سعید بن مسیب سن رہے تھے اور انہوں نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ میں نے ابوامامہ سے مروی جنازے کی نماز کی یہ سنت محمد بن سوید سے ذکر کی تو انہوں نے کہا کہ میں نے بھی ضحاک بن قیس کو حبیب بن مسلمہ سے ایک جنازے کی نماز کے بارے میں اسی طرح کی بات بیان کرتے ہوئے سنا تھا جیسے ابوامامہ نے ہمیں بتائی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور جنازے پر ایک سلام کے بارے میں اس سے زیادہ صحیح کوئی روایت نہیں ہے۔ اس کی شاہد ابو عنبس سعید بن کثیر کی درج ذیل حدیث ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1347]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور جنازے پر ایک سلام کے بارے میں اس سے زیادہ صحیح کوئی روایت نہیں ہے۔ اس کی شاہد ابو عنبس سعید بن کثیر کی درج ذیل حدیث ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1347]
حدیث نمبر: 1348
حدَّثَناه أبو بكر بن أبي دارِم، الحافظ، حدثنا عبد الله بن غنَّام بن حفص بن غِيَاث حدثني أبي، عن أبيه، عن أبي العَنْبَس، عن أبيه، عن أبي هريرة: أن رسول الله ﷺ صلى على جنازةٍ، فكبر عليها أربعًا، وسلَّم تسليمةً (1) . التّسليمةُ الواحدة على الجنازة قد صحَّت الروايةُ فيه عن علي بن أبي طالب، وعبد الله بن عمر، وعبد الله بن عباس، وجابر بن عبد الله، وعبد الله بن أبي أوْفَى، وأبي هريرةَ: أنهم كانوا يُسلمون على الجنازة تسليمةً واحدة (1) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ پڑھایا، اس پر چار تکبیریں کہیں اور ایک سلام پھیرا۔
جنازے پر ایک سلام پھیرنا سیدنا علی بن ابی طالب، سیدنا عبداللہ بن عمر، سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدنا جابر بن عبداللہ، سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے صحیح روایات کے ساتھ ثابت ہے کہ وہ جنازے پر ایک ہی سلام پھیرا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1348]
جنازے پر ایک سلام پھیرنا سیدنا علی بن ابی طالب، سیدنا عبداللہ بن عمر، سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدنا جابر بن عبداللہ، سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے صحیح روایات کے ساتھ ثابت ہے کہ وہ جنازے پر ایک ہی سلام پھیرا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1348]