المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
34. أدعية صلاة الجنازة
نمازِ جنازہ کی دعاؤں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1347
أخبرنا إسماعيل بن أحمد التاجر، حدثنا محمد بن الحسين العَسْقَلاني، حدثنا حَرْمَلة بن يحيى، حدثنا ابن وَهْب أخبرني يونس، عن ابن شِهاب، قال: أخبرني أبو أُمامة بن سَهْل بن حُنَيف - وكان من كُبَراء الأنصار وعلمائِهم وأبناءِ الذين شهدوا بدرًا مع رسول الله ﷺ أخبره رجالٌ من أصحاب رسول الله ﷺ في الصلاة على الجنازة: أن يُكبِّر الإمام، ثم يُصلِّيَ على النبي ﷺ ويُخلِصَ الصلاةَ في التكبيرات الثلاث، ثم يُسلِّمَ تسليمًا خفيًا حين ينصرف، والسُّنة أن يفعل مَن وراءَه مثلَ ما فعل إمامُه. قال الزُّهري: حدثني بذلك أبو أمامة وابنُ المسيّب يَسمَع، فلم يُنكِر ذلك عليه. قال ابن شهاب: فذكرتُ الذي أخبرني أبو أُمامة من السُّنة في الصلاة على الميت لمحمد بن سُوَيد، قال: وأنا سمعتُ الضَّحَّاك بن قيس يحدِّث عن حَبِيب بن مَسْلَمة في صلاةٍ صلّاها على الميت مثلَ الذي حدَّثَنا أبو أمامة (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وليس في التَّسليمة الواحدة على الجنازة أصحُّ منه. وشاهده حديث أبي العَنْبَس سعيدِ بن كَثِير:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وليس في التَّسليمة الواحدة على الجنازة أصحُّ منه. وشاهده حديث أبي العَنْبَس سعيدِ بن كَثِير:
ابوامامہ بن سہل بن حنیف بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر اصحاب نے انہیں جنازے کی نماز کے بارے میں بتایا کہ: ”امام تکبیر کہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے، پھر اگلی تین تکبیروں میں (میت کے لیے) مخلصانہ دعا کرے، پھر فارغ ہوتے وقت دبی آواز میں سلام پھیر دے، اور سنت یہ ہے کہ مقتدی بھی وہی کچھ کرے جو اس کے امام نے کیا۔“ زہری کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات ابوامامہ نے بتائی جبکہ سعید بن مسیب سن رہے تھے اور انہوں نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ میں نے ابوامامہ سے مروی جنازے کی نماز کی یہ سنت محمد بن سوید سے ذکر کی تو انہوں نے کہا کہ میں نے بھی ضحاک بن قیس کو حبیب بن مسلمہ سے ایک جنازے کی نماز کے بارے میں اسی طرح کی بات بیان کرتے ہوئے سنا تھا جیسے ابوامامہ نے ہمیں بتائی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور جنازے پر ایک سلام کے بارے میں اس سے زیادہ صحیح کوئی روایت نہیں ہے۔ اس کی شاہد ابو عنبس سعید بن کثیر کی درج ذیل حدیث ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1347]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور جنازے پر ایک سلام کے بارے میں اس سے زیادہ صحیح کوئی روایت نہیں ہے۔ اس کی شاہد ابو عنبس سعید بن کثیر کی درج ذیل حدیث ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1347]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1347 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح، حرملة بن يحيى تكلم فيه بعضهم، إلا أنه أعلم الناس في ابن وهب، ويونس: هو ابن يزيد الأيلي، وابن شهاب: هو محمد بن مسلم الزهري، وأبو أمامة بن سهل بن حنيف مختلف في صحبته، والراجح أنه أدرك النبي ﷺ وليس له سماع منه ﷺ. انظر "نتائج الأفكار" لابن حجر 4/ 380، و "جلاء الأفهام" لابن القيم ص 110.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ حرملہ بن یحییٰ اگرچہ محلِ کلام ہیں مگر وہ ابن وہب کے شاگردوں میں سب سے بڑے عالم ہیں۔ ابوامامہ بن سہل کا ادراک ثابت ہے مگر سماع نہیں۔
وأخرجه البيهقي 4/ 39 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (39/4) نے حاکم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطحاوي في "شرح معاني الآثار" 1/ 500، والطبراني في "مسند الشاميين" (3000) من طريق شعيب بن أبي حمزة. عن الزهري، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طحاوی اور طبرانی نے شعیب بن ابی حمزہ عن الزہری کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الشافعي في "الأم" 2/ 608 - ومن طريقه البيهقي في "الكبرى" 4/ 39، وفي "الصغرى" (1080) و (1081)، وفي "معرفة السنن والآثار" (7601) و (7602) عن مطرف بن مازن، عن معمر، وأخرجه النسائي (2127) و (2128) من طريق الليث بن سعد، كلاهما عن الزهري، به. إلّا أنَّ مطرفًا جعل الإسناد الثاني من حديث الضحاك بن قيس، لم يذكر فيه حبيب بن مسلمة، أما الليث فجعل الإسناد الأول من حديث أبي أمامة بن سهل، لم يذكر فيه رجلًا من أصحاب النبي ﷺ.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام شافعی نے "الام" میں معمر عن الزہری کے طریق سے اور نسائی (2127) نے لیث بن سعد کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرج حديث أبي أمامة وحده ابن المنذر في "الأوسط" (3158) عن ابن عبد الحكم، عن ابن وهب، به إلى رجال من أصحاب رسول الله ﷺ: أنه يسلِّم تسليمًا خفيًّا حين ينصرف، والسنة أن يفعل مَن وراءه ما فعل إمامُه.¤ ¤ وأخرج حديث أبي أمامة وحده أيضًا، لكن دون ذكر رجلٍ من أصحاب النبي ﷺ: عبد الرزاق (6428) - ومن طريقه ابن الجارود (540)، وابن المنذر (3137) وأخرجه ابن أبي شيبة 3/ 296 عن عبد الأعلى، كلاهما (عبد الرزاق وعبد الأعلى) عن معمر، عن الزهري، به.
📖 حوالہ / مصدر: ابن المنذر نے روایت کیا کہ سنت یہ ہے کہ امام نماز سے فارغ ہو کر آہستہ سے سلام پھیرے اور مقتدی بھی ویسا ہی کریں۔ عبدالرزاق اور ابن ابی شیبہ کی روایات میں بھی یہی مفہوم ہے۔
قوله: ويُخلِص الصلاةَ في التكبيرات الثلاث، أي: يُخلِص بالدعاء للميت في هذه التكبيرات، وهي بقية التكبيرات الأربع.
📝 (توضیح): "پہلی تکبیر کے بعد قرات اور بقیہ تین تکبیرات میں میت کے لیے خالص دعا کی جائے"؛ یہ کل چار تکبیرات بنتی ہیں۔