المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
88. من يتعاظم فى نفسه ويختال فى مشيته إلا لقي الله وهو عليه غضبان
جو اپنے آپ کو بڑا سمجھے اور اکڑ کر چلے وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہو گا
حدیث نمبر: 202
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق البَصري بمصر، حدثنا عمر بن يونس بن القاسم اليَمَامي، حدثني أبي، أنَّ عِكْرمة بن خالد ابن سعيد بن العاص المخزومي حدَّثه: أنه لَقِيَ عبد الله بن عمر بن الخطَّاب فقال له: يا أبا عبد الرحمن، إنَّا بنو المغيرة قومٌ فينا نَخْوةٌ، فهل سمعت رسول الله ﷺ يقول في ذلك شيئًا؟ فقال عبد الله بن عمر: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"ما من رجلٍ يَتعاظَمُ في نفسه ويختالُ في مشيتِه، إلّا لَقِيَ الله وهو عليه غضبانُ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين (3) ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 201 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين (3) ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 201 - على شرط مسلم
عکرمہ بن خالد بن سعید بن عاص مخزومی سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے ملاقات کی اور ان سے عرض کیا: اے ابو عبدالرحمن! ہم بنو مغیرہ ایک ایسی قوم ہیں جس میں (خاندانی) فخر اور بڑائی کا مادہ پایا جاتا ہے، تو کیا آپ نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص بھی اپنے دل میں خود کو بڑا سمجھے گا اور اپنی چال ڈھال میں تکبر و فخر اختیار کرے گا، وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر سخت غضبناک ہو گا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرائط کے مطابق صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 202]
یہ حدیث شیخین کی شرائط کے مطابق صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 202]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 202 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 10/ (5995) عن يحيى بن إسحاق السَّيلَحيني، عن يونس بن القاسم، بهذا الإسناد - بالمرفوع دون القصة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (10/5995) میں یونس بن القاسم کی سند سے مرفوعاً روایت کیا ہے، مگر اس میں قصہ مذکور نہیں ہے۔
(3) لفظ "الشيخين" سقط من النسخ الخطية، وأثبتناه من المطبوع و"إتحاف المهرة" للحافظ ابن حجر (10045)، وفي "تلخيص" الذهبي: شرط مسلم.
🔍 فنی نکتہ: لفظ "الشیخین" (بخاری و مسلم) خطی نسخوں سے گر گیا ہے جسے مطبوعہ اور ابن حجر کی کتاب سے ثابت کیا گیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: امام ذہبی کے نزدیک یہ روایت صرف "امام مسلم کی شرط" پر ہے۔