🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. ما من عبد ينفق من كل مال له زوجين فى سبيل الله إلا استقبلته حجبة الجنة
مَا مِنْ عَبْدٍ يُنْفِقُ مِنْ كُلِّ مَالٍ لَهُ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا اسْتَقْبَلَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2470
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن أحمد بن عَتَّاب العَبْدي ببغداد، حدثنا أبو بكر محمد بن أبي العَوّام الرِّيَاحي، حدثنا قُريش بن أنس، حدثنا أشعث بن عبد الملك، عن الحسن. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه - واللفظ له - حدثنا أبو المثنَّى معاذ بن المثنى العَنْبَري، حدثنا مُسدَّد، حدثنا بشر بن المفضَّل، حدثنا يونس، عن الحسن، عن صَعْصَعة بن معاوية، قال: قلتُ لأبي ذَرٍّ: ما مالُكَ؟ قال: لي عَمَلي، لي عَمَلي، قال: قلتُ: حَدِّثني، قال: نعم، قال النبي ﷺ:"ما من عبدٍ يُنفِقُ من كلِّ مالٍ له زَوجَين في سبيلِ الله، إلا استَقبَلَتْه حَجَبةُ الجنةِ، كلُّهم يَدعُوه إلى ما عندَه". قال: قلتُ: وكيف ذاك؟ قال: إن كان رِجالًا فرجُلَين، وإن كان إبلًا فبَعِيرَين، وإن كان بقرًا فبقرتَين (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، وصَعْصَعة بن معاوية من مَفَاخِر العرب، وقد رواه أصحابُ الحسن عنه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2439 - صحيح
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، صعصعہ بن معاویہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ کا مال کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: میرا مال میرا عمل ہے، میرا مال میرا عمل ہے، میں نے کہا: مجھے کوئی حدیث سنائیے، انہوں نے کہا: ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی بندہ اللہ کی راہ میں اپنے ہر قسم کے مال میں سے جوڑا (دو چیزیں) خرچ کرتا ہے تو جنت کے دربان اسے لینے کے لیے آگے بڑھتے ہیں اور ہر کوئی اسے اپنی طرف بلاتا ہے، میں نے پوچھا: وہ کیسے؟ فرمایا: اگر غلام ہوں تو دو، اگر اونٹ ہوں تو دو، اور اگر گائیں ہوں تو دو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور صعصعہ بن معاویہ عرب کے مایہ ناز لوگوں میں سے ہیں اور حسن بصری کے اصحاب نے اسے ان سے روایت کیا ہے۔ یحییٰ بن معین کے مطابق صعصعہ بن معاویہ سیدنا ابوذر کے ساتھی اور جزی بن معاویہ کے بھائی ہیں۔ امام حاکم نے اس حدیث کے طرق جمع کیے اور حفص عمر بن جعفر بصری کے مطابق حسن کی صعصعہ سے روایت کے طرق بصریوں کے نزدیک بہترین باب ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2470]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،يونس: هو ابن عُبيد، والحسن: هو البصري.» [ترقيم الرساله 2470] [ترقيم الشركة 2453] [ترقيم العلميه 2439]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2470 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. يونس: هو ابن عُبيد، والحسن: هو البصري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ یونس سے مراد ابن عبید اور حسن سے مراد حسن بصری ہیں۔
وأخرجه النسائي (4379) عن إسماعيل بن مسعود، عن بشر بن المفضَّل، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی (4379) نے بشر بن مفضل کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 35/ (21341) عن إسماعيل ابن عُلَيَّة، عن يونس بن عبيد، به.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد (21341) نے اسے اسماعیل ابن علیہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (21358) و (21413)، وابن حبان (4645) من طريق قرة بن خالد، وابن حبان (4643) و (4644) من طريق جرير بن حازم، وأحمد (21453) من طريق هشام بن حسان، ثلاثتهم عن الحسن البصري، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور ابن حبان نے قرہ بن خالد، جریر بن حازم اور ہشام بن حسان کے طرق سے (حسن بصری سے) روایت کیا ہے۔
(2) اختلف في ضبط هذا الاسم اختلافًا كثيرًا، كما بيّنه مجدُ الدين بن الأثير في "جامع الأصول" في قسم التراجم ص 266، وصحح أنه جَزْء.
🔍 فنی نکتہ: اس نام کے تلفظ میں بہت اختلاف ہے، علامہ ابن الاثیر نے "جامع الاصول" میں تحقیق کے بعد اسے "جَزء" (جیم کے فتحہ اور زاء کے سکون کے ساتھ) صحیح قرار دیا ہے۔

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2470M1
سمعت أبا العباس محمد بن يعقوب يقول: سمعتُ العباس بن محمد الدُّورِي يقول: سمعتُ يحيى بن مَعين يقول: صعصعةُ بن معاوية هو صاحب أبي ذَرٍّ، وهو أخو جَزِي (2) بن معاوية.
میں نے ابوالعباس محمد بن یعقوب کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے عباس بن محمد دوری کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے یحییٰ بن معین کو یہ فرماتے ہوئے سنا: صعصعہ بن معاویہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے ساتھی ہیں اور وہ جزی بن معاویہ کے بھائی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2470M1]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 2470M1]

Previous Hadith

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2470M2
سمعتُ أبا حفص عمر بن جعفر البصري الحافظ غيرَ مرّةٍ يقول: ليس للبصريين بابٌ أحسنَ من طُرقِ حديثِ الحسن عن صَعْصَعة. قال الحاكم: فطلبتُ طُرقَ هذا الحديث وجمعتُه، فلما اجتمعنا في الكَرَّة الثانية ببغداد ذاكرتُه به، وأفادَني فيه ما لم يكن عندي، فحدَّثْتُ الحاكمَ أبا أحمد الحافظ ﵀ يومًا بهذه القصة، وذاكَرْتُه به، فقال لي: من حدَّث بهذا الحديث عن أبي ذرٍّ غيرُ صعصعةَ؟ فلم أحفظ.
میں نے ابوحفص عمر بن جعفر بصری حافظ کو کئی مرتبہ یہ کہتے ہوئے سنا کہ اہل بصرہ کے پاس امام حسن کی صعصعہ سے مروی حدیث کی سندوں سے بہتر اور کوئی علمی باب نہیں ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں: پس میں نے اس حدیث کی سندیں تلاش کیں اور انہیں جمع کیا، پھر جب بغداد میں ہماری دوبارہ ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے اس کا ذکر کیا اور انہوں نے مجھے اس بارے میں وہ قیمتی معلومات فراہم کیں جو پہلے میرے پاس نہیں تھیں، پھر ایک دن میں نے حاکم ابواحمد حافظ رحمہ اللہ کو یہ قصہ سنایا اور ان سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا: صعصعہ کے علاوہ اور کس نے یہ حدیث سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے؟ تو مجھے یاد نہ رہا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2470M2]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 2470M2]

Previous Hadith

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 24702 in Urdu