المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
5. تزوجوا النساء فإنهن يأتينكم بالمال .
عورتوں سے نکاح کرو، وہ تمہارے لیے مال و رزق کا سبب بنتی ہیں
حدیث نمبر: 2712
حدثنا عليّ بن عيسى بن إبراهيم، حدثنا الحُسين بن محمد بن زياد، حدثنا أبو السائب سَلْم بن جُنَادة، حدثنا أبو أسامة، حدثنا هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ:"تَزوَّجُوا النساء، فإنهن يأتينَكُم بالمالِ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه لتفرُّد سَلْم بن جُنادة بسنده، وسَلْم ثقةٌ مأمونٌ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2679 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه لتفرُّد سَلْم بن جُنادة بسنده، وسَلْم ثقةٌ مأمونٌ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2679 - على شرط البخاري ومسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عورتوں سے شادی کرو کیونکہ یہ تمہارے پاس مال لائیں گی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ کیونکہ اس کی سند میں سالم بن جنادہ متفرد ہیں۔ اور سالم ” ثقہ “ ہیں ” مامون “ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2712]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2712 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) رجاله ثقات عن آخرهم، لكن انفرد بوصله أبو السائب سَلْم بنُ جُنادة، كما قال الحاكم، وخالفه غيره فجعلوه عن عروة مرسلًا، ورجَّحه البزار والدارقطني. على أنَّ أبا السائب نفسه قد رواه مرة أخرى مرسلًا.
⚖️ درجۂ راوی: اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ: اس روایت کو صحابی سے جوڑنے (وصل) میں ابوالسائب سلم بن جنادہ تنہا ہیں، جبکہ دیگر راویوں نے اسے عروہ سے "مرسل" روایت کیا ہے۔ امام بزار اور دارقطنی نے "مرسل" ہونے کو ہی ترجیح دی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ابوالسائب نے خود بھی اسے ایک اور موقع پر مرسل ہی روایت کیا ہے۔
وأخرجه البزار (1402 - كشف الأستار)، وابن المقرئ في "معجمه" (260)، والدارقطني في "العلل" (3834)، والخطيب في "تاريخ بغداد" 10/ 212 من طريق أبي السائب سلم بن جُنادة، بهذا الإسناد. وجاء عند الدارقطني والخطيب بإثر الرواية ما نصُّه: قال أبو السائب سَلْم بن جُنادة في موضع آخر: عن هشام عن أبيه، وليس فيه عن عائشة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بزار، ابن المقرئ، دارقطنی اور خطیب بغدادی نے ابوالسائب کی سند سے روایت کیا ہے۔ 📝 توضیح: دارقطنی اور خطیب کے ہاں صراحت ہے کہ ابوالسائب نے دوسرے مقام پر اسے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ذکر کے بغیر (یعنی مرسل) روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابنُ أبي شيبة 74/ 127 عن أبي أسامة حماد بن أسامة، وأبو داود في "المراسيل" (203) عن أبي توبة الربيع بن نافع، عن أبي أسامة، به مرسلًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ اور امام ابو داود نے اپنی کتاب "المراسیل" (203) میں ابواسامہ کے واسطے سے "مرسل" ہی روایت کیا ہے۔