🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. كتاب العتق
کتاب العتق
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2880
حدثنا بصحَّة ما ذكرتُه أبو إسحاق إبراهيم بن فِراس الفقيه، حدثنا بكر بن سَهْل الدِّمْياطي، حدثنا عبد الله بن يوسف التِّنِّيسي، حدثنا عبد الله بن سالم، حدثني إبراهيم بن أبي عَبْلة، قال: كنت جالسًا بأَرِيحا، فمَرَّ بي واثلةُ بن الأسقع متوكِّئًا على عبد الله بن الدَّيلَمي، فأجلَسه ثم جاء إليّ، فقال: عَجَبٌ ما حدثني هذا الشيخ - يعني واثلةَ - قلت: وما حدّثَك؟ قال: فحدَّثني قال: كنت جالسًا مع رسول الله ﷺ في غزوة تَبُوك، فأتاه نفرٌ من بني سُلَيم، فقالوا: يا رسول الله، إنَّ صاحبنا قد أوجَبَ، قال رسول الله ﷺ:"أعتِقُوا عنه يُعتِق اللهُ بكلِّ عُضوٍ منها عضوًا منه من النار" (2) . فصار حديثُ واثلةَ بهذه الروايات صحيحًا، على شرط الشيخين، وقد أخرج مسلم من حديث أبي هريرة لفظَه في عِتْق امرئٍ مسلمٍ امرأً مسلمًا (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2844 - صحيح
سیدنا ابراہیم بن ابی عبلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں (بیت المقدس کے ایک علاقہ) اریحاء میں بیٹھا ہوا تھا، ان کے پاس سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ، عبداللہ دیلمی رضی اللہ عنہ کے سہارے چلتے ہوئے آئے، انہوں نے ان کو بٹھا لیا پھر وہ میرے پاس آئے اور بولے اس شیخ نے مجھے بڑی عجیب حدیث سنائی ہے۔ میں نے کہا: اس نے آپ کو کیا حدیث سنائی ہے؟ اس نے کہا: یہ کہہ رہا ہے: غزوہ تبوک کے موقع پر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بیٹھا ہوا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنی سلیم کے کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھی نے واجب کر لی ہے (یعنی جہنمیوں والا کوئی کام کر لیا ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی طرف سے غلام آزاد کر دو، اللہ تعالیٰ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے اس کا عضو جہنم سے آزاد کر دے گا۔ ٭٭ ان مذکورہ روایات کے بعد واثلہ کی روایت شیخین کے معیار کے مطابق صحیح قرار پائی ہے تاہم امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے کسی مسلم کے مسلم کو آزاد کرنے کے متعلق سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے الفاظ میں ایک حدیث روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العتق/حدیث: 2880]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2880 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد فيه بكر بن سهل، وهو وإن كان ضعيفًا قد توبع.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے۔ اس سند میں "بکر بن سہل" ہیں، وہ اگرچہ ضعیف ہیں مگر ان کی متابعت کی گئی ہے۔
وأخرجه النسائي (4872) عن الربيع بن سليمان صاحب الشافعي، وابن حبان (4307) من طريق إبراهيم بن يعقوب الجُوزَجاني، كلاهما عن عبد الله بن يوسف، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (4872) نے ربیع بن سلیمان (صاحبِ شافعی) سے؛ اور ابن حبان (4307) نے ابراہیم بن یعقوب الجوزجانی کے طریق سے؛ دونوں نے عبد اللہ بن یوسف سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد تابع عبدَ الله بن سالم عليه مالكُ بن أنس عند الطحاوي في "شرح مشكل الآثار" (737).
🧩 متابعات و شواہد: عبد اللہ بن سالم کی متابعت "مالک بن انس" نے کی ہے جو طحاوی کے ہاں "شرح مشکل الآثار" (737) میں ہے۔
وسيأتي بعده من طريق أيوب بن سويد، عن إبراهيم بن أبي عبلة، عن عبد الأعلى بن الديلمي، عن واثلة. وأيوب ضعيف، ويغلب على الظن أنه أخطأ في تسمية ابن الديلمي، وإنما هو عبد الله. ¤ ¤ وتقدم قبله من طريق إبراهيم بن أبي عبلة، عن الغريف بن عياش بن فيروز الديلمي ابن أخي عبد الله، عن واثلة.
🧾 تفصیلِ روایت: اور یہ روایت اس کے بعد ایوب بن سوید عن ابراہیم بن ابی عبلہ عن عبد الاعلیٰ بن الدیلمی عن واثلہ کے طریق سے آئے گی۔ ایوب ضعیف ہیں، اور غالب گمان ہے کہ انہوں نے ابن الدیلمی کا نام لینے میں غلطی کی ہے، وہ دراصل "عبد اللہ" ہیں۔ اس سے پہلے ابراہیم بن ابی عبلہ عن الغریف بن عیاش (عبد اللہ کے بھتیجے) عن واثلہ کا طریق گزر چکا ہے۔
(1) أخرجه مسلم برقم (1509)، وهو أيضًا عند البخاري (2517).
📖 حوالہ / مصدر: اسے مسلم (1509) نے روایت کیا ہے، اور یہ بخاری (2517) میں بھی موجود ہے۔