🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. شَأْنُ نُزُولِ آيَةِ ( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا ) الْآيَةَ
آیت «اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راہ میں سفر کرو تو تحقیق کر لیا کرو» کے نزول کا سبب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2975
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِي بن خُزَيمة، حدثنا أحمد بن عبد الله بن يونس، حدثنا أبو بكر بن عيَّاش، عن عاصم، عن زِرٍّ، عن عبد الله قال: خَطَّ رسولُ الله ﷺ خَطًّا، وخطَّ عن يمينِ ذلك الخطِّ وعن شمالِه خطًّا، ثم قال:"هذا صِراطُ الله مستقيمًا، وهذه السُّبُلُ على كلِّ سبيلٍ منها شيطانٌ يَدعُو إليه" ثم قرأ: ﴿وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ﴾ [الأنعام: 153] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2938 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک (سیدھا) خط کھینچا، پھر اس خط کے دائیں اور بائیں جانب کچھ (ترچھے) خطوط کھینچے، پھر فرمایا: یہ اللہ کا سیدھا راستہ ہے اور یہ (متفرق) راستے ہیں جن میں سے ہر راستے پر ایک شیطان ہے جو اس کی طرف بلاتا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ﴾ [سورة الأنعام: 153] اور یہ کہ بیشک یہی میرا سیدھا راستہ ہے تو اسی کی پیروی کرو، اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے جدا کر دیں گے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 2975]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل عاصم: وهو ابن أبي النَّجود. زر: هو ابن حُبَيش.» [ترقيم الرساله 2975] [ترقيم الشركة 2956] [ترقيم العلميه 2938]

الحكم على الحديث: إسناده حسن

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2975 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل عاصم: وهو ابن أبي النَّجود. زر: هو ابن حُبَيش.
⚖️ درجۂ اسناد: عاصم (ابن ابی النجود) کی وجہ سے اس کی سند "حسن" ہے۔ زر سے مراد "ابن حبیش" ہیں۔
وأخرجه النسائي (11110) عن الفضل بن العبَّاس بن إبراهيم، عن أحمد بن يونس، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / تخریج: اسے نسائی (11110) نے فضل بن عباس بن ابراہیم عن احمد بن یونس کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ولعاصم فيه شيخ آخر، وهو أبو وائل شقيق بن سلمة، سيأتي عند المصنف برقم (3280).
📌 حوالہ: اس میں عاصم کے ایک اور شیخ "ابووائل شقیق بن سلمہ" بھی ہیں، جو مصنف کے ہاں آگے نمبر (3280) پر آئیں گے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2975 in Urdu