🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
54. تفسير آية: وحمله وفصاله ثلاثون شهرا
آیت“اس کا حمل اور اس کا دودھ چھڑانا تیس مہینے ہے”کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3145
حدثني علي بن عيسى الحِيري، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد وإبراهيم بن أبي طالب، قالا: حدثنا سعيد بن يحيى بن سعيد الأُمَوي، حدثنا حفص ابن غِيَاث، عن داود بن أبي هند، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: إذا حَمَلَته تسعةَ أشهر، أرضَعَته واحدًا وعشرين، وإذا حَمَلَته ستةَ أشهر، أرضَعَته أربعًا وعشرين، ثم قرأ: ﴿وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا﴾ [الأحقاف: 15] (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3108 - صحيح
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب عورت 9 مہینے حمل میں گزارے تو وہ بچے کو 21 مہینے دودھ پلائے اور اگر 6 مہینے حمل میں گزارے تو 24 مہینے دودھ پلائے پر آپ نے یہ آیت پڑھی: وَ حَمْلُہٗ وَ فِصَالُہٗ ثلَاثُوْنَ شَھْرًا (الاحقاف: 15) اور اسے اٹھائے پھرنا اور اس کا دودھ چھڑانا تیس مہینہ میں ہے ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3145]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3145 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه الطحاوي في "مشكل الآثار" 7/ 292 من طريق نعيم بن حماد، عن حفص بن غياث، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طحاوی نے "مشكل الآثار" 7/ 292 میں نعیم بن حماد کے طریق سے، انہوں نے حفص بن غیاث سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه الطبري في تفسيره 2/ 491، والطحاوي 7/ 291، والبيهقي 7/ 442 و 462 - 463، والضياء المقدسي في "المختارة" 11/ (397) من طرق عن داود بن أبي هند به.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی مثل طبری نے اپنی تفسیر 2/ 491 میں، طحاوی نے 7/ 291 میں، بیہقی نے 7/ 442 اور 462 - 463 میں، اور ضیاء المقدسی نے "المختارة" 11/ (397) میں داود بن ابی ہند کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔