المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
54. تَفْسِيرُ آيَةِ: وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا
آیت“اس کا حمل اور اس کا دودھ چھڑانا تیس مہینے ہے”کی تفسیر
حدیث نمبر: 3145
حدثني علي بن عيسى الحِيري، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد وإبراهيم بن أبي طالب، قالا: حدثنا سعيد بن يحيى بن سعيد الأُمَوي، حدثنا حفص ابن غِيَاث، عن داود بن أبي هند، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: إذا حَمَلَته تسعةَ أشهر، أرضَعَته واحدًا وعشرين، وإذا حَمَلَته ستةَ أشهر، أرضَعَته أربعًا وعشرين، ثم قرأ: ﴿وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا﴾ [الأحقاف: 15] (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3108 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3108 - صحيح
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب عورت 9 مہینے حمل میں گزارے تو وہ بچے کو 21 مہینے دودھ پلائے اور اگر 6 مہینے حمل میں گزارے تو 24 مہینے دودھ پلائے پر آپ نے یہ آیت پڑھی: وَ حَمْلُہٗ وَ فِصَالُہٗ ثلَاثُوْنَ شَھْرًا (الاحقاف: 15) ” اور اسے اٹھائے پھرنا اور اس کا دودھ چھڑانا تیس مہینہ میں ہے “۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3145]
حدیث نمبر: 3146
أخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا وَرْقاءُ، عن ابن أبي نجيح، عن عطاء، عن ابن عباس، قال: نَسَخَت هذه الآيةُ عِدَّتَها في أهلها، فتعتدُّ حيث شاءت، لقول الله: ﴿غَيْرَ إِخْرَاجٍ﴾ [البقرة: 240] . قال عطاء: إن شاءت اعتدَّت في أهلها، وإن شاءت خَرَجَت، لقول الله ﷿: ﴿فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ﴾ [البقرة: 240] (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه (4) !
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3109 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه (4) !
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3109 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اس آیت نے عورت کا اپنے شوہر کے گھر میں عدت گزارنے کے حکم کو منسوخ کر دیا ہے۔ اب عورت جہاں چاہے عدت گزارے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:” غیر اخراج “ عطاء کہتے ہیں: وہ اپنے شوہر کے گھر عدت گزارنا چاہے تو اس کی مرضی اور اگر وہاں سے جانا چاہے تو جا سکتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: فَاِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْ مَا فَعَلْنَ فِیْٓ اَنْفُسِھِنَّ (البقرۃ: 240) ” پھر اگر وہ خود نکل جائیں تو تم پر اس کا مؤاخذہ نہیں جو انہوں نے اپنے معاملہ میں مناسب طور پر کیا “۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3146]
حدیث نمبر: 3147
أخبرني محمد بن يزيد العدل، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا يعقوب بن إبراهيم الدَّورَقي، حدثنا إسماعيل -وهو ابن عُليَّة- عن يونس، عن ابن سِيرِين، عن ابن عبَّاس: أنه قام فخَطَبَ الناسَ هاهنا، فقرأ عليهم سورةَ البقرة ويبيِّن لهم منها، فأتى على هذه الآية: ﴿إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ﴾ [البقرة: 180] فقال: نُسِخَت هذه؛ ثم قرأ حتى أتى على هذه الآية: ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا﴾ إلى قوله: ﴿غَيْرَ إِخْرَاجٍ﴾ [البقرة: 234 - 240] فقال: وهذه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن سیرین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کھڑے ہو کر لوگوں کو یہاں پر خطبہ دیا پھر ان کو سورۃ البقرہ سنائی اور اس کے مضامین بیان کیے، جب آپ اس آیت پر پہنچے: (اِنْ تَرَکَ خَیْرَا الْوَصِیَّۃُ لِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ) (البقرۃ: 180) ” اگر کچھ مال چھوڑے تو وصیت کر جائے اپنے ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں کے لیے “۔ تو بولے: یہ آیت منسوخ ہو چکی ہے پھر پڑھتے رہے جب اس آیت پر پہنچے: (وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا (البقرۃ: 240) ” اور جو تم میں مریں اور بیبیاں چھوڑ جائیں وہ اپنی عورتوں کے لیے وصیت کر جائیں “۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3147]
حدیث نمبر: 3148
حدثني علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا بِشْر بن موسى حدثنا عبد الله بن الزُّبير الحُميدي، حدثنا سفيان بن عُيينة، عن ابن جُرَيج، عن عطاء، عن ابن عبَّاس: ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا﴾ لم يقل: يَعتَدِدنَ في بيوتهنَّ، المتوفَّى عنها زوجُها تعتدُّ حيث شاءت (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3111 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3111 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ آیت پڑھی: وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْھُرٍ وَّ عَشْرًا (البقرۃ: 234) ” اور جو تم میں مریں اور بیبیاں چھوڑ جائیں وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں “۔ (اور فرمایا) اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا: کہ اس گھر میں عدت گزاریں جس میں ان کے شوہر کا انتقال ہوا ہے بلکہ وہ جہاں چاہے عدت گزارے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3148]
حدیث نمبر: 3149
أخبرني مُكرَم بن أحمد القاضي، حدثنا يحيى بن جعفر بن الزِّبرِقان، حدثنا أبو [أحمد بن الزُّبيري] (1) حدثنا فُضَيل بن مرزوق، حدثني شَقِيق بن عُقْبة العَبْدي، حدثني البَرَاء بن عازب قال: نزلت (حافِظُوا على الصَّلَواتِ وصلاة العصرِ) فقرأناها على عهد رسول الله ﷺ ما شاء أن نقرأها، ثم إنَّ الله نَسَخَها فأنزل: ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى﴾ [البقرة:238] ، فقال له رجل: أهي صلاةُ العصر؟ فقال: قد خبَّرتُك كيف نَزَلَت وكيف نَسَخَها الله، والله أعلم (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3112 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3112 - على شرط مسلم
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی (البقرۃ: 238) ” نگہبانی کرو سب نمازوں اور بیچ کی نماز کی (اور عصر کی نماز کی) “۔ (اسی آیت میں) ” وَصَلَاۃُ الْعَصْر “ (کے الفاظ بھی ہیں) پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اسی طرح یہ آیت پڑھتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو منسوخ کر کے یہ آیت نازل کی: حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی (البقرۃ: 238) ” نگہبانی کرو سب نمازوں اور بیچ کی نماز کی “۔ آپ سے ایک شخص نے پوچھا: کیا یہ نماز عصر ہے؟ تو آپ بولے: میں نے تمہیں بتا دیا ہے کہ یہ آیت کیسے نازل ہوئی اور کیسے منسوخ ہوئی۔ واللہ اعلم۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3149]