🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. من صلى فى قباء كان كعدل عمرة
مسجدِ قباء میں نماز پڑھنا ایک عمرہ کے برابر ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4327
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا هشام بن علي السَّدُوسِي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سلمة، عن ثابت، عن أنس، قال: شهدت يومَ دخل النبي ﷺ المدينة، فلم أر يومًا أحسن ولا أضوأ منه (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4281 - على شرط مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، میں نے آج تک اس سے زیادہ روشن اور چمکدار دن نہیں دیکھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الهجرة/حدیث: 4327]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4327 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. ثابت: هو ابن أسلم البناني.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ثابت سے مراد "ابن اسلم البنانی" ہیں۔
وأخرجه أحمد 19 / (12234) و 21 / (13522) و (14063) من طرق عن حماد بن سلمة، به. وأخرجه أحمد 21 / (13312) و (13830)، وابن ماجه (1631)، والترمذي (3618)، وابن حبان (6634) من طريق جعفر بن سليمان الضُّبَعي، عن ثابت، عن أنس، قال: لما كان اليوم الذي قدم فيه رسول الله ﷺ المدينة أضاء منها كل شيء.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (19/ 12234، 21/ 13522 اور 14063) نے حماد بن سلمہ کے واسطے سے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔ نیز امام احمد (21/ 13312 اور 13830)، ابن ماجہ (1631)، ترمذی (3618) اور ابن حبان (6634) نے جعفر بن سلیمان الضبعی عن ثابت عن انس کے طریق سے روایت کیا ہے کہ: "جس دن رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو مدینہ کی ہر چیز روشن ہوگئی۔"