المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
12. من صلى فى قباء كان كعدل عمرة
مسجدِ قباء میں نماز پڑھنا ایک عمرہ کے برابر ہے
حدیث نمبر: 4328
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن البراء، عن أبي بكر الصِّدِّيق، قال: ومَضَى رسول الله ﷺ حتى قدم المدينة، وخرج الناس حتى دخلنا في الطريق، وصاح النساء والخُدّام والغلمان: جاء محمدٌ، جاء رسول الله، الله أكبر، جاء محمدٌ، جاء رسول الله، فلما أصبحَ انطلق فنزل حيثُ أُمر (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4282 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4282 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے، حتی کہ آپ مدینہ منورہ پہنچ گئے تو لوگ (اپنے گھروں سے) باہر نکل آئے، حتیٰ کہ ہم گلی میں داخل ہوئے تو عورتیں، خدام اور بچے زور زور سے یہ کہہ رہے تھے ” اللہ اکبر! سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں۔ سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں، جب صبح ہوئی تو آپ چل پڑے حتیٰ کہ جہاں (اللہ کی طرف سے) حکم ہوا وہاں آپ نے قیام کیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الهجرة/حدیث: 4328]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4328 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. إسرائيل: هو ابن يونس بن أبي إسحاق السبيعي، وأبو إسحاق هو جدُّ إسرائيل، واسمه عمرو بن عبد الله السبيعي، والبراء: هو ابن عازب.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اسرائیل سے مراد "ابن یونس بن ابی اسحاق السبیعی" ہیں، اور ابو اسحاق اسرائیل کے دادا ہیں جن کا نام "عمرو بن عبداللہ السبیعی" ہے، اور براء سے مراد "ابن عازب" ہیں۔
وأخرجه أحمد 1 / (3)، ومسلم (3014) (75)، وابن حبان (6281) و (6870) من طرق عن إسرائيل، به. ضمن حديث أبي بكر الصديق في قصة الهجرة وسأله عنها عازب والد البراء، فحدثهما بها أبو بكر، واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (1/ 3)، مسلم (3014/ 75) اور ابن حبان (6281 اور 6870) نے اسرائیل کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: یہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی حدیث کے ضمن میں ہے جس میں ہجرت کا قصہ ہے، ان سے براء کے والد عازب نے اس بارے میں پوچھا تھا تو ابوبکرؓ نے انہیں یہ بیان کیا تھا۔ 📝 نوٹ: حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کا "ذہول" (بھول) ہے۔
وقد تقدم نحوه برقم (4300) من طريق إبراهيم بن طهمان عن شُعْبة، من حديث البراء لم يذكر فيه أبا بكر، وقد كان البراء صبيًا لدى مقدم رسول الله ﷺ المدينة، فالظاهر أن يكون البراء حضر ذلك في جملة الصبيان والنساء والخُدّام، وسمع الخبر أيضًا من أبي بكر الصديق!
📝 نوٹ / توضیح: اس طرح کی روایت پہلے (رقم 4300) پر ابراہیم بن طہمان عن شعبہ کے طریق سے براء کی حدیث سے گزر چکی ہے، جس میں انہوں نے ابوبکرؓ کا ذکر نہیں کیا۔ براء رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی مدینہ آمد کے وقت بچے تھے، لہٰذا ظاہر یہی ہے کہ براء بچوں، عورتوں اور خدام کے ساتھ وہاں موجود تھے (اور خود دیکھا)، اور یہ خبر (باقی تفصیلات) انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے بھی سنی!