🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. مَنْ صَلَّى فِي قُبَاءَ كَانَ كَعَدْلِ عُمْرَةٍ
مسجدِ قباء میں نماز پڑھنا ایک عمرہ کے برابر ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4325
أخبرنا أبو الحسين محمد بن أحمد القَنْطَري ببغداد وعبد الله بن الحُسين القاضي بِمَرُو، قالا: حدثنا الحارث بن أبي أُسامة، حدثنا محمد بن عيسى بن الطَّبَّاع، حدثنا مُجمِّع بن يعقوب، حدثني محمد بن سليمان الحزامي، قال: سمعتُ أبا أُمامة بن سَهْل بن حُنَيْف يُحدِّث عن أبيه، قال: قال النبي ﷺ:"مَن خَرَجَ حتى يأتي هذا المسجد - يعني مسجد قباءٍ - فيصلِّي فيه، كانت كعَدْلِ عُمْرةٍ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4279 - صحيح
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جس نے اس مسجد میں (راوی کہتے ہیں یعنی مسجد قباء میں) آ کر نماز پڑھی اس کو عمرہ کے برابر ثواب ملتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْهِجْرَةِ/حدیث: 4325]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4326
أخبرنا أحمد بن محمد العنزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا علي بن عبد الله المديني، حدثنا حماد بن أسامة، حدثنا هاشم بن هاشم، قال: سمعتُ عامر بن سعد وعائشة بنت سعد، يقولان: سمعنا سعدًا يقول: لأن أصلّي في مسجد قباءٍ أحبُّ إليَّ من أن أُصلِّيَ في مَسجدِ بيتِ المَقدِس (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4280 - على شرط البخاري ومسلم
عامر بن سعد اور عائشہ بنت سعد بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدنا سعد کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے: بیت المقدس میں نماز ادا کرنے کے مقابلے میں، مسجد قبا میں نماز ادا کرنا میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث شیخین کی شرط کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْهِجْرَةِ/حدیث: 4326]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4327
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا هشام بن علي السَّدُوسِي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سلمة، عن ثابت، عن أنس، قال: شهدت يومَ دخل النبي ﷺ المدينة، فلم أر يومًا أحسن ولا أضوأ منه (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4281 - على شرط مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، میں نے آج تک اس سے زیادہ روشن اور چمکدار دن نہیں دیکھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْهِجْرَةِ/حدیث: 4327]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4328
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن البراء، عن أبي بكر الصِّدِّيق، قال: ومَضَى رسول الله ﷺ حتى قدم المدينة، وخرج الناس حتى دخلنا في الطريق، وصاح النساء والخُدّام والغلمان: جاء محمدٌ، جاء رسول الله، الله أكبر، جاء محمدٌ، جاء رسول الله، فلما أصبحَ انطلق فنزل حيثُ أُمر (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4282 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے، حتی کہ آپ مدینہ منورہ پہنچ گئے تو لوگ (اپنے گھروں سے) باہر نکل آئے، حتیٰ کہ ہم گلی میں داخل ہوئے تو عورتیں، خدام اور بچے زور زور سے یہ کہہ رہے تھے اللہ اکبر! سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں۔ سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں، جب صبح ہوئی تو آپ چل پڑے حتیٰ کہ جہاں (اللہ کی طرف سے) حکم ہوا وہاں آپ نے قیام کیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْهِجْرَةِ/حدیث: 4328]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4329
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل، حدثنا هَوْذة بن خليفة، حدثنا عوف بن أبي جَمِيلة، عن زُرَارة بن أَوفَى، عن عبد الله بن سَلَام، قال: لما وَرَدَ رسول الله ﷺ المدينةَ انْجفَلَ الناسُ إليه، وقيل: قدم رسول الله ﷺ، قال: فجئتُ في الناس لأنظُر، فلما تبيَّنْتُ وجهَه عرفتُ أنَّ وجهَه ليس بوجْهِ كذَّاب، وكان أول شيءٍ سمعته يتكلّم أن قال:"يا أيُّها الناسُ، أفشوا السلام، وأطعِمُوا الطعام، وصِلوا الأرحام، وصَلُّوا والناسُ نِيامٌ، تدخُلُوا الجنة بسلامٍ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4283 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ تیزی کے ساتھ آپ کی طرف بھاگے اور (مجھے) بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا چکے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں: میں بھی لوگوں کے ہمراہ آپ کی زیارت کے لیے چل پڑا، جب میں نے آپ کے چہرہ انور کو دیکھا تو میں جان گیا کہ یہ چہرہ جھوٹے آدمی کا نہیں ہو سکتا۔ میں نے آپ کی سب سے پہلی گفتگو جو سنی وہ یہ تھی اے لوگو! سلام عام کرو، (بھوکوں کو) کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو، اور اس وقت نماز پڑھو جب لوگ سو رہے ہوں، تو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں جاؤ گے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے، لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْهِجْرَةِ/حدیث: 4329]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں