🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. بدء تاريخ الإسلام من هجرة النبى إلى المدينة
اسلامی تاریخ کا آغاز نبی کریم ﷺ کی مدینہ کی ہجرت سے ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4331
حدثنا أبو الحُسين محمد بن أحمد الخياط ببغداد، حدثنا عبيد بن شريك البَزّار، حدثنا أبو معمَر، حدثنا عبد العزيز بن أبي حازم، عن أبيه سهل بن سعد، قال: أخطأ الناسُ في العَدَد، ما عَدُّوا من مبعثِه (1) ولا من وفاته، إنما عَدُّوا من مقدمه المدينة (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4285 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لوگوں نے گنتی کرنے میں غلطی کی ہے کیونکہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے گنتی نہیں کی، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری سے گنتی کی ہے۔ (یعنی سن ہجری کا آغاز ہجرت مدینہ سے ہوا ہے) ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الهجرة/حدیث: 4331]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4331 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرّف في النسخ الخطية إلى: بيعته، والتصويب من مصادر تخريج الخبر كافة.
📝 نوٹ / توضیح: (1) قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "بیعتہ" ہوگیا ہے، جبکہ درست لفظ دیگر تمام مصادرِ تخریج سے ثابت ہے۔
(2) خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أبي الحسين محمد بن أحمد الخياط - وهو ابن تميم القَنْطَري - وقد توبع. أبو معمر: هو إسماعيل بن إبراهيم القطيعي، وأبو حازم: هو سلمة بن دينار المدني.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ خبر صحیح ہے اور یہ سند "ابو الحسین محمد بن احمد الخیاط" (ابن تمیم القنطری) کی وجہ سے حسن ہے، اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: ابو معمر سے مراد "اسماعیل بن ابراہیم القطیعی" ہیں اور ابو حازم سے مراد "سلمہ بن دینار المدنی" ہیں۔
وأخرجه البخاري (3934) عن عبد الله بن مسلمة، عن عبد العزيز بن أبي حازم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری (3934) نے عبداللہ بن مسلمہ عن عبدالعزیز بن ابی حازم کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
لكنه لم يقل في روايته: أخطأ الناس في العدد.
🧾 تفصیلِ روایت: لیکن انہوں نے اپنی روایت میں یہ نہیں کہا کہ "لوگوں نے گنتی میں غلطی کی"۔
قال الحافظ ابن حجر في "الفتح" 11/ 511: المراد بقوله: أخطأ الناس العدد، أي: أغفَلُوه وتركوه، ثم استدركوه، ولم يُرد أنَّ الصواب خلاف ما عملوا، ويحتمل أن يُريده، وكان يرى أنَّ البِداءة من المبعث أو الوفاة أولى، وله اتجاه، لكن الراجح خلافه، والله أعلم.
📝 نوٹ / توضیح: حافظ ابن حجر نے "الفتح" (11/ 511) میں فرمایا: "ان کے قول 'لوگوں نے گنتی میں غلطی کی' کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس سے غافل ہوگئے اور اسے چھوڑ دیا، پھر اسے (بعد میں) یاد کیا۔ یہ مطلب نہیں کہ جو انہوں نے عمل کیا (ہجرت سے تاریخ کا آغاز) وہ غلط تھا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ ان کی مراد یہی ہو، اور وہ یہ سمجھتے ہوں کہ تاریخ کی ابتدا بعثت یا وفات سے کرنا زیادہ بہتر تھا، اور اس رائے کی بھی ایک توجیہ ہے، لیکن راجح اس کے خلاف ہے۔ واللہ اعلم۔"